(Bal-e-Jibril-138) (زمانہ) Zamana

زمانہ

محرمانہ قریب تر ہے نمود جس کی، اسی کا مشتاق ہے زمانہ
جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرف

مری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
میں اپنی تسبیح روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ

ہر ایک سے آشنا ہوں، لیکن جدا جدا رسم و راہ میری
کسی کا راکب، کسی کا مرکب، کسی کو عبرت کا تازیانہ

نہ تھا اگر تو شریک محفل، قصور میرا ہے یا کہ تیرا
مرا طریقہ نہیں کہ رکھ لوں کسی کی خاطر مےء شبانہ

مرے خم و پیچ کو نجومی کی آنکھ پہچانتی نہیں ہے
ہدف سے بیگانہ تیرا اس کا، نظر نہیں جس کی عارفانہ

شفق نہیں مغربی افق پر یہ جوئے خوں ہے، یہ جوئے خوں ہے!
طلوع فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ

وہ فکر گستاخ جس نے عریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اس کی بیتاب بجلیوں سے خطر میں ہے اس کا آشیانہ

ہوائیں ان کی، فضائیں ان کی، سمندر ان کے، جہاز ان کے
گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر، بھنور ہے تقدیر کا بہانہ

جہان نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالم پیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ

ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: