(Bang-e-Dra-147) (مسلمان اور تعلیم جدید) Musalman Aur Taleem-e-Jadeed

مسلمان اور تعلیم جدید

تضمين بر شعر ملک قمی
مرشد کی یہ تعلیم تھی اے مسلم شوریدہ سر
لازم ہے رہرو کے لیے دنیا میں سامان سفر
شوريدہ سر: دیوانہ۔
بدلی زمانے کی ہوا، ایسا تغیر آگیا
تھے جو گراں قمیت کبھی، اب ہیں متاع کس مخر
متاع کس مخر: ایسا مال جسے کوئی نہ خریدے۔
وہ شعلہ روشن ترا ظلمت گریزاں جس سے تھی
گھٹ کر ہوا مثل شرر تارے سے بھی کم نور تر

شیدائی غائب نہ رہ، دیوانہء موجود ہو
غالب ہے اب اقوام پر معبود حاضر کا اثر
ديوانہء موجود: موجودہ چیز کا دیوانہ۔
ممکن نہیں اس باغ میں کوشش ہو بار آور تری
فرسودہ ہے پھندا ترا، زیرک ہے مرغ تیز پر
زيرک: ہوشیار، چالاک۔
فرسودہ: پرانا۔
اس دور میں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا
ہے خون فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
خون فاسد: گندہ خون۔
رہبر کے ایما سے ہوا تعلیم کا سودا مجھے
واجب ہے صحرا گرد پر تعمیل فرمان خضر

لیکن نگاہ نکتہ بیں دیکھے زبوں بختی مری
رفتم کہ خار از پا کشم،محمل نہاں شد از نظر

یک لحظ غافل گشتم و صد سالہ را ہم دور شد
میں اپنے پاؤں سے کانٹا نکالنے لگا اور اتنی دیر میں محمل نظر سے اوجھل ہو گیا؛ ایک لمحہ کی غفلت میں سینکڑوں سال پیچھے رہ گیا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: