(Bal-e-Jibril-142) (جبریل و ابلیس) Jibreel-o-Iblees

جبریل وابلیس

جبریل
ہمدم دیرینہ! کیسا ہے جہان رنگ و بو؟

ابلیس
سوز و ساز و درد و داغ و جستجوے و آرزو

جبریل
ہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگو
کیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفو؟

ابلیس
آہ اے جبریل! تو واقف نہیں اس راز سے
کر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبو
اب یہاں میری گزر ممکن نہیں، ممکن نہیں
کس قدر خاموش ہے یہ عالم بے کاخ و کو!
جس کی نومیدی سے ہو سوز درون کائنات
اس کے حق میں ‘تقنطوا’ اچھا ہے یا ‘لاتقظوا’؟
تقنطوا: تم نا امید ہو۔
لاتقظوا: تم نا امید نہ ہو۔
جبریل
کھو دیے انکار سے تو نے مقامات بلند
چشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبرو!

ابلیس
ہے مری جرأت سے مشت خاک میں ذوق نمو
میرے فتنے جامہء عقل و خرد کا تاروپو
دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خیر و شر
کون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے، میں کہ تو؟
خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست و پا
میرے طوفاں یم بہ یم، دریا بہ دریا، جو بہ جو
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصہء آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو!
میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ھو، اللہ ھو، اللہ ھو
تاروپو: تانا بانا ۔
رزم خير و شر: نیکی اور بدی کی جنگ۔
دست و پا: ہاتھ پاؤں۔
جو: ندی۔
يم: سمندر۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: