(Asrar-e-Khudi-03) (اس بیان میں کہ خودی کی زندگی مقاصد کو تخلیق اور پیدا کرنے میں ہے) Dar Biyan Aynkah Hayat-e-Khudi Az Takhleeq Wa Touleed Maqasid Ast

در بیان اینکہ حیات خودی

دربیان اینکہ حیات خودی از تخلیق و تولیدمقاصداست

(اس بیان میں کہ خودی کی زندگی مقاصد کی تخلیق و تولید سے ہے۔)

زندگانے را بقا از مدعا ست

کاروانش را درا از مدعا ست

(زندگی کی بقا مقصد سے ہے ؛ مقصد ہی زندگی کے کاروان کے لیے (بانگ) درا کا کام دیتا ہے۔)

زندگی در جستجو پوشیدہ است

اصل او در رزو پوشیدہ است

(جستجو ہی زندگی کا راز ہے؛ آرزو کے اندر ہی زندگی کی اصلیت کا راز پوشیدہ ہے۔)

آرزو را در دل خود زندہ دار

تا نگردد مشت خاک تو مزار

(اس لیے تو اپنے دل میں آرزو کو زندہ رکھ ؛ تاکہ تیرا بدن قبر نہ بن جائے۔)

آرزو جان جہان رنگ و بوست

فطرت ہر شی امین رزو ست

(آرزو ہی اس جہان رنگ و بو (دنیا) کی جان ہے؛ ہر شے کی فطرت میں آرزو بطور امانت موجود ہے۔)

از تمنا رقص دل در سینہ ہا

سینہ ہا از تاب او ئینہ ہا

(تمنّا ہی سے سینوں کے اندر دل رقصاں رہتے ہیں؛ اسی کی چمک سے آئینے شیشے کی مانند شفّاف ہیں۔)

طاقت پرواز بخشد خاک را

خضر باشد موسی ادراک را

(آرزو خاکی انسان کو اڑنے کی طاقت عطا کرتی ہے؛ ہماری ادراک کے لیے آرزو اسی طرح راہبر ہے جس طرح موسی (علیہ) کے لیے خضر (علیہ) راہبر بنے۔)

دل ز سوز آرزو گیرد حیات

غیر حق میرد چو او گیرد حیات

(سوز آرزو سے دل زندگی پاتا ہے، دل زندہ ہو جائے تو اس کے اندر سے غیر اللہ کے نقوش مٹ جاتے ہیں۔)

چون ز تخلیق تمنا باز ماند

شہپرش بشکست و از پرواز ماند

(لیکن جب دل آرزو کی تخلیق چھوڑ دیتا ہے، تو اس کے بال و پر ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ پرواز سے رہ جاتا ہے۔)

آرزو ہنگامہ آرای خودی

موج بیتابے ز دریای خودی

(آرزو ہی خودی کے لیے ہنگامے آراستہ کرتی ہے، یہ دریائے خودی کی ایک بیتاب سوچ ہے۔)

آرزو صید مقاصد را کمند

دفتر افعال را شیرازہ بند

(آرزو ہی مقاصد کے شکار کے لیے کمند کا کام دیتی ہے؛ اسی سے انسان کے افعال میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔)

زندہ را نفی تمنا مردہ کرد

شعلہ را نقصان سوز افسردہ کرد

(تمنّا ختم ہو جانے سے زندہ انسان بھی مردہ ہو جاتا ہے؛ جیسے سوز ختم ہو جانے سے شعلہ افسردہ ہو جاتا ہے۔)

چیست اصل دیدۂ بیدار ما

بست صورت لذت دیدار ما

(ہماری دیدہء بیدار کی اصلیّت کیا ہے ؟ یہ کہ ہماری لذّت دیدار نے آنکھ کی صورت اختیار کر لی ہے۔)

کبک پا از شوخی رفتار یافت

بلبل از سعی نوا منقار یافت

(کبک نے شوخیء رفتار سے پاؤں پائے؛ بلبل نے ادائے نغمہ کے لیے کوشش کی تو اسے چونچ مل گئی۔)

نے برون از نیستان آباد شد

نغمہ از زندان او آزاد شد

(جب بانسری نیستاں سے باہر آ کر آباد ہوئی؛ تو نغمہ اس کے قید خانے سے آزاد ہوا (اس کے اندر سے نغمے پھوٹے)۔

عقل ندرت کوش و گردون تاز چیست

ہیچ میدانی کہ این اعجاز چیست

(نادر چیزیں تلاش کرنے والی اور آسمان تک پہنچنے والی عقل کیا ہے؟ کیا تو نے کبھی غور کیا کہ یہ اعجاز کیسے حاصل کیا؟)

زندگی سرمایہ دار از آرزوست

عقل از زائیدگان بطن اوست

(بات یہ ہے کہ آرزو زندگی کا سرمایہ ہے؛ اور عقل زندگی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔)

چیست نظم قوم و آئین و رسوم

چیست راز تازگیہای علوم

(قوم کا نظم اور اس کے آئین و رسوم کیا ہیں؟ نئے نئے علوم پیدا ہونے کا راز کیا ہے؟)

آرزوئی کو بزور خود شکست

سر ز دل بیرون زد و صورت بہ بست

(یہ سب آرزو کے کرشمے ہیں، جب آرزو اپنے زور سے ٹوٹ کر اٹھتی ہے تو دل کے اندر سے سر اٹھاتی ہے اور کوئی صورت اختیار کرتی ہے۔)

دست و دندان و دماغ و چشم و گوش

فکر و تخییل و شعور و یاد و ہوش

(ہاتھ، دانت، دماغ، آنکھ، کان، سوچ ، تخیّل، شعور، یاد، سمجھ۔)

زندگی مرکب چو در جنگاہ باخت

بہر حفظ خویش این آلات ساخت

(زندگی نے جب اپنا گھوڑا میدان جنگ میں دوڑایا ، تو یہ سب آلات اپنی حفاظت کے لیے بنائے۔)

آگہی از علم و فن مقصود نیست

غنچہ و گل از چمن مقصود نیست

(علم و فن کا مقصد محض معلومات نہیں؛ اسی طرح چمن سے صرف غنچہ و گل حاصل کرنا مقصود نہیں۔)

علم از سامان حفظ زندگی است

علم از اسباب تقویم خودی است

(بلکہ علم زندگی کی حفاظت کا سامان ہے؛ اور خودی کو مستحکم کرنے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔)

علم و فن از پیش خیزان حیات

علم و فن از خانہ زادان حیات

(علم و فن زندگی کے خدمتگار اور غلام ہیں (فن برائے فن اور فن برائے زندگی کا امتیاز بیان کیا گیا ہے)۔

اے از راز زندگی بیگانہ، خیز

از شراب مقصدی مستانہ خیز

(اے وہ شخص ، جو راز زندگی سے نابلد ہے اٹھ! اٹھ اور مقصد کی شراب پی کر مستانہ وار اٹھ۔)

مقصدے مثل سحر تابندہ ئی

ماسوی را آتش سوزندہ ئی

(تیرا مقصد ایسا ہونا چاہئیے جو صبح کی مانند روشن ہو؛ جو غیر اللہ کو جلا دینے والی آنکھ ثابت ہو (اللہ تعالے کی خوشنودی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہونا چاہئیے )۔

مقصدی از آسمان بالاتری

دلربائے دلستانی دلبری

(یہی مقصد آسمان سے بلند تر ہے؛ یہ دل کو لبھانے والا، دل چھین لینے والا اور دل پر قبضہ کر لینے والا مقصد ہے۔)

باطل دیرینہ را غارتگری

فتنہ در جیبی سراپا محشری

(یہ دیرینہ باطل کو فنا کر دینے والا مقصد ہے؛ اس کے گریباں میں محشر کے ہنگامے موجود ہیں۔)

ما ز تخلیق مقاصد زندہ ایم

از شعاع آرزو تابندہ ایم

(ہم مقاصد کی تخلیق سے زندہ ہیں؛ آرزو کی شعاع ہمیں روشن رکھتی ہے۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: