(Bal-e-Jibril-163) (جدائی) Judai

جدائی

سورج بنتا ہے تار زر سے
دنیا کے لیے ردائے نوری

عالم ہے خموش و مست گویا
ہر شے کو نصیب ہے حضوری

دریا، کہسار، چاند تارے
کیا جانیں فراق و ناصبوری

شایاں ہے مجھے غم جدائی
یہ خاک ہے محرم جدائی

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: