(Bal-e-Jibril-170) (شاہین) Shaheen

شاہیں

کیا میں نے اس خاک داں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ

بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ

نہ باد بہاری، نہ گلچیں، نہ بلبل
نہ بیماری نغمہ عاشقانہ

خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ

ہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاری
جواں مرد کی ضربت غازیانہ

حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

یہ پورب، یہ پچھم چکوروں کی دنیا
مرا نیلگوں آسماں بیکرانہ

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: