(Bal-e-Jibril-162) (خودی) Khudi

خودی

خودی کو نہ دے سیم و زر کے عوض
نہیں شعلہ دیتے شرر کے عوض
یہ کہتا ہے فردوسی دیدہ ور
عجم جس کے سرمے سے روشن بصر
ز بہر درم تند و بدخو مباش
تو باید کہ باشی، درم گو مباش
روپے پیسے کے لیے غصّے میں نہ آ اور اپنی عادت میں بگاڑ پیدا نہ کر ؛ چاہیے کہ تو اپنی اصل حالت برقرار رکھے ۔ پیسہ نہیں ملتا تو نہ ملے، تیرے لیے کہاں زیبا ہے کہ اس کے پیچھے اپنی انسانیت کو برباد کرے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: