(Bal-e-Jibril-146) (جاوید کے نام) Javed Ke Naam

جاوید کے نام

لندن میں اس کے ہاتھ کا لکھا ہوا پہلا خط آنے پر
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر

اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر

میں شاخ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
مرے ثمر سے مےء لالہ فام پیدا کر

مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: