(Bal-e-Jibril-152) (پنجاب کے دہقان سے) Punjab Ke Dehqan Se

پنچاب کے دہقان سے

بتا کیا تری زندگی کا ہے راز
ہزاروں برس سے ہے تو خاک باز

اسی خاک میں دب گئی تیری آگ
سحر کی اذاں ہوگئی، اب تو جاگ!

زمیں میں ہے گو خاکیوں کی برات
نہیں اس اندھیرے میں آب حیات
برات: قسمت، نصیب۔
زمانے میں جھوٹا ہے اس کا نگیں
جو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں

بتان شعوب و قبائل کو توڑ
رسوم کہن کے سلاسل کو توڑ
سلاسل: زنجیریں۔
شعوب: بڑے قبیلے۔
یہی دین محکم، یہی فتح باب
کہ دنیا میں توحید ہو بے حجاب

بخاک بدن دانہء دل فشاں
کہ ایں دانہ داردز حاصل نشاں
تو اپنے بدن کی مٹی میں دل کا دانہ بو دے کیونکہ اسی دانے سے وہ پیداوار مل سکتی ہے جو انسان کے لیے شرف کا باعث ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: