(Bang-e-Dra-149) (تضمین بر شعر صائب) Tazmeen Bar Shair-e-Saa’ib

تضمین بر شعر صائب

کہاں اقبال تو نے آ بنایا آشیاں اپنا
نوا اس باغ میں بلبل کو ہے سامان رسوائی

شرارے وادی ایمن کے تو بوتا تو ہے لیکن
نہیں ممکن کہ پھوٹے اس زمیں سے تخم سینائی
تخم سينائي: کوہ سینا کا بیج۔
کلی زور نفس سے بھی وہاں گل ہو نہیں سکتی
جہاں ہر شے ہو محروم تقاضائے خود افزائی
تقاضائے خود افزائي: ترقی کی آرزو۔
قیامت ہے کہ فطرت سو گئی اہل گلستاں کی
نہ ہے بیدار دل پیری، نہ ہمت خواہ برنائی
ہمت خواہ برنائي: جوانوں جیسی جرات۔
دل آگاہ جب خوابیدہ ہو جاتے ہیں سینوں میں
نو اگر کے لیے زہراب ہوتی ہے شکر خائی
شکر خائي: میٹھی گفتگو، یعنی شیریں بیانی۔
نہیں ضبط نوا ممکن تو اڑ جا اس گلستاں سے
کہ اس محفل سے خوشتر ہے کسی صحرا کی تنہائی

ہماں بہتر کہ لیلی در بیاباں جلوہ گر باشد
ندارد تنگناے شہر تاب حسن صحرائی
یہی بہتر ہے کہ لیلی بیاباں میں جلوہ گر ہو، شہر کی تنگ گلیاں صحرا کے حسن کی تاب نہیں لا سکتیں۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: