(Bal-e-Jibril-153) (نادر شاہ افغان) Nadir Shah Afghan

نادر شاہ افغان

حضور حق سے چلا لے کے لولوئے لالا
وہ ابر جس سے رگ گل ہے مثل تار نفس
لولوئے لالا: چمکدار موتی۔
بہشت راہ میں دیکھا تو ہو گیا بیتاب
عجب مقام ہے، جی چاہتا ہے جاوں برس

صدا بہشت سے آئی کہ منتظر ہے ترا
ہرات و کابل و غزنی کا سبزئہ نورس
سبزئہ نورس: لہلہاتا سبزہ۔
سرشک دیدہ نادر بہ داغ لالہ فشاں
چناں کہ آتش او را دگر فرونہ نشاں!
نادر شاہ افغان کے آنسوؤں کو لالے کے داغ پر اس طرح چھڑک دے کہ پھر اس داغ کی آگ کبھی بجھنے نہ پائے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: