(Bang-e-Dra-168) (پھر باد بہار آیی، اقبال غزل خوان ہو) Phir Baad-e-Bahar Ayi, Iqbal Ghazal Khawan Ho

پھر باد بہار آئی، اقبال غزل خواں ہو

پھر باد بہار آئی، اقبال غزل خواں ہو
غنچہ ہے اگر گل ہو، گل ہے تو گلستاں ہو

تو خاک کی مٹھی ہے، اجزا کی حرارت سے
برہم ہو، پریشاں ہو، وسعت میں بیاباں ہو

تو جنس محبت ہے، قیمت ہے گراں تیری
کم مایہ ہیں سوداگر، اس دیس میں ارزاں ہو
کم مایہ : غریب؛ کم مال والے۔
کیوں ساز کے پردے میں مستور ہو لے تیری
تو نغمہ رنگیں ہے، ہر گوش پہ عریاں ہو

اے رہرو فرزانہ! رستے میں اگر تیرے
گلشن ہے تو شبنم ہو، صحرا ہے تو طوفاں ہو
رہرو فرزانہ: عقلمند مسافر۔
ساماں کی محبت میں مضمر ہے تن آسانی
مقصد ہے اگر منزل، غارت گر ساماں ہو

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: