تزکیہ نفس کیسے کیا جائے یا خودی کو بلند کیسے کیا جائے؟

عربی: نفس

اردو: خود، اپنی ذات، شخصیت

انگریزی: سیلف ( self)

نفس کیا ہے؟

نفس ایک غیر مادی جوہر ہے جو مٹی کے بدن (مادی جسم) پر تصرف کرتا ہے۔ جس طرح دماغ ایک مادی چیز ہے اور ذہن (عقل) غیر مادی۔ اصل ذہن (عقل) ہے اور ظاہر میں دماغ ہے۔ ایسے ہی انسان کی اصل نفس (روح) ہے اور اس کا ظاہر مٹی کا جسم ہے۔

جیسا کہ علامہ محمد اقبال ؒ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں؛

نقطۂ نوری کہ نام او خودی است
زیر خاک ما شرار زندگی است
(نقطۂ نور (روح، نفس) جس کا نام خودی ہے؛ یہی ہمارے بدن میں زندگی کا باعث ہے۔)

نفس انسان کے باطن (اندر) کے انسان کو بھی کہا جاسکتا ہے۔

بقول واصف علی واصف ؒ

”آپ کا اصل ساتھی اور آپ کا صحیح تشخص آپ کے اندر کا انسان ہے۔ اُسی نے عبادت کرنا ہے اور اسی نے بغاوت وہی دنیا والا بنتا ہے اور وہی آخرت والا۔ اُسی اندر کے انسان نے آپ کو جزا و سزا کا مستحق بنانا ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کا باطن ہی آپ کا بہترین دوست ہے اور وہی بدترین دشمن۔ آپ خود ہی اپنے لئے دشواری سفر ہو اور خود ہی شادابی منزل۔ باطن محفوظ ہو گیا تو ظاہر بھی محفوظ ہو گا۔“

جس نے اپنے اندر کا انسان (نفس) کو آنا، غروروتکبر، ہوس، ریاکاری، بری خواہش و شہوات، حُبِّ دنیا، حُبُّ الشَہوات، بغض، کینہ، حسد، حرص، لالچ وغیرہ سے خود کو ہلاک ہونے سے بچالیا وہی حقیقی معنوں میں بلند اور کامیاب ہوگیا۔

خودی (نفس) کی اصلاح اور اس کو مرتبہ کمال پر پہنچانے کے لیے خود (نفس) کو بری صفات سے پاک کرکے اور اپنی (نفس کی)حالت (صفات و اخلاقیات) کو بہتر سے بہتر بنا کر ہی انسان اشرف المخلوقات ہونے کا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔

بقول علامہ اقبال؛

خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ

خود (نفس) کی اصلاح اور اس کی حالت (صلاحیتوں) کو مرتبہ کمال تک پہنچانے کا راز توحید میں ہے۔ تمام غیر خداوں کی نفی کر کے صرف ایک اللہ کے احکامات کی پیروی کی جائے۔ وہ احکامات جو اللہ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانوں کی ہدایت اور تزکیہ نفس کے لئے دیئے۔ بس خود کی اصلاح (پہچان، تزکیہ نفس) کے لئے رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی جائے۔ جو شخص جتنا زیادہ خود (نفس) کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے رنگ میں ڈالے گا وہ اتنی زیادہ اللہ کی محبت اور معرفت (قرب) حاصل کرے گا۔

جیسا کہ مشہور عربی قول ہے۔ ’’مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ‘‘ (جس نے خود کو پہچان لیا اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا)۔ مطلب جس نے خود (نفس) کو بری خواہشات سے پاک کر لیا اچھی اخلاقیات اپنا لی اس نے اللہ کا قرب (معرفت) حاصل کر لیا اور خود کو کامیاب کر لیا۔

علامہ اقبال نے بھی اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو اُن کی ذات کی تکمیل کے لیے، تزکیہ نفس (خود کو پاک) کرنے اور بہترین صفات و اخلاقیات سے آراستہ کرنے کا درس دیا ہے تاکہ وہ انسان کے بلند ترین درجہ اشرف المخلوقات کو حاصل کر کے اللہ تعالی کی محبت کے حق دار بن سکیں اور دنیا و آخرت میں کامیابی و سرفرازی حاصل کرسکیں۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

آپ ؒ نے تزکیہ نفس کے لیے، خود کو بلند کرنے، اپنی ذات کی تکمیل کے لئے، اشرف المخلوقات کے درجے کو حاصل کرنے کے لیے صرف ایک ہی رستہ بتایا ہے اور وہ یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ان کی سیرت کی مکمل پیروی کرکے اپنی صفات و اخلاقیات کو بہتر اور بلند کیا جائے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہی


’’ تَزکیہِ نفس‘‘
قرآن و حدیث میں تزکیہ نفس اور نفس کی حالتوں کے بارے میں کیا بیان کیا گیا ہے؟

جیسا کہ قرآن میں کامیابی کا رستہ خود (نفس) کو پاک کرنے کا ارشاد فرمایا گیا ہے۔

۝ ’’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰيهَاﭪ‘‘ (الشمس: ۹)
’’بیشک جس نے نفس (خود) کو برائیوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔‘‘ (قرآن 91:9)

۝ ’’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى‘‘ (اعلٰی: ۱۴)
’’بیشک جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔‘‘ (قرآن 87:14)

۝ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ (الحشر: ۹)
”اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں ۔“ (قرآن 59:9)

اس سے معلوم ہوا کہ نفس (خود) کو برائیوں سے پاک کرنا کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ نفس کو مذموم صفات جیسے تکبر و ریاکاری، بغض وحسد، لالچ وحرص اور دنیا کی محبت وغیرہ سے پاک کرنا اُخروی کامیابی حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔ نفس برائیوں سے اسی وقت پاک ہو سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی جائے۔

۝ ’’وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَخۡشَ ٱللَّهَ وَيَتَّقۡهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ‘‘ (النور: ٥٢)
’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اوراس (کی نافرمانی) سے ڈرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘ (قرآن 24:52)

۝ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا‘‘ (الحزب: ۷۱)
’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔‘‘ (قرآن 33:71)

رسول اللہ ﷺ کا حکم اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور نبی کریم ﷺ کے مقابلے میں کوئی مسلمان اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کا بھی خود مختار نہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے؛

۝ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ(الاحزاب: ۳۶)

”اور کسی مسلمان مرد اور عورت کیلئے یہ نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے کا کچھ اختیار باقی رہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کاحکم نہ مانے تووہ بیشک صر یح گمراہی میں بھٹک گیا۔“ (قرآن 33:36)

تزکیہ نفس کے لیے سیرت رسول اللہ ﷺ بہترين نمونہ ہے:

۝ ’’لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ‘‘(الاحزاب: ۲۱)
’’بیشک تمہارے لئےاللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے اس کے لیے جو الله اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور الله کو بہت یاد کرتا ہے۔‘‘ (قرآن 33:21)

تزکیہ نفس کے لیے، خود کو بلند کرنے، اپنی ذات کی تکمیل کے لئے سیرت رسول اللہ ﷺ کی پیروی واطاعت کا حکم:

۝ ’’قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘ (ال عمران: ۳۱)
اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (قرآن 3:31)

۝ ’’وَ مَاۤ اٰتٰيكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ-وَ مَا نَهٰيكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ‘‘ (الحشر: ٧)
’’اوررسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں تو تم باز رہو‘‘ (قرآن 59:7)


رسول اللہ ﷺ کے اخلاقیات:

حضرت یزید بن بابنوس ؓ سے مروی ہے کہ ہم نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے عرض کی :اے اُمُّ المؤمنین! ؓ، رسول اللہ ﷺ کے اَخلاق کیسے تھے؟ ارشاد فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا خُلق قرآن تھا، پھر فرمایا: ’’تم سورۂ مؤمنون پڑھتے ہو تو پڑھو۔ چنانچہ انہوں نے’’ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ‘‘ سے لے کر دس آیتیں پڑھیں تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا: رسولُ اللہ ﷺ کے اَخلاق ایسے ہی تھے۔‘‘
(مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ المؤمنون، خلق اللہ جنّۃ عدن۔۔۔ الخ ، ۳ / ۱۵۳، الحدیث: ۵۳۳۳ )

ایمانداری، صداقت، عدالت، شجاعت، سخاوت، صابر، شاکر، رزق حلال کے لیے محنت کرنا، وقت کی پابندی کرنا، نمازوں کی حفاظت کرنا، وعدہ پورا کرنا، شرم گاہ کی حفاظت کرنا، نظر کی حفاظت، زبان اور ہاتھ سب دوسروں کو محفوظ رکھنا، مدد کرنا، غصہ روک لینا، معاف کر دینا، رحم کرنا، صلہ رحمی کرنا، بڑوں کا ادب کرنا، چھوٹوں سے شفقت سے پیش آنا، سلام میں پہل کرنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا، اللہ کے عذاب کا خوف دلانا اور رحمت کی امید دینا، فاقہ کشی وغیرہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاقیات و صفات ہیں۔

خود (نفس) کو پاکیزہ کرنے کی دعا:
حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اس طرح دعا مانگا کرتے تھے: ’’اَللّٰہُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوَاہَا وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا‘‘
اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اسے پاکیزہ کر،تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے، تو ہی اس کاولی اور مولیٰ ہے۔
(مسلم ، کتاب الذکر و الدعاء و التوبۃ و الاستغفار ، الحدیث: ۷۳ (۲۷۲۲))

رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا امت کی تعلیم کے لئے ہے، اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ خود (نفس) کو مذموم (بریصفات سے پاک کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پاکی کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا بھی کرے اور اس دعا کے لئے وہ الفاظ سب سے بہترین ہیں جو اوپر حدیث پاک میں مذکور ہوئے۔

6 چیزوں کی ضمانت دینے پر جنت کی ضمانت:
حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ، میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں۔
١. بات بولو تو سچ بولو۔
٢. وعدہ کرو تو پورا کرو۔
٣. تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو اور
٤. اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور
٥. اپنی نگاہوں کو پَست کرو اور
٦. اپنے ہاتھوں کو روکو۔
(مستدرک، کتاب الحدود، ستّ یدخل بہا الرجل الجنّۃ ، ۵ / ۵۱۳، الحدیث: ۸۱۳۰)


وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰيهَاﭪ(۷)فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰيهَاﭪ(۸) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰيهَاﭪ(۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰيهَاؕ(۱۰)
اور نفس کی (قسم) اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا۔ پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری کی سمجھ اس کے دل میں ڈالی۔ بیشک جس نے نفس (خود) کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا ۔ اور بیشک جس نے نفس (خود) کو گناہوں میں چھپا دیا وہ ناکام ہوگیا۔ (قرآن 91: 8-10)

وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ
’’اور ہم نے (انسان کو نیکی اور بدی کے) دونوں راستے دکھا دیے ہیں۔‘‘ (قرآن 90:10)

خود (نفس) کو بری صفات و اخلاقیات و خواہشات سے بچا کر اچھی صفات و اخلاقیات اپنانا ہی تزکیہ نفس (خود کو پاک کانا، بلند کرنا) کہلاتا ہے۔

ارشادِ باری تعالٰیٰ ہے :إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ۔
’’بیشک نفس تو برائیوں کا ہی حکم دیتا ہے۔‘‘ (قرآن 12:53)

جس نے بھی خود (نفس) کو خواہشات کی پیروی میں لگا دیا وہ ناکام ہوگیا اور جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔

جیسا کہ ارشادِ باری تعالٰیٰ ہے:
وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰)فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۴۱)
’’اور نفس کو (بری) خواہش سے روکا۔ تو بیشک جنت ہی (اس کا) ٹھکانہ ہے۔‘‘ (قرآن 79: 40-41)

 


نفس انسانی کی تین حالتیں:
1۔ نفس مطمئنہ۔ ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ
“اے اطمینان والے نفس” (الفجر، 89: 27)

نفس مطمئنہ: جو انسان کو اطاعت الہی اور اللہ کے ذکر فکر میں مطمئن رکھتا ہے اور خواہشات کی کشمش اور گناہوں کے خطراب سے دور رکھتا ہے۔

2۔ نفس لوّامہ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس۔
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ
اور مجھے اس جان کی قسم ہے جو اپنے اوپر ملامت کرے۔ (القیامہ، 75: 2)

نفس لوامہ: جو انسان کو گناہوں پر ملامت کرتا ہے کہ یہ کام بہت برا تھا تم نے کیوں کیا؟ توبہ کرو۔۔۔

3۔ نفس امّارہ۔ گناہ پر ابھارنے والا نفس۔
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ
بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے۔ (یوسف، 12 : 53)

نفس امارہ: جو انسان کو گناہوں بری خواہشات کی پیروی پر آمادہ کرتا ہے۔

نفس کی الگ الگ تین قسمیں نہیں بلک ایک ہی نفس کی مختلف کیفیات وصفات ہیں۔ چنانچہ نفس امارہ ہر نفس کی ذاتی صفت ہے جو شہوت وغضب کے وقت عقل وشرع کے حکم پر غلبہ کرتا ہے۔ لوامہ ہونا بھی ہر نفس کی صفت ہے جس وقت وہ عقل وشرع کی طرف توجہ کرتا ہے اور خیر وشر کے درمیان فرق و پہچان کرتا ہے۔ اور مطمئنہ بھی ہر نفس کی صفت ہے مگر یہ صفت اور کیفیت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ذکر خدا کا نور بدن کے تمام اجزاء پر غالب ہوجاتا ہے۔

نفس امارہ :* قرآن کریم میں نفس کا لفظ تین مختلف معنوں میں آیا ہے، ایک تو یہاں نفس امارہ کے معنوں میں یعنی وہ نفس جو برائی پر ابھارتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اس کو حیوانیت کا نام دیتے ہیں کہ انسان کے اندر نفس امارہ ہے جو انسان کو جانوروں والی حیوانیت اور سفاکیت پر ابھارتا ہے۔

اور جس نے بھی خود کو بری خواہشات سے روکے رکھا وہ کامیاب ہوگیا اور جنت اس کا ٹھکانہ ہے۔


 

تمام انبیائے کرام کی بعثت، اور تمام آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد کیا

قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روشن ہوتی ہے کہ تمام انبیائے کرام کی بعثت، اور تمام آسمانی کتابوں کے نزول کا اصلی مقصد و ہدف تزکیہ نفس ہی رہا ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کی بعثت کے لیے دُعاء فرمائی، اس میں آپ کی بعثت کا اصل مقصد یہی بیان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کا تزکیہ فرمائیں۔

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ(بقرہ ١٢٩)
اور اَے ہمارے رب! تو ان میں اُنہیں میں سے ایک رسول بھیج، جو ان کو تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے، بے شک تو غالب حکمت والا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دُعاء کے مطابق جب حضرت ﷺ کی بعثت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکی بعثت اور اس کے مقاصد کا حوالہ ان الفاظ میں دیا:

1. كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَ (بقرہ ١٥١)
چنانچہ ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں سناتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تم کو وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔

اسی طرح سورہ جمعہ میں آپﷺ کی بعثت اور اس کے اغراض و مقاصد کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ نے بنی اسمٰعیل پر ان الفاظ میں اپنے احسان کا اظہار فرمایا ہے:

2. ۤ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
وہی خدا ہے جس نے امیوں (بنی اسمٰعیل) میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بے شک اس سے پہلے وہ کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ مذکورہ بالا آیات میں نبی ﷺکی بعثت کے مقاصد میں جہاں تزکیّہ کا ذکر آیا ہے وہیں تلاوتِ آیات اور تعلیمِ کتاب و حکمت کا ذکر بھی آیا ہے تو ہم نے آنحضرت ﷺکی بعثت کا اصلی مقصد صرف تزکیہ ہی کو کیسے قرار دیا؟ آخر دوسری چیزیں بھی تو اسی اہمیت کے ساتھ مذکور ہوئی ہیں وہ کیوں اصلی مقصد قرار پانے کی مستحق نہیں ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ خود قرآن مجید کے اسلوبِ بیان نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ مذکورہ آیات میں نبی ﷺ کے اصلی مقصد بعثت کی حیثیت سے جس چیز کا ذکر ہوا ہے وہ تزکیہ ہے۔ باقی اس کے ساتھ دوسری چیزیں ۔(تلاوتِ آیات اور تعلیمِ کتاب و حکمت)جو مذکور ہوئی ہیں تو وہ اصلی مقصد کی حیثیت سے نہیں، بلکہ اصلی مقصد کے وسائل و ذرائع کی حیثیت سے مذکور ہوئی ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سورہ بقرہ کی مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں سے ایک آیت میں تزکیہ کا لفظ سب سے آخر میں آیا ہے اور دوسری آیت میں سب کے شروع میں آیا ہے۔ آیت کے اس تقدیم و تاخیر سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ نبی ﷺکی تمام جدوجہد اور اس کی تمام سرگرمیوں کا محور و مقصود دراصل تزکیہ ہی ہے۔ کیوں کہ اصل مقصد ہی کی یہ اہمیت ہوتی ہے کہ وہ شروع میں بھی ایک کام کرنے والے کے پیش نظر ہوتا ہے اور آخر میں بھی، وہی اس کی تمام سرگرمیوں کا نقطہ آغاز بھی ہوتا ہے اور وہی نقطہ اختتام بھی ،وہیں سے وہ اپنا سفر شروع بھی کرتا ہے اور وہیں اس کو ختم بھی کرتا ہے۔

اس مثال کو سامنے رکھ کر آپ اگر انبیائے کرام کی بعثت کے مقصد کو سمجھنا چاہیں تو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا اصلی مقصد تو لوگوں کے نفوس کا تزکیہ ہی ہوتا ہے اور اسی نقطہ نظر سے وہ اپنی تمام دعوتی اور اصلاحی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہیں لیکن اس مقصد کی خاطر انہیں بہت سے ایسے کام بھی کرنے پڑتے ہیں جو اس مقصد کے حصول کا وسیلہ و ذریعہ ہوتے ہیں۔اس کے لیے وہ اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ کتاب اللہ کی تعلیم دیتے ہیں، اس کے لیے وہ حکمت کا درس دیتے ہیں۔ مگر مقصود ان سارے کاموں سے صرف تزکیہ ہوتا ہے جو شروع میں بھی ان کے پیشِ نظر ہوتا ہے اور آخر میں بھی وہی ان کی تمام جدوجہد کی غایت بنتا ہے۔ چنانچہ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے مذکورہ بالا آیات میں سے ایک آیت میں اس کو نبی ﷺکی تمام سرگرمیوں کے نقطہ آغاز کی حیثیت سے نمایاں کیا ہے اور دوسری آیت میں اس کی غایت اورمنتہا کی حیثیت سے۔

اوپر کے مباحث سے تین باتیں واضح ہوئیں:۔

1. ایک یہ کہ تزکیہ تمام دین و شریعت کی غایت اور تمام انبیاء کی بعثت کا اصلی مقصود ہے، دین میں جو اہمیت اس کو حاصل ہے وہ اہمیت دوسری کسی چیز کو بھی حاصل نہیں ہے۔ دوسری ساری چیزیں وسائل و ذرائع کی حیثیت رکھتی ہیں اور یہ چیز غایت و مقصد کی حیثیت رکھتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی سرگرمیاں، خواہ ظاہر میں کتنے ہی مختلف پہلو رکھتی ہوں لیکن باطن میں ان کا ہدف انسان اور انسانی معاشرہ کے تزکیہ ہے۔

2. دوسری بات یہ واضح ہوئی کہ تزکیہ کا سرچشمہ اور اس کا منبع و مصدر اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اسی کی تعلیم سے تزکیہ کا آغاز ہوتا ہے اور پھر اسی کے اسراروحقائق ہیں جو نبی ﷺ کے ذریعہ سے واضح ہو کر اس تزکیہ کی تکمیل کرتے ہیں۔

3. تیسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ تزکیہ کا عمل انسانی معاشرہ کے کسی گروہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام افراد اور تمام گروہوں بلکہ پورے معاشرہ سے یکساں طور پر ہے، کوئی شخص بھی اس کے بغیر آخرت میں نجات اور فلاح حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کی حیثیت دین میں صرف ایک فضیلت کی نہیں ہے بلکہ ہر شخص کے لیے ایک ناگزیر انفرادی ضرورت کی ہے۔ یہ نجات اور فلاح آخرت کے لیے ایک ضروری شرط ہے ۔

تزکیہ کا معنی:

عربی زبان میں تزکیہ کا مفہوم کسی چیز کو صاف ستھرا بنانا، اس کو نشو ونما دینا، اور اس کو پروان چڑھانا ہے۔ اور اس کا اصطلاحی مفہوم نفس کو غلط رحجانات و میلانات سے موڑ کر نیکی اور خدا ترسی کے راستہ پر ڈال دینا اور اس کو درجہ کمال پر پہنچنے کے لائق بنانا ہے۔

نفس کیا ہے :

اِنسان کے جسدِ خاکی میں معصیت کا گہرا شعور رکھنے والی اور اُس سے بچنے(اِجتناب ) کے طریقوں سے بھی آگاہ رہنے والی ایک فعال ، متحرک اور خود مختار قوتِ حاکمہ ہوتی ہے؛ جو اِنسان کو بد اعمالی اور گُناہ پر اکساتی بھی ہے اور اس سے بچاؤ کے طریقے بھی سُجھاتی ہے ؛ نیز کبھی کسی بد کرداری کے ظہور پر لعنت و ملامت بھی کرتی ہے۔ وہ متضاد داخلی کیفیات کی حامل ہوتی ہے، کبھی معصیتوں اور بد اعمالیوں کا اصل منبع ہو اکرتی ہے اور کبھی حسنات و اعمالِ صالحہ کے لیے داعی و محرک ہو کر رُشدوخیر کے لیے بُنیادی سرچشمہ بن جاتی ہے۔ بالفاظِ دیگر وہ روح اور جسم کے درمیان ایک پل کا کام دیتی ہے، یہی قوتِ حاکمہ “نفس” (SELF)کہلاتی ہے۔ قرآنِ پاک میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

1. وَ نَفسٍ وَّمَا سَوّٰھَا فَاَلھَمَھَا فُجُورَھَا وَ تَقوٰھَا ، قَد اَفلَحَ مَن زَکّٰھَا (الشمس :9)
قسم نفس کی اور جس نے اسے ہموار کیا، پھر اس کی بدی اور اس کی پر ہیز گاری اس پر الہام کر دی۔ یقیناً وہ فلاح پا گیا، جس نے اس کا تزکیہ کیا۔

نفس کا معنی :

لغت میں نفس کے مختلف معنی وارد ہوئے ہیں مگر قابل ذکر چند یہ ہیں : جان ، روح ، ذات، شخصیت، حقیقت امر مگر اِصطلاحاًنفس وہ شیٔ ہے جو اِنسان کے اندر غضب اور خواہش و شہوات کی جامع ہو۔


اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اسی انسان کو کامیاب قرار دیا ہے جو نفس کا تزکیہ کر لیتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

‏۝ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۴﴾ (سورہ اعلیٰ۔14)
“کامیاب ہو گیا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔”

‏۝قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾ (سورہ الشمس۔9)
“فلاح پاگیا وہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا۔”

نفسانی خواہشا ت کے پیچھے بھاگنا دراصل نفس پرستی ہے اور یہ بھی بت پرستی کی ہی قسم ہے نفسانی خواہشات (برائیوں، بیماریوں) کی اتباع کرنا شرک ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے شرکِ عظیم قرار دیا ہے

قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
‏۝ اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ o(الجاثیہ23)
“کیا آپ (ﷺ) نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے نفسانی خواہشات کو اپنا معبود (خدا)بنا رکھا ہے۔

‏۝ اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ (الفرقان۔ 43)
“کیا آپ (ﷺ) نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے نفسانی خواہشات کو اپنا معبود (خدا)بنا رکھا ہے۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے :

میں جو سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نفس سے جنگ کرکے اِس کاتزکیہ کرنے کو جہادِ اکبر کا نام دیا ہے اور جب نفس اِن تمام بیماریوں اور خواہشوں سے نجات پا لیتاہے تو اس کا تزکیہ ہو جاتا ہے۔

جب تک یہ سب بیماریاں، برائیاں ، خواہشات، شہوات باطن سے نکل نہیں جاتیں اس وقت تک نفس کا تزکیہ نہیں ہو سکتا اورجب نفس کا تزکیہ مکمل ہو کر انسان ان تمام برائیوں سے نجات پاکر پاک ہو جاتا ہے تو اس کا قلب(باطن) انوارِ الٰہی سے جگمگا اٹھتا ہے اور پھر وہ خالص اپنے ربّ کی عبادت میں مصروف ہوجاتا ہے۔

لیکن یہ نفس کیا ہے؟

ﷲ تعالیٰ نے انسانی نفس کو بڑا عجیب بنایا ہے۔ یہ خواہشات کی آماجگاہ ہے، ہر طرح کی بُری خواہشات اور باغیانہ خیالات اسی میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہی انسان کو اﷲ تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانی کے متعلق ابھارتا ہے اور یہی شہوت کے وقت حیوانوں جیسی حرکتیں کرتا ہے۔ غصہ میں درندوں کی طرح اظہارِ وحشت کرتاہے، جب بھوکا ہوتا ہے تو حلال و حرام کی تمیز کھو دیتا ہے اور جب سیر ہوتا ہے تو باغی، سرکش اور متکبرہو جاتا ہے۔ مصیبت کے وقت بے صبروں کی طرح آہ و زاری کرتا ہے غرضیکہ انسان کا نفس کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتا۔انسان کو ہر وقت نت نئے فتنوں میں مبتلا کرنے کے درپے رہتا ہے اور جو اس کو قابو میں لاتا ہے وہی ’’وصالِ الٰہی‘‘ کی منزل تک پہنچتا ہے۔

لیکن اس کی اصلاح کرنا بڑا ہی مشکل ہے اور نفس کا تزکیہ کرنا ہی دل کی حیات ہے۔ نفس کیا ہے؟ نفس انسانی بدن میں ایسا چور ہے جو انسان کو ﷲ تعالیٰ کی طرف مائل نہیں ہونے دیتا۔ نفس بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجابِ اکبر ہے۔ انسانی وجود کے لئے نفس اور شیطان دو ایسی قوتیں ہیں جو ہمیشہ فطرتِ انسانی کو گناہوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ شیطان جب آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے لعنتی ہوا تو اُس نے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی دشمنی اور اس کو گمراہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ جب آدم علیہ السلام کا بت تیار ہو چکا تو شیطان نے حسد اور نفسانیت کی وجہ سے اس پر تھوک دیا۔ یہ تھوک حضرت آدم علیہ السلام کے ناف کے مقام پر جا پڑی جس سے آدم کے وجود میں نفس کی بنیاد پڑی۔ نفس شیطان کا قدیمی ہتھیار ہے اور وہ بنی آدم کے وجود میں نفس کے اِسی مورچے سے زہر بھرے تیر چلا کر انسان کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ لیکن اگر یہی نفس شیطان کے اثر سے نکل کر بنی آدم کے کنٹرول میں آ جائے تو ﷲ اور بندے کے درمیان سے حجاب اٹھ جاتا ہے۔

نفس کے چارمراتب ہیں۔ جوں جوں طالب مرشد کامل اکمل کی صحبت میں ’’ذکر اور تصورِ اسمِ اللہ ذات‘‘ میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ نفس کا تزکیہ ہو تا چلا جاتا ہے۔ اول نفس ِامارہ ہوتا ہے۔ اسے نفس ِ امارہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ ہر وقت برائی کا امر کرتا ہے۔

جیسا کہ ﷲ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے:
‏۝ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ۔ (سورہ یوسف۔53)
“بیشک نفس ِ امارہ بُرائی کا امر کرتا ہے۔”

یہ نفس کفار‘ مشرکین‘ منافقین ‘فاسقین‘ فاجر اور دنیا دار لوگوں کا ہوتا ہے۔ اگر اس کی اصلاح اور تربیت نہ کی جائے تو یہ اپنی سرکشی ،بغاوت اور طغیان میں ترقی کرتا ہے اور انسان سے حیوان‘ حیوان سے درندہ بلکہ مطلق شیطان بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں نفس کی باطنی بیماری لاعلاج ہو جاتی ہے اور وہ بالآخر ہلاک ہو جاتا ہے۔

اور اگر نفس کی اصلاح اور نیک تربیت شروع ہو جائے تو وہ بتدریج باطن میں عالم ِملکوت اور حیاتِ طیبہ کی طرف ترقی کرتا ہے اور اس انسان کا نفس امارہ سے لوامہ ہو جاتا ہے۔ لوامہ کے معنی ہیں ملامت کرنے والا۔ یعنی گناہ پر انسان کو اپنا نفس ملامت کرتا ہے اور پشیمانی دلاتا ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تائید ِغیبی اور توفیق ِباطنی چونکہ ایسے نفس کے شامل ِحال رہتی ہے لہٰذا گناہ پر نفس انسان کو شرمسار کرتا رہتا ہے۔ ایسے نفس کو موت‘ روزِ قیامت اور حساب کتاب وغیرہ ہر وقت یاد رہتے ہیں۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبانی روزِ قیامت کے ساتھ ایسے نفس کی بھی قسم اٹھاتا ہے:

‏۝ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِo وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ۔(القیٰمَۃ 2-1)
’’خبردار میں قسم کھاتا ہوں روزِ قیامت کی اور نیز قسم کھاتا ہوں نفس ِلوامہ ( گناہوں پر ملامت کرنے والے نفس) کی۔

اسکے بعد نفس کا جب تزکیہ ہوتا ہے تو وہ لوامہ سے ملہمہ ہو جاتا ہے۔ ایسا نفس گناہ کے ارتکاب سے پہلے اہل ِ نفس کو تائید ِ غیبی سے الہام کرتا ہے کہ خبردار! اﷲ تعالیٰ سے ڈرو۔ گناہ سے باز آ جائو۔ ایسے نفس کا نقشہ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے:

‏۝ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰیo فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی (النّٰزعٰت41-40)
’’اور جو شخص قیامت کے روز اﷲ کے روبرو حساب کے لئے کھڑا ہونے سے ڈرا اور اُس نے اپنے نفس کو شہوات اور خواہشا ت ِ نفسانی سے باز رکھا پس ایسے شخص کا ٹھکانہ بیشک بہشت ہے۔‘‘

یہ نفس ِملہمہ انسان کو ارتکابِ گناہ کے وقت تائید ِغیبی کے ذریعے یا الہام سے گناہوں اور غلط کاموں سے روکتا ہے اور یہ الہام مختلف طریقوں سے ہوا کرتا ہے۔ بعض دفعہ انسان کو صحیح دلیل اور خیال کے ذریعے گناہ سے روکتا ہے۔ بعض کو غیب سے الہام کے ذریعے بے صوت و آواز القا ہوتا ہے اور بعض دفعہ خواب کے ذریعے آگاہ کیا جاتا ہے جس سے انسان کے دل میں خوفِ خدا موجزن ہو جاتا ہے اور انسان گناہ سے باز آ جاتا ہے۔ اس کے بعد جب نفس باطن میں ترقی اور عروج حاصل کرتا ہے اور اس کا تزکیہ ہو جاتا ہے تو وہ ’’نفس ِمطمئنہ‘‘ ہو جاتا ہے۔ گویا نفس اس ازلی راہزن شیطان اور اپنے امراض سے نجات پا کر اپنی منزل دارالامان اور منزلِ حیات تک پہنچ کر اپنے مقصود کو پا لیتا ہے۔ جو مقامِ لاتخف ولاتحزن (خوف و غم سے امن کا مقام) ہے۔

‏۝ اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ۔ (یونس۔62)
“بے شک اولیا ء کرام کو نہ تو کوئی غم ہوتا ہے اور نہ کوئی خوف۔”

ایسے نفس والا سالک ﷲ تعالیٰ کا دوست اور مقرب بن جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس سے راضی اور وہ اﷲ سے راضی ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اﷲ ایسے اہل ِ نفس ِ مطمئنہ کے حق میں فرماتا ہیں:

‏۝ یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ﴿٭ۖ۲۷﴾ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾ وَ ادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ ﴿٪۳۰﴾ (الفجر 30-27)
’’اے نفس ِمطمئنہ! لوٹ اﷲ تعالیٰ کی طرف ۔ ایسی حالت میں کہ وہ تجھ سے راضی ہے اور تو اُس سے راضی ہے۔ پس میرے بندگانِ خاص کے حلقے میں شامل اور میری بہشت ِ قرب و وصال میں داخل ہو جا‘‘۔

تزکیہ نفس کا نبوی طریق

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ ملے تو انہوں نے میری خیریت پوچھی کہ اے حنظلہ رضی اللہ عنہٗ کیا حال ہے ؟ میں نے کہا کہ حنظلہ منافق ہوگیا ہے۔ آپؓ نے فرمایا یہ کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں اور ان کی محفل میں حاضر ہوتے ہیں اور جب آپ جنت دوزخ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دل میں ایمان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی یاد نہیں رہتا اور دل اللہ کی محبت اور عشق سے لبریز ہو جاتے ہیں لیکن جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ اور نظر کے سامنے سے ہٹ کر دنیاوی کاموں یعنی گھروں اہل و عیال اور مال و جائیداد میں مصروف ہو جاتے ہیں تو یہ حالت برقرار نہیں رہتی۔ دل میں اللہ سے محبت کی بھی وہ حالت نہیں رہتی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے جب یہ سنا تو فرمایابخداہماری بھی یہی حالت ہے۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ وہاں سے چلے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے ؟۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا وہ کیسے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب میں آپ کی نگاہ کے سامنے آپ کی بارگاہ میں ہوتا ہوں تو میرے ایمان کی حالت کچھ اور ہوتی ہے اور جب ہم اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور اپنے اہل و عیال اورکاروبار میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ہمارے دل میںایمان کی حالت وہ نہیں رہتی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں ہوتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تمہاری حالت ہمیشہ ایسی ہی رہے جیسی کہ میرے پاس اور میری محفل میں ہوتی ہے تو فرشتے آرام گاہوں اور راستوں میں تمہارے ساتھ مصافحہ کریں لیکن اے حنظلہ یہ گھڑی کبھی کبھی میسر آتی ہے ‘‘( یعنی یہ صرف میری صحبت اور نظر کے سامنے ہی میسر آتی ہے )۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھ سے اپنی جان‘ مال اور اولاد سے زیادہ محبت نہیں رکھتا ۔تو یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا کہ حضور میں اپنے اندر یہ کیفیت محسوس نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ مبارک رکھ کر فرمایا اب تم کیا محسوس کرتے ہو؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ فوراً بول اٹھے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اب میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات پاک مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔

قرآن پاک میں تزکیہ نفس کے نبوی طریق کو یوں بیان فرمایا گیا ہے:
ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭۔ (الجمعہ۔2)
ترجمہ: ‘‘ وہی اللہ جس نے مبعوث فرمایا اُمیوں میں سے ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) جو پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیاتِ قرآنِ پاک اور (اپنی نگاہ ِکامل سے ) ان کا تزکیہ نفس(نفسوں کو پاک) کرتا ہے اور کتاب کا علم اور حکمت ( علم ِ لد ّنی ) سکھاتا ہے‘‘۔

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صحابہ کرامؓ کو قرآنِ پاک کی تعلیم دیتے پھر نگاہِ کامل سے ان کا تزکیہ فرماتے تاکہ اُن کے قلوب پاک ہو کر قرآن کے نور کو جذب کرنے کے اہل ہو سکیں۔اور پھر جب نفس کا تزکیہ ہوجاتا تو تصفیہ قلب خود بخود ہو جاتا اور جلوۂ حق آئینہ دِل میں صاف نظر آنے لگتا اور دِل جلوۂ حق کے لیے بے قرار رہنے لگتا۔ یہ بے قراری دراصل عشقِ الٰہی کا آغاز ہے اور یہ عشق و محبت کا شعلہ اچھی صحبت ہی سے بھڑکتا ہے اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت سے صحابہ کرامؓ کو ذکرِ اللہ نصیب ہوا اور ذکرِ اللہ (اسمِ اللہ ذات) کے ذریعے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت سے صحابہ کرامؓ کا ظاہر و باطن پاک و طاہر ہو گیا اور ان کے اندر معرفت ِ الٰہی کی سچی تڑپ پیدا ہوئی تو آقا دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لطف و کرم اور عطا کا پیالہ پلادیا اور اس کے پینے سے صحابہ کرامؓ کا یزکیھم کا مرحلہ طے ہو گیا اور نفوس کا تزکیہ ہو گیا اور جب نفس پاک ہوگئے تو اس قابل ہوگئے کہ انہیں یُعَلِّمُھُمْ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃَج کے مرحلے سے گزارا جائے ان کے دِل اتنے پاک اور وسیع ہوگئے کہ قرآنِ پاک اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور حکمت کا شیریں اور خالص دودھ ڈال کر لبالب بھر دیا گیا۔

یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتہٖ اور یُزَکِّیْھِمْ کے درمیان ’’و‘‘ ہے جو دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر رہی ہے اور قرآنِ پاک کی اس آیت ِ مبارک سے یہ بات بڑی اچھی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ تزکیہ علیحدہ چیز ہے اور تعلیم ِ قرآن علیحدہ۔ کیونکہ اس آیت ِ مبارکہ میں یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتہٖ سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا صحابہ کرامؓ کو علم ِ قرآن یعنی ’’علم ِ تزکیہ‘‘ عطا کرنا اور یزکیھم سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ‘‘ حالت ِ تزکیہ‘‘ عطا کرنا ہے اور ’’علم ِ تزکیہ‘‘ اور ’’حالت ِ تزکیہ‘‘ میں بڑا فرق ہے اور ان دونوں کو جمع کرنے سے ہی کمال حاصل ہوتا ہے۔ ’’ حالت ِ تزکیہ‘‘ عطا کرنے کے واقعات کا تذکرہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔

اور پھر ان کو وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (کتاب کا علم اور علم ِ حکمت یعنی علم ِ لد ّنی سکھایا جاتا ہے)۔ تزکیہ نفس کے بعد معرفت ِ حق تعالیٰ حاصل ہوجاتی ہے اور تمام کائنات اُن کے تصرف میں آجاتی ہے اس کی مثال حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی حضرت بر خیا کی ہے جنہوں نے پلک جھپکنے سے بھی قبل تخت ِ بلقیس کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر کر دیا تھا۔ قرآنِ پاک ان صحابی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ’’ان کے پاس کتاب کا علم تھا۔‘‘ یہی وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ کی حالت ہے جو تزکیہ نفس کے بعد حاصل ہوتی ہے۔

اور پھر ہم بہت سے حیران و پریشان لوگوں کے بارے میں سنتے ہیں کہ وہ قرآنِ حکیم کو پڑھتے ہیں بلکہ قرآن کے حافظ ہیں اس کے علاوہ بہت سے علوم سے اور خاص کر تزکیہ کے بارے میں علم بھی رکھتے ہیں او ر وہ شیطانی اور نفسانی و ساوس کے بارے میں جانتے بھی ہیں اور اس کے بارے میں لمبی لمبی تحریریں لکھتے اور تقریریں کرتے ہیںلیکن اس کے باوجود عبادات کے دوران مختلف قسم کے وساوس اور تصورات سے نجات نہیں پا سکتے کیونکہ انہیں تعلیمِ تزکیہ تو حاصل ہے لیکن ’’حالتِ تزکیہ‘‘ حاصل نہیں ہوئی۔

اس طرح اہلِ تصوف میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جنہوں نے تصوف کی کتب پڑھ کر علمِ تزکیہ کے بارے میں جان لیا یا کسی مرشد کے مریدین کے پاس بیٹھ کر اُن کی گفتگو سے تصوف کے بارے میں اورتزکیۂ نفس کے بارے میں علم حاصل کر لیا یا کسی مرشد کے بیعت تو ہو گئے لیکن طلب ِ ناقص کی وجہ سے مشاہدہ اور راہِ سلوک کی منازل طے نہ کیں۔ اُن کو بھی ’’تعلیم ِ تزکیہ‘‘ تو حاصل ہے لیکن’’ حالتِ تزکیہ‘‘ نہیں ۔ صحابہ کرامؓ نے ’’ تزکیۂ نفس‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہ ، صحبت اور محفل پاک سے حاصل کیااور فرمایا گیا کہ میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پائو گے۔ اس طرح نورِ معرفت ِ حق کا یہ خزانہ صحابہ کرامؓ کے بعد تابعین کو پھرتبع تابعین کو صحبت سے منتقل ہوا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت تا قیامت قائم رہنے والی ہے اس لئے رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقراء اور عارفین کو اپنا جانشین بنایا ہے اور انہیں لوگوں کا تزکیہ نفس کرنے کا علم ِ نور عطا فرمایا ہے۔

جس طرح طبّ ِ جدید میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انسان خود اپنا علاج نہیں کر سکتا خواہ وہ میڈیکل کی کتنی ہی کتب کیوں نہ پڑھ ڈالے بلکہ اسے علاج کے لئے اسی مرض کے سپیشلسٹ کے پاس جانا پڑے گا۔ تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کسی مرد ولی کامل کے بغیر کتاب و سنت کا محض مطالعہ کرنے سے ہی تزکیہ نفس ہو جائے۔ اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی علم محض کتب پڑھ کر حاصل نہیں ہوتا اس کے لیے استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر صرف کتاب کا مطالعہ ہی کافی ہوتا تو اللہ تعالیٰ انبیاء کرام کا طویل سلسلہ نہ بھیجتا۔

مندرجہ بالا بحث سے یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ محض قرآنِ کریم کی تلاوت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک اپنے نفوس کا علاج نہیں کر سکتے تھے بلکہ وہ بھی محمدی شفا خانہ میں حاضرہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے نفوس کا تزکیہ فرماتے اور ان کو نگاہ سے علم و حکمت یعنی علم ِ لد ّنی عطا فرماتے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاداتِ مبارکہ ہیں:

میری امت کے آخر ی دور میں اس طرح ہدایت پہنچے گی جیسے میں تمہارے درمیان پہنچا رہا ہوں۔(مسلم)

ومن مات لیس فی عنقہ بیعۃ جاھلیۃ

ترجمہ: جوکوئی اس حالت میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت کاطوق نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرا۔(روایت ابن ِ عمرؓ)

جس نے اپنے زمانے کے امام کو ادراکِ قلبی (باطن کے ذریعہ ) سے دریافت نہ کیا پس تحقیق وہ جہالت کی موت مرے گا۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد مبارک ہے : ’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور ان کے مخالفین ہرگز ان کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے تو وہ اسی حالت پر قائم ہوں گے ‘‘۔ (مسلم و بخاری)

پس جس نے ان کی نصرت و اعانت کی وہ دین کا معین اور مددگار ہو ا او ر جن لوگوں نے ان کی غلامی کی زنجیر گلے میں ڈالی وہ فلاح پاگئے۔

یوں تو اولیاء فقراء اور عارفین سے دنیا کا کوئی گوشہ بھی خالی نہیں ہے اور لوگ ان سے فیض یاب ہو رہے ہیں اور ان کی صحبت‘ نگاہ اور توجہ مجرب اور تریاق اور اصلاحِ نفوس‘ تہذیب اخلاق ‘ عقیدہ کی پختگی اور رسوخِ ایمان کے لئے مؤثر عملی علاج ہے۔ کیونکہ یہ عملی اور وجدانی خصائل ہیں جنہیں اتباع‘ پیروی‘ قلبی تعلق اور روحانی تاثیر سے حاصل کیا جاتا ہے۔

ایسے بے شمار واقعات احادیث اور اولیاء کرام کی تعلیمات میںموجود ہیں اور اس سے ان لوگوں کی غلط فہمی دور ہو جانی چاہیے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفسی ‘ قلبی اور روحانی امراض کا علاج خود کرسکتے ہیںاور محض قرآنِ پاک کی تلاوت اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی احادیثِ مبارکہ پڑھ کر ان بیماریوں سے خلاصی پا سکتے ہیں کیونکہ کتاب و سنت میں قلبی و نفسانی علاج کیلئے مختلف قسم کی ادویات کا ذکر ہے۔ لیکن ان ادویات کے استعمال کا طریقہ کوئی طبیب( مرشد ِ کامل ) ہی بتلا سکتا ہے

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے مرشد ِکامل کو طبیب کہا ہے۔ ’’مرشد طبیب(ڈاکٹر) کی مثل ہوتا ہے او رطالب مریض کی مثل۔‘‘ (عین الفقر)

یعنی نفس کے امراض کا علاج کوئی مردِ کامل ہی اپنی نگاہِ کامل سے کر سکتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

کامل مُرشد ایسا ہووے‘ جیہڑا دھوبی وانگوں چھَٹے ھُو

نال نگاہ دے پاک کریندا ‘ وِچ سجی صبون نہ گھتے ھُو

میلیاں نوں کر دیندا چِٹا‘ وِچ ذَرّہ میل نہ رَکھے ھُو

ایسا مرشد ہووے باھوؒ جیہڑا‘ لوں لوں دے وِچ وَسے ھُو

مفہوم:آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مرشد کامل کو دھوبی کی طرح ہونا چاہیے جس طرح دھوبی کپڑوں میں میل نہیں چھوڑتا اور میلے کپڑوں کو صاف کردیتا ہے اسی طرح مرشد کامل اکمل طالب کو ورد و وظائف ،چلہ کشی ،رنج ریاضت کی مشقت میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اسمِ اللہ ذات کی راہ دکھا کر اور صرف نگاہِ کامل سے تز کیۂ نفس کر کے اس کے اندر سے قلبی اور روحانی امراض کا خاتمہ کرتا ہے اوراسے خواہشاتِ دنیااور نفس سے نجات دلاکر غیر اللہ کی محبت دل سے نکال کر صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میںغرق کردیتا ہے۔ ایسا مرشد تو طالب کے لُوں لُو ں میں بستا ہے۔

حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

دین مجو اندر کتب اے بے خبر
علم و حکمت از کتب دیں از نظر

ترجمہ: ’’ اے بے خبر دین کتابوں میں تلاش نہ کر، علم و حکمت تو کتب سے مگر دین نظر سے ملتا ہے ‘‘۔

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں ہے
تیرا علاج ’’نظر‘‘ کے سوا کچھ اور نہیں ہے

٭٭٭٭

فقط ’’نگاہ‘‘ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شو خی تو دلبری کیا ہے

مرشد ِ کامل اکمل بھی وہ ہو جو اسمِ اللہ ذات کا نہ صرف علم اور تصرف رکھتا ہو بلکہ صاحب ِ مسمّٰی اسمِ اللہ ذات ہو۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اسی مرشد کی صحبت میں تصورِ اسمِ اللہ ذات کے بارے میں فرماتے ہیں:

٭ ’’جس شخص کا نفس ابتدا میں سرکش اور امارہ ہوتا ہے تو تصورِ اسمِ اللہ ذات کی مشق کرنے سے پہلے لوامہ بنتا ہے، پھر ملہمہ اور آخر میں مطمئنہ بن جاتا ہے۔‘‘(کلید التوحید کلاں)

٭ ’’تصورِ اسمِ اللہ ذات کی مشق سے آدمی کے وجود میں نفس بیمار ہوجاتا ہے گویا اُسے خَسرے کی بیماری لاحق ہوگئی ہے تصورِ اسمِ اللہ ذات سے نفس کو ایسی بے قراری لاحق ہو جاتی ہے کہ اسے کسی پل آرام نہیں آتا بلکہ اس کی ہستی ہی مٹ جاتی ہے۔ یہ نافرمان نفس (نفس ِ امارہ) فرمانبردار (نفسِ مطمٔنہ) بن جاتا ہے اور پھر ایک غلام کی طرح ہمیشہ زیرِ فرمان رہتا ہے۔(کلید التوحید کلاں)

جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت‘ نگاہ‘ اورتوجہ صحابہ کرامؓ کے دلوں میں انوار و یقین کو اجاگر کرتی اور نفوس میں ایمان کی چنگاری کو روشن کرتی اور ان کی روحوں کو مقدس فرشتوں کی سطح سے بھی بلند کرکے ان کے دلوں کو مادی آلودگیوں سے پاک کرتی اور ان کو دیدارِ الٰہی کی نعمت سے ہمکنار کرتی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جانشینوں کی نگاہ‘ توجہ اور صحبت نفوس کو پاک کرتی ہے اور ایمان میں زیادتی کا باعث اور زنگ آلود قلوب کو صیقل کرکے ان میں اللہ تعالیٰ کی یاد کو تازہ کرتی ہے۔ ان لوگوں کی مجالس اور محفل سے دوری غفلت کا سبب اور دل کا دنیا میں مشغول ہونے اور اس نا پائیدار زندگی کی طرف رجحان کو بڑھاتی ہے۔ کوئی بھی انسان نفس کے امراض سے نہ تو خالی ہے اور نہ ہی ان کی تشخیص بذاتِ خود کر سکتا ہے۔ کوئی بھی انسان نفس کے امراض یعنی ریاکاری، نفاق، حُبِّ دنیا ، حُبُّ الشَہوات، بغض ، کینہ ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ، شہوتِ عزوجاہ دنیا، زنا، مال و دولت اور زر پرستی،طمع، حرص، لالچ، جھوٹ، بہتان، گلہ گوئی ، غفلت، تکبر، انانیّت، عجب یعنی خود پسندی،فخرو غرور، بُخل، غیبت، عصبیّت، قوم پرستی، قبیلہ پرستی ،مسلک یا فرقہ پرستی، ظلم و تشدد، اپنے اپنے علاقہ، قبیلہ اور قوم کی محبت، اپنے مذہبی، سیاسی رہنمائوں کی محبت خواہ شیطان کے چیلے ہوں، سے خالی نہیں ۔ جب تک ان میں سے ایک بھی بت قلب (باطن) میں ہے، کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ۔

لیکن آج کل کے انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دین ایمان اور تقویٰ میں سب سے راسخ اور کامل سمجھتا ہے اور یہ جہالت اور گمراہی ہے جیسے کہ ارشادِ خداوندی ہے:

قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالاً o اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًاo
ترجمہ:’’( اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) فرمادیجیے ٔ کیا ہم مطلع کریں ان لوگوں کو جو اعمال کے لحاظ سے گھاٹے میں ہیں یہ وہ لوگ ہیںجن کی ساری جدوجہد دیناوی زندگی کی آراستگی میں کھوگئی اور وہ یہی خیال کر رہے ہیں کہ وہ بہت عمدہ کام کر رہے ہیں‘‘۔ (الکہف۔103-104)

اور امامِ صدیقین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کا یہ فرمان اِس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ تزکیہ نفس کے نبوی طریق کے علاوہ کوئی اور طریقہ کار گر نہیں ہے:

لَاۡ یُصْلِحْ آخِرِ ھٰذِہِ الْاُ مَّۃِ اِلَّا بِھَا صَلَحَ بِہٖ اَوَّ لِھَا۔ (راوی امام مالکؒ)

ترجمہ:امت کے آخری حصہ کی اصلاح اسی طریقہ پر ہوگی جس طریقہ پر امت کے پہلے حصہ کی اصلاح ہوئی تھی۔‘‘

یاد رکھیں!

تزکیہ…ایک باطنی قوت ہے۔ جو شخص خیر،بھلائی یا نیکی کاکام کرنا چاہتا ہے اسے سب سے پہلے جس قوت کی ضرورت پیش آتی ہے وہ تزکیہ ہے۔ پہلے اپنا تزکیہ کریں اور اپنے آپ کو درست کریں، دوسروں کا تزکیہ کرنا اور دوسروں کو درست کرنا بعد کی بات ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: