(Bang-e-Dra-154) (پیوستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ) Pewasta Reh Shajar Se, Umeed-e-Bahar Rakh

پیوستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ

ڈالی گئی جو فصل خزاں میں شجر سے ٹوٹ
ممکن نہیں ہری ہو سحاب بہار سے

ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے
کچھ واسطہ نہیں ہے اسے برگ و بار سے

ہے تیرے گلستاں میں بھی فصل خزاں کا دور
خالی ہے جیب گل زر کامل عیار سے
زر کامل عيار: کسوٹی پر پورا اترنے والا سونا؛ کھرا سونا۔
جو نغمہ زن تھے خلوت اوراق میں طیور
رخصت ہوئے ترے شجر سایہ دار سے

شاخ بریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو
ناآشنا ہے قاعدئہ روزگار سے

ملت کے ساتھ رابطہء استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: