(Bal-e-Jibril-147) (فلسفہ و مذہب) Falsafa-o-Mazhab

فلسفہ ومذہب

یہ آفتاب کیا، یہ سپہر بریں ہے کیا!
سمجھ نہیں تسلسل شام و سحر کو میں
سپہر بريں: بلند آسمان۔
اپنے وطن میں ہوں کہ غریب الدیار ہوں
ڈرت ہوں دیکھ دیکھ کے اس دشت و در کو میں
غريب الديار: پردیسی، مسافر۔
کھلت نہیں مرے سفر زندگی کا راز
لاوں کہاں سے بندئہ صاحب نظر کو میں

حیراں ہے بوعلی کہ میں آیا کہاں سے ہوں
رومی یہ سوچتا ہے کہ جاوں کدھر کو میں

جات ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانت نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: