(Asrar-e-Khudi-02) (اس بیان میں کہ دنیا کے انتظام کی بنیاد خودی پر ہے) Dar Biyan Aynke Asal Nizam-e-Alam Az Khudi Ast

در بیان اینکہ اصل نظام عالم

(اس بیان میں کہ نظام کائنات کی بنیاد خودی ہے)

در بیان اینکہ اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصاردارد

(زندگی کا وجود خودی کے آثار (نشانات) میں سے ہے؛ جو کچھ تو دیکھتا ہے یہ خودی ہی کے اسرار (کا اظہار) ہے۔)

پیکر ھستی ز ثار خودی است

ہر چہ می بینی ز اسرار خودی است

(اور حیات کے مختلف پیکروں کی تعیین اور ان کا ارتقا ء خودی کے استحکام پر منحصر ہے۔)

خویشتن را چون خودی بیدار کرد

آشکارا عالم پندار کرد

(جب خودی نے اپنے آپ کو بیدار کیا؛ تو یہ عالم پندار (دنیا) ظاہر ہوا۔)

صد جہان پوشیدہ اندر ذات او

غیر او پیداست از اثبات او

(خودی کی ذات میں سینکڑوں جہان مخفی ہیں؛ جب خودی اپنا اثبات یعنی اپنی قوّت کا اظہار کرتی ہے تو ایک نیا جہان پیدا ہو جاتا ہے، جو خودی کی ذات سے علیحدہ ہوتا ہے۔)

در جہان تخم خصومت کاشت است

خویشتن را غیر خود پنداشت است

(اس طرح) خودی نے اپنے آپ کو اپنا غیر سمجھ کر کائنات میں کشمکش کا بیج بویا۔)

سازد از خود پیکر اغیار را

تا فزاید لذت پیکار را

(وہ اپنے آپ ہی سے اپنے اغیار کے پیکر تیار کرتی ہے؛ تاکہ جدل باہم کی لذّت بڑھے (فلسفہ ء جدلیات)۔

میکشد از قوت بازوی خویش

تا شود گاہ از نیروی خویش

(پھر وہ اپنی قوّت بازو سے ( ان میں سے بعض کو) فنا کر دیتی ہے (بقائے اصلح) تاکہ اسے اپنی قوّت سے آگاہی حاصل ہو۔)

خود فریبی ہای او عین حیات

ہمچو گل از خون وضو عین حیات

(اس کی یہی خود فریبیاں اپنے آپ سے اپنا غیر پیدا کرنا اور پھر اسے غیر سمجھ کر فنا کر دینا عین حیات ہیں، پھول کی مانند خون سے وضو کرنا ہی اس کی زندگی ہے،)

بہر یک گل خون صد گلشن کند

از پی یک نغمہ صد شیون کند

(وہ ایک پھول کی خاطر سینکڑوں گلشنوں کا خون کر دیتی ہے (کئی گلشنوں کے تجربوں کے بعد ایک خوب صورت پھول پیدا ہوتا ہے)۔ ایک نغمہ کی خاطر سینکڑوں نالے بلند کرتی ہے (سینکڑوں نالوں کے پس منظر سے ایک دل آویز نغمہ ابھرتا ہے)۔

یک فلک را صد ہلال وردہ است

بہر حرفی صد مقال وردہ است

(ایک آسمان (کی سجاوٹ) کے لیے صدہا ہلال لاتی ہے؛ ایک حرف (مطلب کہنے ) کے لیے سینکڑوں انداز بیان لاتی ہے۔)

عذر این اسراف و این سنگین دلی

خلق و تکمیل جمال معنوی

(اس اصراف اور بیدردی (بہت سی چیزوں کو بنا کر مٹا دینے) کا جواز (لذت) تخلیق اور تکمیل جمال معنوی (کے ذریعہ ذوق حسن کی تسکین) ہے ۔ ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں۔)

حسن شیرین عذر درد کوہکن

نافہ ئے عذر صد ہوی ختن

(حسن شیریں کوہکن کے دکھ کا جواز ہے؛ اسی طرح ایک مشک ناف سینکڑوں آہوان ختن کے اتلاف کا جواز ہے۔)

سوز پیہم قسمت پروانہ ہا

شمع عذر محنت پروانہ ہا

(پروانوں کی قسمت میں یہ جو سوز پیہم ہے، جس کی وجہ سے وہ اتنی مشقت اٹھاتے ہیں ؛ اس کا جواز ایک شمع (روشن) ہے۔)

خامہ ی او نقش صد امروز بست

تا بیارد صبح فردائی بدست

(خودی کے قلم نے سینکڑوں امروز (آج) کے نقوش بنائے (اور مٹائے) تاکہ ایک (حسین) کل کی صبح سامنے لائے۔)

شعلہ ہای او صد ابراہیم سوخت

تا چراغ یک محمد بر فروخت

(اس کے شعلوں نے سینکڑوں ابراہیم جلا دیئے ؛ تاکہ ایک محمد (صلعم) کا چراغ روشن ہو، (یہ تکمیل جمال معنوی کی مثالیں ہیں۔)

می شود از بہر اغراض عمل

عامل و معمول و اسباب و علل

(عمل کی اغراض پوری کرنے کے لیے خودی کبھی عامل بنتی ہے؛ کبھی معمول اور کبھی اسباب و ذرائع۔)

خیزد، انگیزد، پرد، تابد، رمد

سوزد، افروزد، کشد، میرد، دمد

(وہ اٹھتی ہے ، اٹھاتی ہے، اڑتی ہے، چمکتی ہے، بھاگتی ہے؛ جلتی ہے، روشن کرتی ہے، مارتی ہے، مرتی ہے ، زندہ ہوتی ہے۔)

وسعت ایام جولانگاہ او

سمان موجی ز گرد راہ او

(زمانے کی فراخی اس کی جولانیوں کا میدان ہے ، آسمان اس کی گرد راہ سے (اٹھتی ہوئی) ایک موج ہے۔)

گل بجیب فاق از گلکاریش

شب ز خوابش، روز از بیداریش

(خودی ہی کی گلکاریوں نے آفاق کا دامن گلوں سے بھر دیا ہے، رات اس کی نیند سے ہے اور دن اس کی بیداری ہے۔)

شعلہ ی خود در شرر تقسیم کرد

جز پرستی عقل را تعلیم کرد

(اس نے اپنے شعلہ کو چنگاریوں میں تقسیم کر دیا ؛ اب عقل ایک ایک چنگاری کو سمجھنے کے پیچھے پڑی ہوئی ہے (یہ عقل کی خبر پرستی ہے )۔

خود شکن گردید و اجزا فرید

اندکے شفت و صحرا فرید

(اس نے اپنے آپ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اجزا پیدا کر دیئے ؛ ذرا آشفتہ ہوئی تو صحرا بنا دیئے۔)

باز از شفتگی بیزار شد

وز بہم پیوستگی کہسار شد

(پھر آشفتگی سے بیزار ہوئی تو باہم پیوستگی سے پہاڑ بن گئی۔)

وانمودن خویش را خوی خودی است

خفتہ در ہر ذرہ نیروی خودی است

(اپنا اظہار خودی کی عادت ہے، ہر ذرّہ میں خودی کی قوّت خوابیدہ ہے ، (جب وہ بیدار ہوتی ہے تو اظہار چاہتی ہے)۔

قوت خاموش و بیتاب عمل

از عمل پابند اسباب عمل

(خودی قوّت خاموش ہے، مگر عمل کے لیے بیتاب ہے؛ وہ عمل ہی کی خاطر اسباب عمل کی پابندی اختیار کرتی ہے۔)

چون حیات عالم از زور خودی است

پس بقدر استواری زندگی است

(چونکہ اس جہان کی زندگی کا دار و مدار خودی کی قوّت پر ہے؛ اس لیے ہر وجود کی زندگی (کا درجہ) اس کی خودی کے استحکام کے مطابق ہے۔)

قطرہ چون حرف خودی ازبر کند

ہستنی بے مایہ را گوہر کند

(جب قطرہ خودی کا سبق ازبر کر لیتا ہے ؛ تو اپنی بے قیمت زندگی کو (قیمتی) موتی بنا لیتا ہے۔)

بادہ از ضعف خودی بے پیکر است

پیکرش منت پذیر ساغر است

(ضعف خودی کے باعث شراب کا اپنا کوئی پیکر نہیں؛ اسے پیکر اختیار کرنے کے لیے ساغر کا احسان اٹھانا پڑتا ہے۔)

گرچہ پیکر می پذیرد جام مے

گردش از ما وام گیرد جام می

(اگرچہ جام شراب پیکر رکھتا ہے ، مگر وہ گردش ہم سے ادھار لیتا ہے (گردش کے لیے ہمارے ہاتھوں کا محتاج ہے)۔

کوہ چون از خود رود صحرا شود

شکوہ سنج جوشش دریا شود

(جب پہاڑ اپنے آپ کو چھوڑ دیتا ہے ، تو صحرا بن جاتا ہے، پھر دریا کے سیلاب کی شکائیت کرتا ہے۔)

موج تا موج است در غوش بحر

می کند خود را سوار دوش بحر

(موج جب تک آغوش بحر میں موج بن کر رہتی ہے ، وہ سمندر کے کندھوں پر سوار ہوتی ہے۔)

حلقہ ئے زد نور تا گردید چشم

از تلاش جلوہ ہا جنبید چشم

(نور نے اپنی خودی سے کام لے کر حلقے کی شکل اختیار کی تو وہ آنکھ بن گیا ، پھر آنکھ نے جلوں کی تلاش میں جھپکنا سیکھا۔)

سبزہ چون تاب دمید از خویش یافت

ہمت او سینہ ی گلشن شکافت

(جب سبزے نے اپنے اندر اگنے کی قوّت پیدا کی تو اس کی ہمت نے باغ کا سینہ چاک کر دیا۔)

شمع ہم خود را بخود زنجیر کرد

خویش را از ذرہ ہا تعمیر کرد

(شمع نے اپنے آپ کو اپنے آپ سے منسلک کر لیا اور اس طرح ذرّوں سے اپنی تعمیر کی۔)

خود گدازی پیشہ کرد از خود رمید

ہم چو اشک خر ز چشم خود چکید

(پھر جب اس نے اپنے آپ کو پگھلانا شروع کیا تو اپنی خودی سے دور ہو گئی اور بالآخر آنسو کی طرح اپنی آنکھ سے ٹپک پڑی۔)

گر بفطرت پختہ تر بودے نگین

از جراحت ہا بیاسودی نگین

(اگر نگینہ اپنی فطرت میں پختہ تر ہوتا ، تو وہ ان زخموں سے بچا رہتا (جو اسے گھڑنے کے وقت لگائے جاتے ہیں)۔

می شود سرمایہ دار نام غیر

دوش او مجروح بار نام غیر

(اب اس پر غیر کا نام لکھا جاتا ہے، اور اس کا کندھا دوسرے کے نام کے بوجھ سے زخمی ہوتا ہے۔)

چون زمین بر ہستی خود محکم است

ماہ پابند طواف پیہم است

(چونکہ زمین اپنی فطرت میں محکم ہے (اس نے اپنی خودی برقرار رکھی ہے) اس لیے چاند ہمیشہ اس کے طواف کا پابند ہے،)

ہستی مہر از زمین محکم تر است

پس زمین مسحور چشم خاور است

(چونکہ سورج کا وجود زمین سے زیادہ محکم ہے؛ اس لیے زمین سورج کی آنکھ سے مسحور ہے (اور اس کے گرد چکر لگاتی ہے)۔

جنبش از مژگان برد شان چنار

مایہ دار از سطوت او کوہسار

(چنار کی (بلند شان) کو دیکھ کر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں چنانچہ پہاڑ اس کی سطوت کو اپنی دولت سمجھتے ہیں۔)

تار و پود کسوت او تش است

اصل او یک دانہ ی گردن کش است

(چنار کے لباس کا تار و پود آگ سے ہے؛ کیونکہ اس کی اصل ایک بلند ہمت دانہ سے ہے۔)

چون خودی رد بہم نیروی زیست

می گشاید قلزمی از جوی زیست

(جب خودی زندگی کی قوّت بہم پہنچاتی ہے؛ تو وہ زندگی کی ندی سے سمندر پیدا کر لیتی ہے۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: