(Bal-e-Jibril-137) (ساقی نامہ) Saqi Nama

ساقی نامہ

ہوا خیمہ زن کاروان بہار
ارم بن گیا دامن کوہسار

گل و نرگس و سوسن و نسترن
شہید ازل لالہ خونیں کفن
سوسن:چنبیلی۔
جہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میں
لہو کی ہے گردش رگ سنگ میں

فضا نیلی نیلی، ہوا میں سرور
ٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیور
طيور:پرندے۔
وہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئی
اٹکتی، لچکتی، سرکتی ہوئی
جوئے کہستاں: پہاڑی ندی۔
اچھلتی، پھسلتی، سنبھلتی ہوئی
بڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی

رکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہ
پہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہ
سل : پتھر، چٹان۔
ذرا دیکھ اے ساقی لالہ فام
سناتی ہے یہ زندگی کا پیام

پلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوز
کہ آتی نہیں فصل گل روز روز

وہ مے جس سے روشن ضمیر حیات
وہ مے جس سے ہے مستی کائنات

وہ مے جس میں ہے سوزوساز ازل
وہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازل

اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے

زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے

ہوا اس طرح فاش راز فرنگ
کہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ

پرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے

گیا دور سرمایہ داری گیا
تماشا دکھا کر مداری گیا

گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے

دل طور سینا و فاراں دو نیم
تجلی کا پھر منتظر ہے کلیم

مسلماں ہے توحید میں گرم جوش
مگر دل ابھی تک ہے زنار پوش

تمدن، تصوف، شریعت، کلام
بتان عجم کے پجاری تمام

حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی

لبھاتا ہے دل کو کلام خطیب
مگر لذت شوق سے بے نصیب

بیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوا
لغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا

وہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مرد
محبت میں یکتا، حمیت میں فرد

عجم کے خیالات میں کھو گیا
یہ سالک مقامات میں کھو گیا

بجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے

شراب کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا!

مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا
مری خاک جگنو بنا کر اڑا

خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

ہری شاخ ملت ترے نم سے ہے
نفس اس بدن میں ترے دم سے ہے

تڑپنے پھٹرکنے کی توفیق دے
دل مرتضی، سوز صدیق دے

جگر سے وہی تیر پھر پار کر
تمنا کو سینوں میں بیدار کر

ترے آسمانوں کے تاروں کی خیر
زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر
شب زندہ داروں:عبادت گذار۔
جوانوں کو سوز جگر بخش دے
مرا عشق، میری نظر بخش دے

مری ناو گرداب سے پار کر
یہ ثابت ہے تو اس کو سیار کر
ثابت:رکی ہوئی، ساکن۔
ناؤ:کشتی۔
سيار:متحرک۔
بتا مجھ کو اسرار مرگ و حیات
کہ تیری نگاہوں میں ہے کائنات

مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاں
مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں

مرے نالۂ نیم شب کا نیاز
مری خلوت و انجمن کا گداز

امنگیں مری، آرزوئیں مری
امیدیں مری، جستجوئیں مری

مری فطرت آئینۂ روزگار
غزالان افکار کا مرغزار

مرا دل، مری رزم گاہ حیات
گمانوں کے لشکر، یقیں کا ثبات
رزم گاہ: میدان جنگ۔
یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر
اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

مرے قافلے میں لٹا دے اسے
لٹا دے، ٹھکانے لگا دے اسے

دما دم رواں ہے یم زندگی
ہر اک شے سے پیدا رم زندگی

اسی سے ہوئی ہے بدن کی نمود
کہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دود

گراں گرچہ ہے صحبت آب و گل
خوش آئی اسے محنت آب و گل

یہ ثابت بھی ہے اور سیار بھی
عناصر کے پھندوں سے بیزار بھی

یہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیر
مگر ہر کہیں بے چگوں، بے نظیر

یہ عالم، یہ بت خانۂ شش جہات
اسی نے تراشا ہے یہ سومنات

پسند اس کو تکرار کی خو نہیں
کہ تو میں نہیں، اور میں تو نہیں

من و تو سے ہے انجمن آفرین
مگر عین محفل میں خلوت نشیں

چمک اس کی بجلی میں تارے میں ہے
یہ چاندی میں، سونے میں، پارے میں ہے

اسی کے بیاباں، اسی کے ببول
اسی کے ہیں کانٹے، اسی کے ہیں پھول

کہیں اس کی طاقت سے کہسار چور
کہیں اس کے پھندے میں جبریل و حور

کہیں جرہ شاہین سیماب رنگ
لہو سے چکوروں کے آلودہ چنگ
چنگ: پنجے۔
کبوتر کہیں آشیانے سے دور
پھڑکتا ہوا جال میں ناصبور
ناصبور: انتہائی بیتاب۔
فریب نظر ہے سکون و ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرئہ کائنات

ٹھہرتا نہیں کاروان وجود
کہ ہر لحظہ ہے تازہ شان وجود

سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی

بہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلند
سفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسند

سفر زندگی کے لیے برگ و ساز
سفر ہے حقیقت، حضر ہے مجاز
حضر: سفر کے بر عکس، ساکن۔
الجھ کر سلجھنے میں لذت اسے
تڑپنے پھٹرکنے میں راحت اسے

ہوا جب اسے سامنا موت کا
کٹھن تھا بڑا تھامنا موت کا

اتر کر جہان مکافات میں
رہی زندگی موت کی گھات میں

مذاق دوئی سے بنی زوج زوج
اٹھی دشت و کہسار سے فوج فوج
زوج زوج: جوڑا جوڑا۔
گل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہے
اسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہے

سمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثبات
ابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیات

بڑی تیز جولاں، بڑی زورد رس
ازل سے ابد تک رم یک نفس
تيز جولاں: تیز چلنے والی
زود رس: جلد پہنچنے والی۔
زمانہ کہ زنجیر ایام ہے
دموں کے الٹ پھیر کا نام ہے

یہ موج نفس کیا ہے تلوار ہے
خودی کیا ہے، تلوار کی دھار ہے

خودی کیا ہے، راز درون حیات
خودی کیا ہے، بیداری کائنات

خودی جلوہ بدمست و خلوت پسند
سمندر ہے اک بوند پانی میں بند

اندھیرے اجالے میں ہے تابناک
من و تو میں پیدا، من و تو سے پاک

ازل اس کے پیچھے، ابد سامنے
نہ حد اس کے پیچھے، نہ حد سامنے

زمانے کے دریا میں بہتی ہوئی
ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی

تجسس کی راہیں بدلتی ہوئی
وما دم نگاہیں بدلتی ہوئی

سبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراں
پہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواں

سفر اس کا انجام و آغاز ہے
یہی اس کی تقویم کا راز ہے
تقويم: ثبات، مضبوطی ، استحکام۔
کرن چاند میں ہے، شرر سنگ میں
یہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میں

اسے واسطہ کیا کم و بیش سے
نشب و فراز وپس و پیش سے

ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر
ہوئی خاک آدم میں صورت پذیر

خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے

خودی کے نگہباں کو ہے زہر ناب
وہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آب

وہی ناں ہے اس کے لیے ارجمند
رہے جس سے دنیا میں گردن بلند

فرو فال محمود سے درگزر
خودی کو نگہ رکھ، ایازی نہ کر
فرو فال: شان و شوکت۔
وہی سجدہ ہے لائق اہتمام
کہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرام

یہ عالم، یہ ہنگامۂ رنگ و صوت
یہ عالم کہ ہے زیر فرمان موت

یہ عالم، یہ بت خانۂ چشم و گوش
جہاں زندگی ہے فقط خورد و نوش

خودی کی یہ ہے منزل اولیں
مسافر! یہ تیرا نشیمن نہیں

تری آگ اس خاک داں سے نہیں
جہاں تجھ سے ہے، تو جہاں سے نہیں
خاک داں:مٹی کا گھر ، مراد ہے یہ دنیا۔
بڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کر
طلسم زمان و مکاں توڑ کر

خودی شیر مولا، جہاں اس کا صید
زمیں اس کی صید، آسماں اس کا صید

جہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمود
کہ خالی نہیں ہے ضمیر وجود

ہر اک منتظر تیری یلغار کا
تری شوخی فکر و کردار کا

یہ ہے مقصد گردش روزگار
کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار

تو ہے فاتح عالم خوب و زشت
تجھے کیا بتاوں تری سرنوشت

حقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگ
حقیقت ہے آئینہ، گفتار زنگ

فروزاں ہے سینے میں شمع نفس
مگر تاب گفتار کہتی ہے، بس

اگر یک سر موے برتر پرم
فروغ تجلی بسوزدپرم
اگر میری اڑان مقررہ حد سے بال برابر بھی اونچی ہو جائے تو نور مطلق کی آتشیں تجلّی میرے بال و پر جلا کر خاک کر دے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: