(Bang-e-Dra-145) (کفر و اسلام) Kufr-o-Islam

کفر واسلام

تضمین بر شعر میررضی دانش
ایک دن اقبال نے پوچھا کلیم طور سے
اے کہ تیرے نقش پا سے وادی سینا چمن

آتش نمرود ہے اب تک جہاں میں شعلہ ریز
ہوگیا آنکھوں سے پنہاں کیوں ترا سوز کہن

تھا جواب صاحب سینا کہ مسلم ہے اگر
چھوڑ کر غائب کو تو حاضر کا شیدائی نہ بن

ذوق حاضر ہے تو پھر لازم ہے ایمان خلیل
ورنہ خاکستر ہے تیری زندگی کا پیرہن

ہے اگر دیوانہء غائب تو کچھ پروا نہ کر
منتظر رہ وادی فاراں میں ہو کر خیمہ زن

عارضی ہے شان حاضر، سطوت غائب مدام
اس صداقت کو محبت سے ہے ربط جان و تن

شعلہ نمرود ہے روشن زمانے میں تو کیا
شمع خود رامی گدازد درمیان انجمن
نور ما چوں آتش سنگ از نظر پنہاں خوش است

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: