(Bang-e-Dra-169) (کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں) Kabhi Ae Haqiqat-e-Muntazir Nazar Aa Libas-e-Majaaz Mein

کبھی اے حقیقت منتظر نظر لباس مجاز میں

کبھی اے حقیقت منتظر نظر لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
حقیقت منتظر: وہ سچائی جس کا انتظار کیا جائے؛ مراد ہے ذات خداوندی۔
جبین نیاز: ایسا ماتھا جو (اللہ تعالے) کے سامنے جھکنے کے لیے تیار ہو۔
طرب آشنائے خروش ہو، تو نوا ہے محرم گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردئہ ساز میں
آشنائے خروش: شور و غل اور ہنگامے سے خوشی حاصل کرنے والا۔ طرب
محرم گوش: کانوں کا محرم، یعنی کان تک پہنچ۔
سرود: نغمہ۔
سکوت پردئہ ساز: ساز (کے نہ بجائے جانے کی وجہ) کی خاموشی۔
تو بچابچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں
شکستہ: ٹوٹا ہوا۔
دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثرکہن
نہ تری حکایت سوز میں، نہ مری حدیث گداز میں
طوف: چکر لگاتے وقت۔ دم
کرمک شمع: چراغ کا پتنگا، پروانہ۔
حدیث گداز: دکھ بھری کہانی۔
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں
عفو بندہ نواز: ایسی معافی جس میں بندے پر لطف و کرم کیا گیا ہو۔
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں،نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں
صنم آشنا: بتوں سے رغبت رکھنے والا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: