(Bang-e-Dra-157) (شکسپیر) Shakespeare

شیکسپیر

شفق صبح کو دریا کا خرام آئینہ
نغمہ شام کو خاموشی شام آئینہ

برگ گل آئنہ عارض زبیائے بہار
شاہد مے کے لیے حجلہ جام آئینہ
حجلہ جام: پیالے کی جلوہ گاہ۔
حسن آئنہ حق اور دل آئنہ حسن
دل انساں کو ترا حسن کلام آئینہ

ہے ترے فکر فلک رس سے کمال ہستی
کیا تری فطرت روشن تھی مآل ہستی
فکر فلک رس: آسمان تک پہنچنے والی سوچ۔
تجھ کو جب دیدئہ دیدار طلب نے ڈھونڈا
تاب خورشید میں خورشید کو پنہاں دیکھا

چشم عالم سے تو ہستی رہی مستور تری
اور عالم کو تری آنکھ نے عریاں دیکھا
مستور: چھپا ہوا۔
حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا
رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا
سودا: جنون۔
حفظ اسرار: بھید چھپانا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: