(Bal-e-Jibril-159) (پنجاب کے پیرزادوں سے) Punjab Ke Peerzadon Se

پنچاب کے پیرزادوں سے

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار
مطلع انوار:نورانی تجلّیوں کے ظہور کی جگہ۔
اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار

وہ ہند میں سرمایہء ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار

کی عرض یہ میں نے کہ عطا فقر ہو مجھ کو
آنکھیں مری بینا ہیں، و لیکن نہیں بیدار!

آئی یہ صدا سلسلہء فقر ہوا بند
ہیں اہل نظر کشور پنجاب سے بیزار

عارف کا ٹھکانا نہیں وہ خطہ کہ جس میں
پیدا کلہ فقر سے ہو طرئہ دستار

باقی کلہ فقر سے تھا ولولہء حق
طروں نے چڑھایا نشہء ‘خدمت سرکار

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: