(Bang-e-Dra-156) (پھول) Phool

پھول

تجھے کیوں فکر ہے اے گل دل صد چاک بلبل کی
تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے

تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی میں
تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کرلے

صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پا بہ گل بھی ہے
انھی پابندیوں میں حاصل آزادی کو تو کر لے

تنک بخشی کو استغنا سے پیغام خجالت دے
نہ رہ منت کش شبنم نگوں جام وسبو کر لے

نہیں یہ شان خودداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زیب گلو کر لے

چمن میں غنچہ گل سے یہ کہہ کر اڑ گئی شبنم
مذاق جور گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے

اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا
جہان رنگ و بو سے، پہلے قطع آرزو کر لے

اسی میں دیکھ، مضمر ہے کمال زندگی تیرا
جو تجھ کو زینت دامن کوئی آئینہ رو کر لے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: