(Bal-e-Jibril-165) (ابلیس کی عرضداشت) Iblees Ki Arzdasht

ابلیس کی عرضداشت

کہتا تھا عزازیل خداوند جہاں سے
پرکالہء آتش ہوئی آدم کی کف خاک
عزازيل: ابلیس کا اصلی نام۔
آتش : آگ کا ٹکڑا یعنی سخت فتنہ انگیز۔ پرکالہء
جاں لاغر و تن فربہ و ملبوس بدن زیب
دل نزع کی حالت میں، خرد پختہ و چالاک

ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعت
مغرب کے فقیہوں کا یہ فتوی ہے کہ ہے پاک

تجھ کو نہیں معلوم کہ حوران بہشتی
ویرانی جنت کے تصور سے ہیں غم ناک؟

جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہ افلاک

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: