(Bal-e-Jibril-157) (ابو الاعلامعری) Abbu-Al-Allama’ari

ابوالعلامعری

کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معری
پھل پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقات

اک دوست نے بھونا ہوا تیتر اسے بھیجا
شاید کہ وہ شاطر اسی ترکیب سے ہو مات

یہ خوان تر و تازہ معری نے جو دیکھا
کہنے لگا وہ صاحب غفران و لزومات
رسالتہ الغفران ، معری کی ایک مشہور کتاب کا نام ہے لزومات اس کے قصائد کا مجموعہ ہے
اے مرغک بیچارہ! ذرا یہ تو بتا تو
تیرا وہ گنہ کیا تھا یہ ہے جس کی مکافات؟

افسوس، صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: