(Bal-e-Jibril-150) (مسولینی) Mussolini

مسولینی

ندرت فکر و عمل کیا شے ہے، ذوق انقلاب
ندرت فکر و عمل کیا شے ہے، ملت کا شباب
ندرت: تازگی ، انوکھا پن۔
ندرت فکر و عمل سے معجزات زندگی
ندرت فکر و عمل سے سنگ خارا لعل ناب

رومتہ الکبرے! دگرگوں ہوگیا تیرا ضمیر
اینکہ می بینم بہ بیدار یست یارب یا بہ خواب!
یہ بیداری کے عالم میں دیکھ رہا ہوں یا یہ خواب کی دنیا کے نظارے ہیں۔
چشم پیران کہن میں زندگانی کا فروغ
نوجواں تیرے ہیں سوز آرزو سے سینہ تاب
سينہ تاب: جن کے سینے گرم ہوں۔
یہ محبت کی حرارت، یہ تمنا، یہ نمود
فصل گل میں پھول رہ سکتے نہیں زیر حجاب
زير حجاب: پردے میں، چھپے ہوئے۔
نغمہ ہائے شوق سے تیری فضا معمور ہے
زخمہ ور کا منتظر تھا تیری فطرت کا رباب
معمور: بھرا ہوا۔
زخمہ ور: ساز بجانے والا۔
فیض یہ کس کی نظر کا ہے، کرامت کس کی ہے؟
وہ کہ ہے حس کی نگہ مثل شعاع آفتاب!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: