(Bal-e-Jibril-132) (دین و سیاست) Deen-o-Siasat

دین وسیاست

کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
سماتی کہاں اس فقیری میں میری
رہبانيت: تارک دنیا۔
خصومت تھی سلطانی و راہبی میں
کہ وہ سربلندی ہے یہ سربزیری
خصومت: دشمنی۔
سربزيري: سر نیچے رکھنا، سرنگونی۔
سیاست نے مذہب سے پیچھا چھٹرایا
چلی کچھ نہ پیر کلیسا کی پیری

ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
ہوس کی امیری، ہوس کی وزیری

دوئی ملک و دیں کے لیے نامرادی
دوئی چشم تہذیب کی نابصیری
نابصيري: اندھا پن۔
یہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا
بشیری ہے آئینہ دار نذیری!
بشيري: خوشخبری دینا۔
نذيري: ڈرانے کی اہلیت۔
اسی میں حفاظت ہے انسانیت کی
کہ ہوں ایک جنےدی و اردشیری
جنيدي و اردشيري: مراد ہے دین داری اور بادشاہت۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: