(Bang-e-Dra-150) (فردوس میں ایک مکالمہ) Firdous Mein Aik Muqalma

فردوس میں ایک مکالمہ

ہاتف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روز
حالی سے مخاطب ہوئے یوں سعدی شیراز
ہاتف: وہ فرشتہ جو دماغ میں انجانی چیزوں کے بارے میں خیالات ڈالتا ہے۔
اے آنکہ ز نور گہر نظم فلک تاب
دامن بہ چراغ مہ اختر زدہ اے باز!
اے وہ کہ جس نے اپنی بلند پایہ نظم کے موتیوں کے نور سے چاند اور ستاروں کو روشن کر دیا ہے۔
کچھ کیفیت مسلم ہندی تو بیاں کر
واماندئہ منزل ہے کہ مصروف تگ و تاز
واماندئہ منزل: تھک کے بیٹھ جانے والا مسافر۔
مذہب کی حرارت بھی ہے کچھ اس کی رگوں میں؟
تھی جس کی فلک سوز کبھی گرمی آواز

باتوں سے ہوا شیخ کی حالی متاثر
رو رو کے لگا کہنے کہ اے صاحب اعجاز

جب پیر فلک نے ورق ایام کا الٹا
آئی یہ صدا، پائوگے تعلیم سے اعزاز

آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل
دنیا تو ملی، طائر دیں کر گیا پرواز

دیں ہو تو مقاصد میں بھی پیدا ہو بلندی
فطرت ہے جوانوں کی زمیں گیر زمیں تاز
زميں گير: زمین کو پکڑنے والی یعنی نہایت پست۔
زميں تاز: زمین پر دوڑنے والی، کوشش کرنے والی۔
مذہب سے ہم آہنگی افراد ہے باقی
دیں زخمہ ہے، جمعیت ملت ہے اگر ساز

بنیاد لرز جائے جو دیوار چمن کی
ظاہر ہے کہ انجام گلستاں کا ہے آغاز

پانی نہ ملا زمزم ملت سے جو اس کو
پیدا ہیں نئی پود میں الحاد کے انداز

یہ ذکر حضور شہ یثرب میں نہ کرنا
سمجھیں نہ کہیں ہند کے مسلم مجھے غماز

خرما نتواں یافت ازاں خار کہ کشتیم
دیبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رشتیم
ہم نے جو کانٹے بوئے ہیں ان سے کھجور حاصل کرنے کی توقع عبس ہے ، جو اون ہم نے تیار کی اس سے حریر و پرنیاں اور ریشم تیار نہیں ہو سکتا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: