(Asrar-e-Khudi-01) (اسرار خودی : تمہید) Asrar-e-Khudi : Tamheed

تمہید

“نیست در خشک و تر بیشۂ من کوتاہی”

“چوب ہر نخل کہ منبر نشود دارکنم”

نظیری نیشابوری

(میرے جنگل کے خشک و تر میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کار آمد نہ ہم؛ جس درخت کی لکڑی منبر بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی میں اس سے سولی بنا دیتا ہوں) (منبر پر سے وعظ کہا جاتا ہے اور سولی سے مراد شہدا کا مقام ہے۔)

نظیری نیشا پوری۔

راہ شب چون مہر عالمتاب زد

گریۂ من بر رخ گل ، آ ب زد

(جب دنیا کو روشن کرنے والے آفتاب نے رات کو ختم کر دیا؛

تو میرے آنسوؤں نے پھول کے چہرے پر پانی چھڑکا۔)

اشک من از چشم نرگس خواب شست

سبزۂ از ہنگامہ ام بیدار رست

(میرے آنسوؤں نے نرگس کی آنکھ سے خواب کا اثر دھو دیا؛

میرے شور سے سبزہ بیدار ہو کر زمین سے نکل آیا۔)

باغبان زور کلامم آ زمود

مصرعے کارید و شمشیرے درود

(باغبان (فطرت) نے میرے کلام کے زور کو آزمایا؛

مصرع بویا اور شمشیر کاٹی (مصرع بویا تو وہ بڑھ کر شمشیر بن گیا)۔

در چمن جز دانۂ اشکم نکشت

تار افغانم بہ پود باغ رشت

(اس نے باغ میں میرے آنسو کے دانے کے علاوہ اور کچھ نہ بویا؛

اس نے میری فغاں کے تار کو باغ کے پود سے ملا دیا (تار و پود سے کپڑا بنا جاتا ہے)۔

ذرہ ام مہر منیر ن من است

صد سحر اندر گریبان من است

(گو میں ایک ذرّہ ہوں لیکن سورج کی ساری روشنی میرے ایک لحظہ کے برابر ہے؛

میرے گریبان میں سینکڑوں صبحیں مستور ہیں (میں ہر روز ایک نئی صبح طلوع کر سکتا ہوں)۔

خاک من روشن تر از جام جم است

محرم از نازادہای عالم است

(میری خاک جمشید کے جام سے زیادہ روشن ہے؛

میں ان واقعات سے با خبر ہوں جو ابھی دنیا کے اندر وجود میں نہیں آئے۔)

فکرم ن ہو سر فتراک بست

کو ہنوز از نیستی بیرون نجست

(میرے فکر نے (معنی کے) وہ غزال اپنے شکار بند میں باندھ لیے ہیں؛

جو ابھی تک عدم سے وجود میں نہیں آئے۔)

سبزہ نا روئیدہ زیب گلشنم

گل بشاخ اندر نہان در دامنم

(وہ سبزہ جو ابھی اگا نہيں میرے گلشن فکر کی زیب و زینت ہے؛

پھول جو ابھی شاخ سے پھوٹے نہیں وہ میرے دامن ( فکر) میں ہیں۔)

محفل رامشگری برھم زدم

زخمہ بر تار رگ عالم زدم

(میں عیش و طرب کی محفل برہم کرنے والا ہوں؛

یں رگ عالم کے تار کو اپنے مضراب سے چھیڑتا ہوں۔)

بسکہ عود فطرتم نادر نوا ست

ہم نشین از نغمہ ام نا شنا ست

(کیوں کہ میری فطرت کے ساز سے نادر نغمے پیدا ہو رہے ہیں؛

اس لیے میرے پاس بیٹھنے والے نغمے سے ناواقف ہیں۔)

در جہان خورشید نوزائیدہ ام

رسم و ئین فلک نادیدہ ام

(میں دنیا میں ایک نیا طلوع ہونے والا سورج ہوں؛

میں نے ابھی آسمان کے طور طریقے نہیں دیکھے۔)

رم ندیدہ انجم از تابم ہنوز

ہست نا شفتہ سیمابم ہنوز

(ابھی تک ستارے میری روشنی سے ماند نہیں پڑے؛

ابھی تک میرے پارے میں تڑپ پیدا نہیں ہوئی۔)

بحر از رقص ضیایم بے نصیب

کوہ از رنگ حنایم بے نصیب

(ابھی تک سمندر میری شعاؤں کے رقص سے بے نصیب ہے؛

ابھی تک پہاڑ نے میرا حنائی رنگ نہیں پایا۔)

خوگر من نیست چشم ہست و بود

لرزہ بر تن خیزم از بیم نمود

(ابھی تک دنیا کی آنکھ میری خوگر نہیں ہوئی؛

میں خود بھی اپنے برسر عام آنے سے لرزہ بر اندام ہوں (کہ دیکھیں اس کا ردعمل کیا ہوتا ہے)۔

بامم از خاور رسید و شب شکست

شبنم نو برگل عالم نشست

(میرے آفتاب کی) صبح مشرق سے طلوع ہو چکی ہے اور رات کا اندھیرا ختم ہو چکا ہے؛ دنیا کے پھول پر (میرے آنسوؤں کی) نئی شبنم گر رہی ہے۔)

انتظار صبح خیزان می کشم

اے خوشا زرتشتیان تشم

(میں صبح سویرے اٹھنے والوں کے انتظار میں ہوں؛

کیا خوش نصیب ہیں وہ جو میرے آتشیں (جذبہ ) کے پرستار ہیں۔)

نغمہ ام، از زخمہ بے پرواستم

من نوای شاعر فرداستم

(میں ایسا نغمہ ہوں جو مضراب سے بے نیاز ہے؛

میں آنے والے دور کا شاعر ہوں۔)

عصر من دانندۂ اسرار نیست

یوسف من بہر این بازار نیست

(میرا دور اسرار کو نہیں سمجھتا؛

میرا یوسف اس بازار کے لائق نہیں۔)

ناامید استم ز یاران قدیم

طور من سوزد کہ مے ید کلیم

(میں اپنے پرانے دوستوں سے ناامید ہوں (کہ وہ میری بات سمجھ سکیں گے)؛

میرا طور جل رہا ہے (اور اس انتظار میں ہے کہ) کوئی کلیم آئے۔)

قلزم یاران چو شبنم بے خروش

شبنم من مثل یم طوفان بدوش

(میرے ساتھیوں کا سمندر شبنم کی طرح بغیر جوش و خروش کے ہے؛

اس کے برعکس میری شبنم سمندر کی مانند طوفانی ہے۔)

نغمہ ی من از جہان دیگر است

این جرس را کاروان دیگر است

(میرے نغمے کا تعلق ایک اور ہی دنیا سے ہے؛

اس جرس کے لیے کوئی نیا قافلہ آئے گا۔)

اے بسا شاعر کہ بعد از مرگ زاد

چشم خود بر بست و چشم ما گشاد

(بہت سے شاعر ہیں جو مرنے کے بعد زندہ ہوتے (شہرت پاتے) ہیں؛

اپنی آنکھ موند لیتے ہیں اور ہماری آنکھ کھول دیتے ہیں۔)

رخت باز از نیستی بیرون کشید

چون گل از خاک مزار خود دمید

(وہ عدم سے دوبارہ (زندگی کا) ساز و سامان لاتے ہیں؛

پھول کی مانند اپنے مزار کی خاک سے اگ آتے ہیں۔)

کاروان ہا گرچہ زین صحرا گذشت

مثل گام ناقہ کم غوغا گذشت

(اگرچہ اس صحرا سے کئی قافلے گزرے ہیں؛

مگر وہ ناقہ کے قدموں کی مانند بغیر کسی شور و غوغا کے گزرے ہیں۔)

عاشقم، فریاد، ایمان من است

شور حشر از پیش خیزان من است

(میں عشق ہوں فریاد کرنا میرا ایمان ہے؛

میری فریاد سے اتنا شور اٹھتا ہے کہ اس کے مقابلے میں حشر کا شور ان ملازموں کی مانند ہے جو بادشاہ کی سواری کے آگے آگے بھاگتے اور اس کی آمد کی اطلاع دیتے ہیں۔)

نغمہ ام ز اندازۂ تار است بیش

من نترسم از شکست عود خویش

(اگرچہ میرے ساز کے تار میرے نغمے کے متحمّل نہیں ہو سکتے؛

لیکن میں اس سے نہیں ڈرتا کہ وہ ٹوٹ جائیں گے (اپنا نغمہ ضرور سناؤں گا)۔

قطرہ از سیلاب من بیگانہ بہ

قلزم از شوب او دیوانہ بہ

(قطرے (کم ہمت لوگوں) کے لیے میرے (نغمے کے) سیلاب سے دور رہنا ہی بہتر ہے؛

سمندر ہی کو اس کے شور سے دیوانگی حاصل کرنی چاہئے۔)

در نمے گنجد بجو عمان من

بحرہا باید پے طوفان من

(میرا سمندر کسی چھوٹی ندی میں نہیں سما سکتا؛

میرے طوفان کو سنبھالنے کے لیے کئی سمندر چاہئیں۔)

غنچہ کز بالیدگی گلشن نشد

در خور ابر بھار من نشد

(وہ غنچہ جو نشو و نما پا کر گلشن کی طرح صورت اختیار نہیں کرتا

وہ میرے نغمے کے ابر بہار کے لائق نہیں۔)

برقہا خوابیدہ در جان من است

کوہ و صحرا باب جولان من است

(میری جان میں بجلیاں خوابیدہ ہیں؛

کوہ و صحرا ہی میری تگ و تاز کے لائق ہیں۔)

پنجہ کن با بحرم ار صحراستی

برق من در گیر اگر سیناستی

(اگر تو صحرا ہے تب میرے صحرا کو گرفت میں لے؛

اگر تو طور سینا ہے تو پھر میری برق کو اپنے اندر سما۔)

چشمۂ حیوان براتم کردہ اند

محرم راز حیاتم کردہ اند

(آب حیات میرے نصیب کیا گیا ہے؛

مجھے راز حیات کا محرم بنایا گیا ہے۔)

ذرہ از سوز نوایم زندہ گشت

پر گشود و کرمک تابندہ گشت

(میری نوا کی تپش سے ذرّہ زندہ ہو گیا ہے؛

اور پر و بال نکال کر جگنو بن گیا ہے۔)

ہیچکس، رازی کہ من گویم، نگفت

ہمچو فکر من در معنی نسفت

(جو راز میں بیان کر رہا ہوں وہ کسی اور نے بیان نہیں کیا؛

کسی نے معنی کے موتیوں کو اس طرح (ایک لڑی میں) نہیں پرویا۔)

سر عیش جاودان خواہی بیا

ہم زمین، ھم آسمان خواہی بیا

(اگر تو عیش جاوید کا راز معلوم کرنا چاہتا ہے تو میرے پاس آ؛

تو دنیا کا خواہاں ہو یا آخرت کا میرے پاس آ۔)

پیر گردون بامن این اسرار گفت

از ندیمان رازہا نتوان نہفت

(یہ راز مجھے پیر گردوں نے بتائے ہیں؛

اگرچہ انہیں ظاہر نہیں کرنا چاہئے لیکن انہیں دوستوں سے پوشیدہ نہیں رکھا جا سکتا۔)

ساقیا برخیز و می در جام کن

محو از دل کاوش ایام کن

(اے ساقی! اٹھ اور میرے جام میں شراب ڈال دے جو دل سے زمانے کی کلفتیں دور کر دے۔)

شعلہ ی بے کہ اصلش زمزم است

گر گدا باشد پرستارش جم است

(وہ آتشیں شراب جس کی اصل زمزم سے ہے؛

اس کا چاہنے والا اگر گدا بھی ہو تو وہ بادشاہ ہے۔)

می کند اندیشہ را ہشیار تر

دیدہ ی بیدار را بیدار تر

(ایسی شراب سوچ کو اور تیز کر دیتی ہے؛

اور جو آنکھ پہلے ہی بیدار ہو ا سے بیدار تر کر دیتی ہے۔)

اعتبار کوہ بخشد کاہ را

قوت شیران دہد روباہ را

(یہ تنکے کو پہاڑ کا وقار عطا کرتی ہے؛

اور لومڑی کو شیروں کی قوّت بخشتی ہے۔)

خاک را اوج ثریا میدہد

قطرہ را پہنای دریا میدہد

(خاک کو ثریا کی بلندی دیتی ہے؛

اور قطرے کو سمندر کی وسعت۔)

خامشی را شورش محشر کند

پای کبک از خون باز احمر کند

(یہ خاموشی کو شور قیامت میں تبدیل کر دیتی ہے؛

اور چکور کے پنجے کو باز سے لڑا دیتی ہے۔)

خیز و در جامم شراب ناب ریز

بر شب اندیشہ ام مہتاب ریز

(اٹھ اور میرے جام میں یہ خالص شراب ڈال؛

اور اس طرح میرے فکر کی رات پر چاندنی بکھیر دے۔)

تا سوی منزل کشم وارہ را

ذوق بیتابے دہم نظارہ را

(تاکہ میں بھٹکے ہوؤں کو منزل کی جانب لے جاؤں؛

اور (شوق) نظارہ کو ذوق بے تابی دوں۔)

گرم رو از جستجوی نو شوم

روشناس رزوی نو شوم

(تاکہ میں ایک نئی جستجو کے راستے میں سرگرم ہو جاؤں؛

اور اپنے آپ کو نئی آرزو سے متعارف کروں۔)

چشم اھل ذوق را مردم شوم

چون صدا در گوش عالم گم شوم

(اہل ذوق کی آنکھ کی پتلی بن جاؤں؛

اور دنیا کی آواز میں صدا کی طرح گم ہو جاؤں۔)

قیمت جنس سخن بالا کنم

ب چشم خویش در کالاکنم

(تاکہ میں متاع شاعری میں اپنے آنسو شامل کر کے اس کی قیمت بڑھا دوں۔)

باز بر خوانم ز فیض پیر روم

دفتر سر بستہ اسرار علوم

(اور پیر روم کے فیض سے؛ اسرار علوم کے سربستہ دفتر کھول دوں۔)

جان او از شعلہ ہا سرمایہ دار

من فروغ یک نفس مثل شرار

(مولانا روم کی جان کئی شعلوں کی سرمایہ دار ہے؛

جبکہ میری چمک شرر کی مانند لمحہ بھر کی ہے۔)

شمع سوزان تاخت بر پروانہ ام

بادہ شبخون ریخت بر پیمانہ ام

(اس کی جلتی ہوئی شمع نے مجھ پروانے پر یورش کر دی؛

گویا اس کی شراب نے میرے پیمانے پر شبخون مارا۔)

پیر رومی خاک را اکسیر کرد

از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد

(پیر رومی نے میری خاک کو اکسیر بنا دیا؛

اور میرے غبار سے کئی جلوے پیدا کر دیئے۔)

ذرہ از خاک بیابان رخت بست

تا شعاع فتاب رد بدست

(میرے ذرّے نے بیابان کی خاک سے رخت (سفر) باندھا؛

تاکہ وہ آفتاب کی شعاع کو گرفت میں لے۔)

موجم و در بحر او منزل کنم

تا در تابندہ ئی حاصل کنم

(میں موج ہوں اور میں نے رومی کے سمندر کو اپنا مسکن بنایا ہے؛

تاکہ وہاں سے چمکدار موتی حاصل کروں۔)

من کہ مستی ہا ز صہبایش کنم

زندگانے از نفس ہایش کنم

(یں جو اس کی شراب سے مستی حاصل کرتا ہوں؛

میری زندگی انہی کے دم سے ہے۔)

شب دل من مایل فریاد بود

خامشے از”یا ربم” باد بود

(رات میرا دل فریاد کناں تھا؛

رات کی خاموشی میری ‘یا رب کی’ آواز سے آباد ہو رہی تھی۔)

شکوہ شوب غم دوران بدم

از تہی پیمانگی نالان بةدم

(میں نے غم دوراں کی شکائت کا طوفان اٹھا رکھا تھا اور اپنی بے سر و سامانی پر نالاں تھا۔)

این قدر نظارہ ام بیتاب شد

بال و پر بشکست و خر خواب شد

(میری نگاہیں تڑپتے تڑپتے بال و پر کھو بیٹھیں اور میں سو گیا۔)

روی خود بنمود پیر حق سرشت

کو بحرف پہلوی قر ن نوشت

(پیر حق سرشت (رومی) ظاہر ہوئے؛

وہ جنہوں نے فارسی زبان میں قران پاک کی حکمت بیان کی ہے۔)

گفت”اے دیوانہ ی ارباب عشق

جرعہ ئی گیر از شراب ناب عشق

(انہوں نے فرمایا تو جو اہل عشق کا شیدائی ہے؛

عشق کی خالص شراب کا ایک گھونٹ پی لے۔)

بر جگر ہنگامہ ی محشر بزن

شیشہ بر سر، دیدہ بر نشتر بزن

(اور اس سے) اپنے جگر میں قیامت کا ہنگامہ پیدا کر؛

اس شراب سے سرمست ہو اور اشکوں کو خونتاب کر۔)

خندہ را سرمایہ ی صد نالہ ساز

اشک خونین را جگر پرکالہ ساز

(اپنی ہنسی کو سینکڑوں نالوں کا سرمایہ بنا (اپنی ہنسی کو نالہ و فریاد میں بدل دے)؛

اپنے اشک خونیں میں جگر کے ٹکڑے ملا۔)

تا بکی چون غنچہ می باشی خموش

نکہت خود را چو گل ارزان فروش

(کب تک کلی کی مانند خاموش رہے گا؛

اپنی خوشبو کو پھول کی مانند عام کر دے۔)

در گرہ ہنگامہ داری چون سپند

محمل خود بر سر تش بہ بند

(تو حرمل کے دانے کی طرح اپنے اندر ہنگامہ رکھتا ہے؛

اس لیے اپنے محمل (ناقہ) کو آتش پر باندھ لے۔)

چون جرس خر ز ہر جزو بدن

نالہ ی خاموش را بیرون فکن

(نالہ خاموش کو اپنے بدن کے ہر بن و مو سے جرس کی مانند باہر نکال۔)

تش استی بزم عالم بر فروز

دیگران را ھم ز سوز خود بسوز

(تو آگ ہے بزم کائنات کو جگمگا دے؛

دوسروں کو بھی سوز کی تپش عطا کر۔)

فاش گو اسرار پیر می فروش

موج می شو کسوت مینا بپوش

(پیر مغاں کے راز برملا بیان کر؛

شراب کی موج بن اور مینا کا لباس پہن۔)

سنگ شو ئینہ ی اندیشہ را

بر سر بازار بشکن شیشہ را

(خرد کے آئینے کے لیے پتھر بن؛

اور اسے سر بازار توڑ دے۔)

از نیستان ہمچو نے پیغام دہ

قیس را از قوم”حی” پیغام دہ

(بانسری کی مانند نیستاں کا پیغام سنا؛

قیس کے لیے لیلی کا پیغام لا۔)

نالہ را انداز نو ایجاد کن

بزم را از ہاے و ہو باد کن

(نالہ و فریاد کے لیے نئے انداز ایجاد کر؛

(افسردہ) محفل کو ہا و ہو سے گرم دے۔)

خیز و جان نو بدہ ہر زندہ را

از”قم” خود زندہ تر کن زندہ را

(اٹھ اور زندہ شخص کو نئی جان عطا کر؛

لفظ ‘‍ قوم’ کہہ کے زندوں میں اور زندگی بھر دے۔)

خیز و پا بر جادہ ی دیگر بنہ

جوش سودای کہن از سر بنہ

(اٹھ اور نئے راستے پر قدم رکھ؛

اپنے سر سے پرانی روایات کا سودا نکال دے۔)

شنای لذت گفتار شو

اے دراے کاروان بیدار شو”

(لذّت گفتار سے آشنا ہو (کچھ کہہ )؛

تو قافلہ کے لیے بانگ راحیل ہے، اٹھ (قافلے کو جگا)۔

زین سخن تش بہ پیراہن شدم

مثل نے ہنگامہ بستن شدم

(اس آواز نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی؛

اور میں ہنگاموں بھری بانسری کی مانند ہوں۔)

چون نوا از تار خود برخاستم

جنتی از بھر گوش راستم

(میں اپنے (ساز کے) تار سے نغمے کی مانند اٹھا؛

اور میں نے سماعت کے لیے جنت سجا دی۔(غالب نے جنت نگاہ اور فردوس گوش کی اصطلاحیں استعمال کی ہیں)

بر گرفتم پردہ از راز خودی

وا نمودم سر اعجاز خودی

(میں نے خودی کے راز سے پردہ اٹھا دیا؛

اور اس کے اعجاز پوری طرح ظاہر کر دیئے۔)

بود نقش ہستیم انگارہ ئی

نا قبولی، ناکسے، ناکارہ ئی

(میرا وجود ایک ناتمام نقش تھا؛

ناقابل قبول، بے قیمت اور ناکارہ۔)

عشق سوہان زد مرا، دم شدم

عالم کیف و کم عالم شدم

(عشق نے مجھے سان پر چڑھایا تو میں آدم بنا؛

اور میں نے اس جہان کی اشیاء کا علم پایا۔)

حرکت اعصاب گردون دیدہ ام

در رگ مہ گردش خون دیدہ ام

(میں نے آسمان کے اعصاب کی حرکت دیکھ لی؛

مجھے چاند کی رگوں میں گردش کرتا ہوا خون نظر آ گیا۔)

بہر انسان چشم من شبہا گریست

تا دریدم پردہ ی اسرار زیست

(میں نے انسان کے غم میں رو رو کر راتیں گزار دیں؛

تب کہیں جا کر میں زندگی کے رازوں پر سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہوا۔)

از درون کارگاہ ممکنات

بر کشیدم سر تقویم حیات

(میں نے ممکنات کے کارخانے کے اندر سے؛ زندگی کے استحکام کا راز (لائحہ عمل ) نکال لیا ہے۔)

من کہ این شب را چو مہ راستم

گرد پای ملت بیضاستم

(میں جس نے (زندگی کی) رات کو چاند کی طرح خوبصورت بنا دیا ہے؛

میں فقط ملّت بیضا کی گرد پا ہوں۔)

ملتی در باغ و راغ وازہ اش

تش دلہا سرود تازہ اش

(وہ ملّت جس کا شہرہ باغ و راغ میں ہے؛

جس کے تازہ نغمے دلوں میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔)

ذرہ کشت و فتاب انبار کرد

خرمن از صد رومی و عطار کرد

(وہ ملت جس نے ذرّہ بویا اور آفتابوں کے انبار لگا دیئے؛

جس کے کھلیان سینکڑوں رومی اور عطّار ہیں۔)

آہ گرمم ، رخت بر گردون کشم

گرچہ دودم از تبار آتشم

(میں آگ گرم ہوں جو آسمان تک پہنچتی ہے؛

اگرچہ میں (آہ) کا دھواں ہوں لیکن ہوں تو آگ کے خاندان سے۔)

خامہ ام از ھمت فکر بلند

راز این نہ پردہ در صحرا فکند

(میرے قلم نے فکربلند کی ہمت سے؛

اس نہہ پردہ (کائنات) کے راز کو صحرا میں ڈال دیا (سر عام واضح کر دیا)۔

قطرہ تا ہمپایہ ی دریا شود

ذرہ از بالیدگی صحرا شود

(تا کہ قطرہ دریا کے ہم پلّہ ہو جائے اور ذرّہ بڑھ کر صحرا بن جائے۔)

شاعری زین مثنوی مقصود نیست

بت پرستی، بت گری مقصود نیست

(اس مثنوی کا مقصد شاعری (بت بنانا اور بت پرستی سکھانا) نہیں۔)

ہندیم از پارسے بیگانہ ام

ماہ نو باشم تہی پیمانہ ام

(میں ہندی ہوں فارسی میری زبان نہیں؛

میں نئے چاند کی مانند اندر سے خالی ہوں۔)

حسن انداز بیان از من مجو

خوانسار و اصفہان از من مجو

(مجھ سے انداز بیاں کی خوبصورتی کی توقع نہ رکھ؛

میں شعراء خوانسار اور اصفہان جیسی زبان پیش نہیں کر سکتا۔)

گرچہ ہندی در عذوبت شکر است

طرز گفتار دری شیرین تر است

(اگرچہ ہندی زبان مٹھاس میں شکر ہے؛

لیکن فارسی زبان کا انداز بیان اس سے زیادہ شیریں ہے۔)

فکر من از جلوہ اش مسحور گشت

خامۂ من شاخ نخل طور گشت

(فارسی زبان کے جلوے نے میرے فکر کو مشہور کر دیا؛ اور میرا کلام (اس کی بدولت) نخل طور کی شاخ بن گیا۔)

پارسے از رفعت اندیشہ ام

در خورد با فطرت اندیشہ ام

(میرے فکر کی بلندی کے لحاظ سے فارسی زبان اس کی فطرت سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔)

خردہ بر مینا مگیر اے ہوشمند

دل بذوق خردہ ی مینا بہ بند

(خردہ مینا: شراب۔ خردہ گرفتن: نکتہ چینی کرنا۔

اے دانا شخص! میری مینائے کلام (الفاظ) پر نکتہ چینی نہ کر بلکہ اس مینا کی شراب (معنی) سے لطف اندوز ہونے کا ذوق پیدا کر۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: