(Bal-e-Jibril-167) (پرواز) Parwaz

پرواز

کہا درخت نے اک روز مرغ صحرا سے
ستم پہ غم کدئہ رنگ و بو کی ہے بنیاد

خدا مجھے بھی اگر بال و پر عطا کرتا
شگفتہ اور بھی ہوتا یہ عالم ایجاد

دیا جواب اسے خوب مرغ صحرا نے
غضب ہے، داد کو سمجھا ہوا ہے تو بیداد!

جہاں میں لذت پرواز حق نہیں اس کا
وجود جس کا نہیں جذب خاک سے آزاد

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: