(Bal-e-Jibril-148) (یورپ سے ایک خط – جواب) Yorup Se Aik Khat – Jawab

یورپ سے ایک خط

ہم خوگر محسوس ہیں ساحل کے خریدار
اک بحر پر آشوب و پر اسرار ہے رومی
تو بھی ہے اسی قافلہء شوق میں اقبال
جس قافلہء شوق کا سالار ہے رومی
اس عصر کو بھی اس نے دیا ہے کوئی پیغام؟
کہتے ہیں چراغ رہ احرار ہے رومی

جواب
کہ نباید خورد و جو ہمچوں خراں
آہوانہ در ختن چر ارغواں
ہر کہ کاہ و جو خورد قرباں شود
ہر کہ نور حق خورد قرآں شود

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: