(Bang-e-Dra-162) (خضر راہ – جواب خضر ) Khizar-e-Rah – Jawab-e-Khizar

خضرراہ

شاعر
ساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر
گوشہ دل میں چھپائے اک جہان اضطراب

شب سکوت افزا، ہوا آسودہ، دریا نرم سیر
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب
سکوت افزا: خاموشی کو بڑھانے والی۔
جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب
گہوارا: پنگوڑا۔
رات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر
انجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتاب
افسوں؛ طلسم: جادو۔
انجم کم ضو: کم روشنی والے ستارے۔
دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیک جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شباب
پيک جہاں پيما: دنیا کی سیر کرنے والا قاصد۔
کہہ رہا ہے مجھ سے، اے جویائے اسرار ازل!
چشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجاب
جويائے اسرار: راز کا متلاشی۔
دل میں یہ سن کر بپا ہنگامہ محشر ہوا
میں شہید جستجو تھا، یوں سخن گستر ہوا

اے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکار
جن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموش
چشم جہاں بيں: دنیا کو دیکھنے والی آنکھ۔
‘کشتی مسکین، و ‘جان پاک’ و ‘دیوار یتیم،
علم موسی بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش
کشتي مسکين و جان پاک و ديوار يتيم: یہ تینوں تلمیہات ہیں۔
چھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نورد
زندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا دوش

زندگی کا راز کیا ہے، سلطنت کیا چیز ہے
اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش

ہو رہا ہے ایشیا کا خرقہ دیرینہ چاک
نوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پیرایہ پوش

گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم نائونوش
گرم نائونوش: کھانے پینے میں مصروف۔
بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے!
اولاد ابراہيم: مراد ہے مسلمان۔
جواب خضر صحرا نوردی
کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھے
یہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیل
دمادم: مسلسل۔
تگا پوئے: دوڑ دھوپ۔
اے رہین خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں
گونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیل
رہين خانہ: خانہ نشین۔
بانگ رحيل: قافلے کے روانگی کی صدا دینے والا۔
ریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خرام
وہ حضر بے برگ و ساماں، وہ سفر بے سنگ و میل
حضر: قیام، پڑاؤ۔
آہو: ہرن۔
سنگ و ميل: راستہ کے نشان۔
وہ نمود اختر سیماب پا ہنگام صبح
یا نمایاں بام گردوں سے جبین جبرئیل
نمود اختر سيماب پا: تیز رفتار ستارے کا نکلنا ۔
وہ سکوت شام صحرا میں غروب آفتاب
جس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بین خلیل
سکوت شام صحرا: صحرا میں شام کے وقت کا سکون۔
چشم جہاں بين: دور رس نگاہ۔
اور وہ پانی کے چشمے پر مقام کارواں
اہل ایماں جس طرح جنت میں گرد سلسبیل
سلسبيل: جنت کی ایک نہر۔
تازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاش
اور آبادی میں تو زنجیری کشت و نخیل
زنجيري کشت و نخيل: کھیت اور باغات کے کاموں میں مصروف۔
پختہ تر ہے گردش پہیم سے جام زندگی
ہے یہی اے بے خبر راز دوام زندگی
گردش پہيم: مسلسل چلتے جانا۔
راز دوام زندگي: ہمیشہ کی زندگی کا راز۔
زندگی
برتر از اندیشہء سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی
انديشہء سود و زياں: نفع و نقصان کا خوف۔
تسليم جاں: جان قربان کرنا۔
تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی
امروز و فردا: آج اور کل۔
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے، ضمیر کن فکاں ہے زندگی
سر آدم: انسان کی تخلیق کا راز۔
زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
کوہکن: پہاڑ کھودنے والا، مراد ہے فرہاد۔
جوئے شير: دودھ کی نہر۔
سنگ گراں: بھاری پتھر۔
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بے کراں ہے زندگی
جوئے کم آب: کم پانی والی ندی۔
بندگي: غلامی۔
بحر بے کراں: لا محدود سمندر۔
آشکارا ہے یہ اپنی قوت تسخیر سے
گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی
قوت تسخير: فتح کرنے کی طاقت۔
قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی
حباب: بلبلہ۔
قلزم: سمندر۔
خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو
شمشير بے زنہار: پناہ نہ دینے والی تلوار۔
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

پھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
خاکستر: راکھ۔
مستعار: مانگے ہوے۔
زندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرے

خاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرے
لعل گراں: قیمتی پتھر۔
سوئے گردوں نالہ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تارں میں اپنے رازداں پیدا کرے
نالہ شب گير: رات کو اپنے گھیرے میں لینے والی فریاد۔
یہ گھڑی محشر کی ہے، تو عرصہء محشر میں ہے
پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
عرصہء محشر: محشر کا میدان۔
سلطنت
آبتائوں تجھ کو رمز آیہء ‘ان الملوک’
سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری
قرآن کی سورہ نمل کی اس آیہ کی طرف اشارہ ہے جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہی فساد برپا کر دیتے ہیں۔
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری
ساحري: جادوگری، مراد ہے دھوکہ بازی۔
جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ایاز
دیکھتی ہے حلقہء گردن میں ساز دلبری

خون اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسی طلسم سامری
طلسم سامري: سامری کا جادو۔
سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی، باقی بتان آزری
سروري: سرداری۔
ذات بے ہمتا: ایسی ذات جس کی کوئی مثال نہ ہو۔
بتان آزري: آزر کے بنائے ہوئے بت۔
از غلامی فطرت آزاد را رسوا مکن
تا تراشی خواجہ ے از برہمن کافر تری
تو اپنی آزاد فطرت کو غلامی میں پھنسا کر ذلیل نہ کر ؛ اگر تو کسی کو آقا بنائے گا اور یہ بت تراشے گا تو تو سمجھ لے کہ تو برہمن سے بھی بڑا کافر ہے۔
ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
نوائے قیصری : شہنشاہ کی صدا۔
دیو استبداد جمہوری قبا میں پاے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
پاے کوب: نیچے والا ۔
استبداد: ظلم۔
مجلس آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طب مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری

گرمی گفتار اعضائے مجالس، الاماں!
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگری
اعضائے مجالس: قانون ساز اسمبلیوں کے ایوان۔
الاماں: خدا محفوظ رکھے۔
اس سراب رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ اے ناداں! قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو
سراب: دھوکہ۔
سرمایہ ومحنت
بندئہ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیام کائنات
پيام کائنات: کائنات کے دل کی آواز۔
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار حیلہ گر
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
آہو: ہرن کا سینگ۔ شاخ
برات: حصّہ، مراد ہے رزق۔
دست دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات
دولت آفريں: دولت پیدا کرنے والے ہاتھ۔ دست
امیر لوگ۔ ثروت: اہل
مزد: مزدور۔
ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات
الموط: موط کا جادوگر ، مراد ہے سرمایہ دار ۔ ساحر
برگ حشيش: بھنگ۔
نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات
مسکرات: وہ چیزیں جو نشہ پیدا کرتی ہے۔
کٹ مرا ناداں خیالی دیوتائوں کے لیے
سکرکی لذت میں تو لٹوا گیا نقد حیات
سکر: نشہ۔
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی اندازہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

ہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبول
غنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلک

نغمہ بیداری جمہور ہے سامان عیش
قصہ خواب آور اسکندر و جم کب تلک

آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا
آسمان! ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک

توڑ ڈالیں فطرت انساں نے زنجیریں تمام
دوری جنت سے روتی چشم آدم کب تلک

باغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہار
زخم گل کے واسطے تدبیر مرہم کب تلک

کرمک ناداں! طواف شمع سے آزاد ہو
اپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہو
کرمک ناداں: بھنورا۔
دنیائے اسلام
کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز
پنہاں: چھپا ہوا۔
لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل
خشت بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجاز
تثليث: مراد ہے عیسائی۔
ميراث خليل: مراد ہے مسلمانوں کا ورثہ۔
خشت: اینٹ۔
ہوگئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبور نیاز
کلاہ لالہ رنگ: سرخ ٹوپی، ترکی ٹوپی۔
لے رہا ہے مے فروشان فرنگستاں سے پارس
وہ مےء سرکش حرارت جس کی ہے مینا گداز
سرکش: تند و تیز۔
مينا گداز: صراحی کو پگھلا دینے والی۔
حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز
گاز: سونے کو کاٹنے کی قینچی ۔
ہوگیا مانند آب ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز
ارزاں: سستا۔
گفت رومی ہر بناے کہنہ کآباداں کنند
می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند
رومی نے کہا کہ ہر پرانی عمارت کو دوبارہ بنانے سے پہلے؛ کیا تو نہیں جانتا ، پہلے اس کو گرانا پڑتا ہے۔
ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق ترا چشمے عطا کردست غافل در نگر
اللہ نے تجھے آنکھیں عطا کی ہیں، غافل (آنکھیں کھول) اور دیکھ۔
مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست
مور بے پر! حاجتے پیش سلیمانے مبر

ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصار دیں میں ہو
ملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمر
حصار ديں: مذہب کا قلعہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں، مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر
خرگاہي: خیمہ میں رہنے والا ترکی باشندہ۔ ترک
اعرابي والا گہر: اعلی منصب عرب۔
نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر

تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استور
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش
ہوشیار ، اے وہ جو پوشیدہ اور ظاہر میں فرق نہیں پہچانتا! ہوشیار اے ابو بکر اور علی کی بڑائیاں بیان کرنے والے (شیعہ سنّی تفرقہ کی طرف اشارہ ہے)۔
عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ
تاثير: اثر۔
تو نے دیکھا سطوت رفتار دریا کا عروج
موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ
دریا کی رفتار کی تیزی کی ہیبت۔ سطوت رفتار دريا:
عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ

اپنی خاکستر سمندر کو ہے سامان وجود
مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہان پیر، دیکھ
خاکستر: راکھ۔
کھول کر آنکھیں مرے آئینہء گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس
سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ

مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار
ہر زماں پیش نظر، ‘لایخلف المیعاد’ دار
مسلمان ہونے کی حیثیت سے (اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اور) امید سے اپنا دل آباد رکھ؛ ہر وقت مد نظر رہے کہ اللہ تعالے اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: