(Bang-e-Dra-166) (نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی) Nala Hai Bulbul-e-Shoridah Tera Kham Abhi

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
بلبل شوريدہ: دیوانی بلبل۔
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
مصلحت انديش: اچھا برا سوچنے والا۔
بے خطر کود پڑا آتش نمردو میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

عشق فرمودئہ قاصد سے سبک گام عمل
عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی
فرمودئہ قاصد: قاصد کی ہدایت۔
سبک گام عمل: تیزی سے عمل۔
شیوئہ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی
تو ہے زناری بت خانہء ایام ابھی
دہر آشوبي: دنیا بھر میں قیامت کا ہنگامہ۔
عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی
ہے ترے دل میں وہی کاوش انجام ابھی

سعی پیہم ہے ترازوئے کم و کیف حیات
تیری میزاں ہے شمار سحر و شام ابھی
پيہم: لگا تار کوشش۔ سعي
کم و کيف حيات: زندگی کی مقدار اور کیفیت۔
ابر نیساں! یہ تنک بخشی شبنم کب تک
مرے کہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی
تنک بخشي: کنجوسوں کی طرح بہت تھوڑی چیز دینا۔
بادہ گردان عجم وہ، عربی میری شراب
مرے ساغر سے جھجکتے ہیں مے آشام ابھی

خبر اقبال کی لائی ہے گلستاں سے نسیم
نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھی

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: