(Bal-e-Jibril-139) (فرشتےآدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں) Farishtay Adam Ko Jannat Se Rukhsat Kartay Hain

فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں

عطا ہوئی ہے تجھے روزوشب کی بیتابی
خبر نہیں کہ تو خاکی ہے یا کہ سیمابی

سنا ہے، خاک سے تیری نمود ہے، لیکن
تری سرشت میں ہے کوکبی و مہ تابی
کوکبي و مہ تابي: ستاروں اور پورے چاند کی طرح روشن ہونا۔
جمال اپنا اگر خواب میں بھی تو دیکھے
ہزار ہوش سے خوشتر تری شکر خوابی
شکر خوابي: میٹھی نیند۔
گراں بہا ہے ترا گریہء سحر گاہی
اسی سے ہے ترے نخل کہن کی شادابی

تری نوا سے ہے بے پردہ زندگی کا ضمیر
کہ تیرے ساز کی فطرت نے کی ہے مضرابی

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: