(Bang-e-Dra-182) (ہاتھوں سے اپنے دامن دنیا نکل گیا ) Hathon Se Apne Daman-e-Dunya Nikal Gaya

ہاتھوں سے اپنے دامن دنیا نکل گیا

ہاتھوں سے اپنے دامن دنیا نکل گیا
رخصت ہوا دلوں سے خیال معاد بھی
قانوں وقف کے لیے لڑتے تھے شیخ جی
پوچھو تو، وقف کے لیے ہے جائداد بھی!
خيال معاد: یوم حساب کا خیال۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close