(Bal-e-Jibril-144) (محبت) Mohabbat

محبت

شہید محبت نہ کافر نہ غازی
محبت کی رسمیں نہ ترکی نہ تازی

وہ کچھ اور شے ہے، محبت نہیں ہے
سکھاتی ہے جو غزنوی کو ایازی

یہ جوہر اگر کار فرما نہیں ہے
تو ہیں علم و حکمت فقط شیشہ بازی

نہ محتاج سلطاں، نہ مرعوب سلطاں
محبت ہے آزادی و بے نیازی

مرا فقر بہتر ہے اسکندری سے
یہ آدم گری ہے، وہ آئینہ سازی

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close