(Bal-e-Jibril-155) (تاتاری کا خواب) Tatari Ka Khawab

تاتاری کا خواب

کہیں سجادہ و عمامہ رہزن
کہیں ترسا بچوں کی چشم بے باک!
عمامہ: دستار۔
سجادہ: جائے نماز۔
ترسا بچہ: شراب فروشوں کے ملازم جن کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے اس کام کے لیے رکھا جاتا تھا تاکہ کاروبار فروغ پائے۔
ردائے دین و ملت پارہ پارہ
قبائے ملک و دولت چاک در چاک!
ردا: چادر۔
مرا ایماں تو ہے باقی ولیکن
نہ کھا جائے کہیں شعلے کو خاشاک!

ہوائے تند کی موجوں میں محصور
سمرقند و بخارا کی کف خاک!

بگرداگرد خود چندانکہ بینم
بلا انگشتری و من نگینم
اپنے ارد گرد جہاں تک نظر جاتی ہے ، مجھے یہی نظر آتا ہے کہ آفتیں اور بلائیں ایک انگوٹھی کی حیثیت رکھتی ہیں اور میری حیثیت اس انگوٹھی میں نگینے کی ہے۔
یکایک ہل گئی خاک سمرقند
اٹھا تیمور کی تربت سے اک نور

شفق آمیز تھی اس کی سفیدی
صدا آئی کہ میں ہوں روح تیمور

اگر محصور ہیں مردان تاتار
نہیں اللہ کی تقدیر محصور

تقاضا زندگی کا کیا یہی ہے
کہ تورانی ہو تورانی سے مہجور؟

خودی را سوز و تابے دیگرے دہ
جہاں را انقلابے دیگرے دہ
اپنی خودی میں تازہ حرارت اور نئی تب و تاب پیدا کرو؛ ایسا کرو گے تو اس دنیا میں انقلاب برپا کر سکو گے۔ ٭ یہ شعر معلوم نہیں کس کا ہے ، نصیر الدین طوسی نے غالبا شرع عشرات میں اسے نقل کیا ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: