(Bal-e-Jibril-141) (پیر و مرید) Peer-o-Mureed

پیرو مرید

مرید ہندی
چشم بینا سے ہے جاری جوئے خوں
علم حاضر سے ہے دیں زار و زبوں!
جوئے خوں: خون کا بہنا۔
پیررومی
علم را بر تن زنی مارے بود
علم را بر دل زنی یارے بود
گر تو علم کو محض جسمانی پرورش تک محدود رکھے گا تو وہ سانپ بن کر ڈس لے گا ؛ اگر تو علم کی وساطت سے باطن کو آراستہ کرے گا تو پھر وہ تیرا رفیق و مددگار ثابت ہو گا۔
مرید ہندی
اے امام عاشقان دردمند!
یاد ہے مجھ کو ترا حرف بلند

خشک مغز و خشک تار و خشک پوست
از کجا می آید ایں آواز دوست،
ساز کا مغز خشک ہوتا ہے، اس کے تار اور ڈھانچہ سب خشک ہوتے ہیں پھر اس میں سے وہ نغمے کیسے برآمد ہوتے ہیں (جو محبوب حقیقی کی یاد تازہ کرتے ہیں)؟
دور حاضر مست چنگ و بے سرور
بے ثبات و بے یقین و بے حضور
مست چنگ و بے سرور: ساز کی آواز پر مست مگر بے سرور۔
کیا خبر اس کو کہ ہے یہ راز کیا
دوست کیا ہے، دوست کی آواز کیا

آہ، یورپ با فروغ و تاب ناک
نغمہ اس کو کھینچتا ہے سوئے خاک

پیررومی
بر سماع راست ہر کس چیر نیست
طعمہء ہر مرغکے انجیر نیست
جس طرح انجیر ہر پرندے کی مرغوب غذا نہیں، اسی طرح موسیقی کا معاملہ ہے، اس سے لطف وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو حقیقی ذوق کا مالک ہو۔
مرید ہندی
پڑھ لیے میں نے علوم شرق و غرب
روح میں باقی ہے اب تک درد و کرب

پیررومی
دست ہر نا اہل بیمارت کند
سوئے مادر آکہ تیمارت کند
طبیب ہو یا تیماردار، ہر نا اہل شخص کا ہاتھ تجھے بیمار کر دے گا۔ ممتا یہی ہے جو حقیقی تیمارداری کی اہل ہے ، اسی کی جانب متوجہ ہو۔
مرید ہندی
اے نگہ تیری مرے دل کی کشاد
کھول مجھ پر نکتہء حکم جہاد

پیررومی
نقش حق را ہم بہ امر حق شکن
بر زجاج دوست سنگ دوست زن
(جہاد کی تعریف یہ ہے کہ) خدا کے بنائے ہؤے نقش کو اسی کے حکم کے مطابق مٹا دیا جائے۔ دوست کے آئنیے پر اسی کے دئیے ہؤے پتھر سے وار کیا جائے۔
مرید ہندی
ہے نگاہ خاوراں مسحور غرب
حور جنت سے ہے خوشتر حور غرب
نگاہ خاوراں مسحور غرب : مشرق کے باسیوں کی نظر مغرب کے جادو کے اثر میں۔
پیررومی
ظاہر نقرہ گر اسپید است و نو
دست و جامہ ہم سیہ گردو ازو!
چاندی بظاہر چمکیلی، سفید اور نئی لگتی ہے ، جب کہ اس کے استعمال سے ہاتھ اور کپڑے سیاہ بھی ہو جاتے ہیں۔
مرید ہندی
آہ مکتب کا جوان گرم خوں!
ساحر افرنگ کا صید زبوں!
صيد زبوں: لاچار قیدی۔
پیررومی
مرغ پر نارستہ چوں پراں شود
طعمہء ہر گربہء دراں شود
جو پرندہ ابھی ننھا سا ہو اور پروں سے بھی محروم ہو اس کے باوجود اڑنے کی کوشش کرے گا تو کوئی بھی تاک میں بیٹھی بلّی اسے یقینا دبوچ لے گی۔
مرید ہندی
تا کجا آویزش دین و وطن
جوہر جاں پر مقدم ہے بدن!
تا کجا آويزش: کب تک جنگ (جاری رہی گی)۔
پیررومی
قلب پہلو می زندہ با زر بشب
انتظار روز می دارد ذہب
رات کی تاریکی میں دیکھا جائے تو کھرے کھوٹے کی تمیز نہیں کی جا سکتی؛ سونے کی حقیقت تو شب کی تاریکی میں نہیں دن کی روشنی میں ہی معلوم ہوتی ہے۔
مرید ہندی
سر آدم سے مجھے آگاہ کر
خاک کے ذرے کو مہر و ماہ کر!
سر آدم: آدمی کا راز۔
پیررومی
ظاہرش را پشہء آرد بچرخ
باطنش آمد محیط ہفت چرخ
بظاہر انسان اس قدر کمزور ہے کہ ایک معمولی سا مچھر بھی اس کی بے بسی کا سبب بن سکتا ہے اور دم بھر کے لیے چین نہیں لینے دے گا، لیکن خدائے ذوالجلال نے باطنی سطح پر اس میں وہ صلاحیتیں پیدا کر دی ہیں کہ آسمانوں کی بلندیوں کو بھی چھو سکتا ہے۔
مرید ہندی
خاک تیرے نور سے روشن بصر
غایت آدم خبر ہے یا نظر؟

پیررومی
آدمی دید است، باقی پوست است
دید آں باشد کہ دید دوست است
انسانیت کی حقیقت محض دیدار دوست ہے ، باقی سب کچھ محض تکلّف ہے اور دیدار سے یہ مراد ہے کہ محبوب حقیقی کے جمال سے آنکھوں میں روشنی آ جائے۔
مرید ہندی
زندہ ہے مشرق تری گفتار سے
امتےں مرتی ہیں کس آزار سے؟

پیررومی
ہر ہلاک امت پیشیں کہ بود
زانکہ بر جندل گماں بردند عود
بے معنی شے اور غلط کاریوں کو حقیقت کے جوہر سے تعبیر کرنے والی قومیں کبھی زندہ نہیں رہ سکتیں اور نہ ہی ترقی کے عمل سے گزر سکتی ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ہر پتھر عود تصوّر کر لیا جائے تو یہ بصیرت کا نقص ہے۔
مرید ہندی
اب مسلماں میں نہیں وہ رنگ و بو
سرد کیونکر ہو گیا اس کا لہو؟

پیررومی
تا دل صاحبدلے نامد بہ درد
ہیچ قومے را خدا رسوا نہ کرد
اس کا سبب یہ ہے کہ اب مسلمان سچائیوں اور حق پرستی سے محروم ہو گئے اور ان اہل حق کے لیے دل شکنی اور دکھ کا سبب بن گئے ہیں جنہوں نے ان کی راہنمائی کی اور اس عمل میں بے شمار مصائب سے دو چار ہؤے۔
مرید ہندی
گرچہ بے رونق ہے بازار وجود
کون سے سودے میں ہے مردوں کا سود؟

پیررومی
زیرکی بفروش و حیرانی بخر
زیرکی ظن است و حیرانی نظر
مردان حق پر لازم ہے کہ عقل و دانش جو عملی سطح پر وہم و گمان سے ہم آہنگ ہیں انہیں لوگوں میں تقسیم کریں اور حیرانی ان کے عوض حاصل کریں جو عشق اور معرفت کی مظہر ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس سے مردان حق اس جہان ‍ عارضی میں کامران و بامراد ہو سکتے ہیں۔
مرید ہندی
ہم نفس میرے سلاطیں کے ندیم
میں فقیر بے کلاہ و بے گلیم!
گليم: گدڑی۔
نديم: ہم مجلس۔
پیررومی
بندئہ یک مرد روشن دل شوی
بہ کہ بر فرق سر شاہاں روی
شاہوں اور امرا کے درباروں میں اعزاز حاصل کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ تو کسی مردحق اور روشن ضمیر سے اکتساب فیض کرے (شاہوں کے دربار خوشامدی اور منافقوں کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔
مرید ہندی
اے شریک مستی خاصان بدر
میں نہیں سمجھا حدیث جبر و قدر!

پیررومی
بال بازاں را سوے سلطاں برد
بال زاغاں را بگورستاں برد
(شاہین اور کوّے میں بال و پر کی قدر مشترک ہے، لیکن) پر بازوں کو بادشاہوں کی طرف لے جاتے ہیں اور کوّے کو مردار گاہ کی طرف لے جاتے ہیں۔
مرید ہندی
کاروبار خسروی یا راہبی
کیا ہے آخر غایت دین نبی ؟

پیررومی
مصلحت در دین ما جنگ و شکوہ
مصلحت در دین عیسی غار و کوہ
اسلام کے مطابق نہ تو شاہی اور غیر ضروری شان و شوکت قابل قدر ہے نہ ہی یہ کہ انسان دنیا ترک کر کے پہاڑوں اور غاروں میں پناہ گزیں ہو جائے۔
مرید ہندی
کس طرح قابو میں آئے آب و گل
کس طرح بیدار ہو سینے میں دل ؟
آب و گل: پانی اور مٹی مراد ہے جسم۔
پیررومی
بندہ باش و بر زمیں رو چوں سمند
چوں جنازہ نے کہ بر گردن برند
اللہ کا بندہ بن اور زمین پر گھوڑے کی طرح چل ؛ اس طرح نہ بن جیسے اوروں نے جنازہ کندھوں پر اٹھایا ہو۔
مرید ہندی
سر دیں ادراک میں آتا نہیں
کس طرح آئے قیامت کا یقیں؟
ادراک: سمجھ، فہم۔
پیررومی
پس قیامت شو قیامت را ببیں
دیدن ہر چیز را شرط است ایں
تو خود قیامت بن جا (اپنے اندر انقلاب لے آ) اور پھر اپنے آپ کو دیکھ ، تجھے قیامت کا یقین آ جائے گا۔
مرید ہندی
آسماں میں راہ کرتی ہے خودی
صید مہر و ماہ کرتی ہے خودی
بے حضور و با فروغ و بے فراغ
اپنے نخچیروں کے ہاتھوں داغ داغ!
نخچيروں: شکاروں۔
صيد: شکاری۔
داغ داغ: پریشان حال، مصیبت زدہ۔
پیررومی
آں کہ ارزد صید را عشق است و بس
لیکن او کے گنجد اندر دام کس!
اگر شکار کے لائق کائنات میں کوئی شے ہے تو وہ عشق حقیقی ہے، لیکن امر واقع یہ ہے کہ عشق حقیقی تو ہر حال میں کسی کی بھی پہنچ سے باہر ہے وہ کس طرح کسی کے جال میں سما سکتا ہے۔
مرید ہندی
تجھ پہ روشن ہے ضمیر کائنات
کس طرح محکم ہو ملت کی حیات؟
ضمير کائنات: کائنات کا دل یعنی حقیقت۔
پیررومی
دانہ باشی مرغکانت برچنند
غنچہ باشی کود کانت برکنند
دانہ پنہاں کن سراپا دام شو
غنچہ پنہاں کن گیاہ بام شو
اگر تیری ہیت دانے کی مانند ہو تو ظاہر ہے اسے پرندے کب چھوڑیں گے، کلی کی شکل اختیار کر لے تو بچے تجھے نوچ لیں گے۔
دانہ بن کر (زمین) میں چھپ کر دام بن جا ؛ پھول بننا ہے تو کسی اونچی چھت کے پودے پر کھل۔ (اپنا بسیرا کسی ایسی بلندی پر استوار کر جو دوسروں کی دسترس سے باہر ہو۔)
مرید ہندی
تو یہ کہتا ہے کہ دل کی کر تلاش
طالب دل باش و در پیکار باش
جو مرا دل ہے، مرے سینے میں ہے
میرا جوہر میرے آئینے میں ہے
طالب دل باش و در پيکار باش: دل کا طالب ہو اور (اس راہ کی مشکلات سے ) بر سر پیکار رہ۔
پیررومی
تو ہمی گوئی مرا دل نیز ہست
دل فراز عرش باشد نے بہ پست
تو دل خود را دلے پنداشتی
جستجوے اہل دل بگذاشتی
مانا کہ تیرے سینے میں بھی دل موجود ہے لیکن اس حقیقت کو جان لے کہ دل محض گوشت کے ٹکڑے کو نہیں کہتے جو ہر انسان کے پہلو میں دھڑکتا رہتا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دل کا حقیقی مقام عرش معلّی ہے نہ کہ وہ پستی میں رہتا ہے۔ (با الفاظ دیگر دل کا تعلق تو بالواستہ طور پر رب العزت سے ہے نہ کہ اس عالم فانی سے!)
جہاں تک میرے قول کا تعلق ہے تو نے اسے غلط سمجھا ہے اور اسی پس منظر میں اپنے دل کو تلاش کر! المیہ یہ ہے کہ تو نے وہ تلاش ترک کر دی ہے۔
مرید ہندی
آسمانوں پر مرا فکر بلند
میں زمیں پر خوار و زار و دردمند
کار دنیا میں رہا جاتا ہوں میں
ٹھوکریں اس راہ میں کھاتا ہوں میں
کیوں مرے بس کا نہیں کار زمیں
ابلہ دنیا ہے کیوں دانائے دیں؟
ابلہ: بیوقوف۔
پیررومی
آں کہ بر افلاک رفتارش بود
بر زمیں رفتن چہ دشوارش بود
(پہلے یہ امر ذہن نشین کر لے کہ) جو شخص آسمانوں پر بے تکلّف پرواز کرتا ہے اس کے لیے زمین پر چلنا کیسے مشکل ہو سکتا ہے۔
مرید ہندی
علم و حکمت کا ملے کیونکر سراغ
کس طرح ہاتھ آئے سوز و درد و داغ

پیررومی
علم و حکمت زاید نان حلال
عشق و رقت آید از نان حلال
علم ، حکمت، سوز و گداز اور عشق عملا حلال کی روزی کمانے کے عمل سے حاصل ہو سکتے ہیں۔ جان لے! کسب حلال کرنے والا شخص ان نعمتوں کا سزاوار ہے۔
مرید ہندی
ہے زمانے کا تقاضا انجمن
اور بے خلوت نہیں سوز سخن!

پیررومی
خلوت از اغیار باید، نے ز یار
پوستیں بہر دے آمد، نے بہار
اس حقیقت کو جان لے! کہ خلوت اور گوشہ گیری غیروں سے چاہیے نہ کہ اپنوں سے؛ پھر پوستین موسم سرما کا لباس ہے نہ کہ موسم بہار کا؟
مرید ہندی
ہند میں اب نور ہے باقی نہ سوز
اہل دل اس دیس میں ہیں تیرہ روز!
تيرہ روز: تاریک دن۔
پیررومی
کار مرداں روشنی و گرمی است
کار دوناں حیلہ و بے شرمی است
مردان حق کی صفت یہ ہے کہ لوگوں میں ایمان کی روشنی اور عشق کا سوز و گداز پیدا کریں جب کہ کم ظرف لوگ فطرتا بہانہ جوئی اور بے غیرتی کے حامل رہیں گے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: