(Bal-e-Jibril-171) (باغی مرید) Baghi Mureed

باغی مرید

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ
مانند بتاں پجتے ہیں کعبے کے برہمن
کعبے کے برہمن: مراد ہے خاندانی پیر زادے مخدوم۔
نذرانہ نہیں، سود ہے پیران حرم کا
ہر خرقہء سالوس کے اندر ہے مہاجن
خرقہء سالوس: مکر و فریب کا لباس۔
مہاجن: سود کا کاروبار کرنے والا۔
میراث میں آئی ہے انھیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
زاغ: کوا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: