(Asrar-e-Khudi-04) (اس بیان میں کہ خودی عشق اور محبت سے مضبوط ہے) Dar Biyan Aynke Khudi Az Ishq Wa Mohabbat Istehkam Mee Pazeeradh

در بیان اینکہ خودی

در بیان اینکہ خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد

(اس بیان میں کہ خودی عشق و محبت سے مستحکم ہوتی ہے۔)

نقطۂ نوری کہ نام او خودی است

زیر خاک ما شرار زندگی است

(نقطہ ء نور جس کا نام خودی ہے ؛ یہی ہمارے بدن میں زندگی کا شرر ہے۔)

از محبت می شود پایندہ تر

زندہ تر سوزندہ تر تابندہ تر

(یہ (اللہ تعالے کی) محبت ہی سے زیادہ زندہ ، زیادہ پائندہ اور زیادہ سوزندہ ہوتا ہے۔)

از محبت اشتعال جوہرش

ارتقای ممکنات مضمرش

(محبت ہی سے اس کا جوہر نکھرتا ہے اور محبت ہی سے اس کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کی نشو و نما ہوتی ہے۔)

فطرت او آتش اندوزد ز عشق

عالم افروزی بیاموزد ز عشق

(اس کی فطرت عشق ہی سے حرارت حاصل کرتی ہے؛ اور عشق ہی سے دنیا کو جگمگا دینے کا طریقہ سیکھتی ہے۔)

عشق را از تیغ و خنجر باک نیست

اصل عشق از آب و باد و خاک نیست

(عشق کو تیغ و خنجر کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اس کی اصل (عناصر) آب و باد و خاک سے ہے۔)

در جہان ہم صلح و ہم پیکار عشق

آب حیوان تیغ جوہر دار عشق

(عشق کی تیغ جوہر دار آب حیات ہے؛ اسی سے دنیا میں صلح و آشتی ہے اور اسی سے جنگ و جدل)

از نگاہ عشق خارا شق شود

عشق حق آخر سراپا حق شود

(عشق کی نگاہ پتھر کو توڑ دیتی ہے؛ اللہ تعالے کا عشق انسان کو ‘بندہ ء مولا صفات’ بنا دیتی ہے۔)

عاشقی آموز و محبوبی طلب

چشم نوحی قلب ایوبی طلب

(عاشقی سیکھ اور اپنے لیے محبوب ڈھونڈ ؛ مگر اس کے لیے چشم نوح (علیہ) اور قلب ایوب (علیہ) چاہیے۔)

کیمیا پیدا کن از مشت گلی

بوسہ زن بر آستان کاملی

(کسی کامل کے آستان پر بوسہ زن ہو کر (اس سے وابستگی اختیار کر کے) اپنی مشت خاک کو کیمیا بنا لے۔)

شمع خود را ہمچو رومی بر فروز

روم را در آتش تبریز سوز

(اپنی شمع کو رومی (رحمتہ) کی مانند روشن کر اور رم کو تبریز کی آگ میں جلا دے (رم سے مراد مولانا رومی اور تبریز سے آپ کے مرشد شمس تبریز کی صرف اشارہ ہے)۔

ہست معشوقی نہان اندر دلت

چشم اگر دارے بیا بنمایمت

(تیرے دل کے اندر ایک محبوب نہاں ہے، اگر نگاہ رکھتا ہے تو آ میں تجھے دکھاؤں ۔)

عاشقان او ز خوبان خوب تر

خوشتر و زیباتر و محبوب تر

(اس سے محبت کرنے والے محبوبوں سے زیادہ حسین زیادہ خوش وضع، اور پیارے ہو جاتے ہیں ؛ اس سے محبت کرنے والے محبوب تر ہو جاتے ہیں۔)

دل ز عشق او توانا می شود

خاک ھمدوش ثریا می شود

(آپ (صلعم) کے عشق سے دل قوّت پاتا ہے اور خاکی انسان کا رتبہ ثریا جتنا بلند ہو جاتا ہے۔)

خاک نجد از فیض او چالاک شد

آمد اندر وجد و بر افلاک شد

(اور نجد کی خاک نے آپ (صلعم) کے فیض سے بلند رتبہ پایا اور افلاک تک پہنچ گئی۔)

در دل مسلم مقام مصطفی است

آبروی ما ز نام مصطفی است

(حضور (صلعم) کا مقام مسلمان کے دل میں ہے؛ حضور (صلعم) ہی کے نام سے ہماری آبرو ہے۔)

طور موجے از غبار خانہ اش

کعبہ را بیت الحرم کاشانہ اش

(طور آپ (صلعم) کے گھر کے غبار کی ایک موج ہے؛ آپ (صلعم) کا حجرہ مبارک کعبہ کے لیے بیت الحرم (حرمت والا گھر) ہے۔)

کمتر از آنی ز اوقاتش ابد

کاسب افزایش از ذاتش ابد

(ابد آپ (صلعم) کے اوقات کے ایک لمحہ سے بھی کمتر ہے؛ (بلکہ ) ابد نے آپ (صلعم) کی ذات (صفات) سے اپنی ابدیت پائی ہے۔)

بوریا ممنون خواب راحتش

تاج کسرے زیر پای امتش

(آپ (صلعم) خواب راحت کے حضور لیے بوریا کو ممنون فرماتے ؛ (دوسری طرف) آپ (صلعم) کی امت نے کسری کا تاج پاؤں تلے روند ڈالا۔)

در شبستان حرا خلوت گزید

قوم و آئین و حکومت آفرید

(آپ (صلعم) نے شبستان حرا میں خلوت اختیار کی؛ اور ( ایک نئی) ملت، نیا آئین اور (نئے انداز کی) حکومت وجود میں لائے۔)

ماند شبہا چشم او محروم نوم

تا بہ تخت خسروی خوابیدہ قوم

(آپ (صلعم) نے کئی راتیں بے خوابی میں گذار دیں ؛ تب کہیں جا کر آپ (صلعم) کی امت نے تخت خسروی پر آرام پایا۔)

وقت ہیجا تیغ او آہن گداز

دیدہ ی او اشکبار اندر نماز

(جنگ کے دوران آپ (صلعم) کی تلوار لوہے کو باآسانی کاٹ کے رکھ دیتی؛ نماز کے دوران آنجناب (صلعم) کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ جاتیں۔)

در دعای نصرت آمین تیغ او

قاطع نسل سلاطین تیغ او

(نصرت کی دعا کے ساتھ آمین کہتے ہی آپ (صلعم) اپنی تلوار میان سے باہر نکال لیتے (صرف دعا پر اکتفا نہ کرتے) (چنانچہ) آنجناب (صلعم) کی تلوار نے بادشاہوں کا سلسلہ ختم کر دیا۔)

در جھان آئین نو آغاز کرد

مسند اقوام پیشین در نورد

(آپ (صلعم) نے دنیا میں نیا آئین رائج فرمایا؛ اقوام قدیم ایران و روما کی (بالادستی کی) مسندیں لپیٹ دیں۔)

از کلید دین در دنیا گشاد

ہمچو او بطن ام گیتی نزاد

(آپ (صلعم) نے دین کی کنجی سے دنیا کا دروازہ کھولا ؛ زمانہ کے بطن سے آپ (صلعم) جیسا کوئی اور پیدا نہ ہوا۔)

در نگاہ او یکے بالا و پست

با غلام خویش بر یک خوان نشست

(آپ (صلعم) کی نگاہ میں پست و بالا ایک درجہ رکھتے تھے (عزت کی بنیاد صرف تقوی تھا)؛ (چنانچہ) آپ (صلعم) اپنے غلام کے ساتھ ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتے۔)

در مصافی پیش آن گردون سریر

دختر سردار طی آمد اسیر

(جنگ کے دوران اس بلند مرتبت شخصیت (صلعم) کے سامنے حاتم طائی کی بیٹی قید ی بن کر پیش ہوئی۔)

پاے در زنجیر و ہم بے پردہ بود

گردن از شرم و حیا خم کردہ بود

(اس کے پاؤں میں زنجیرتھی، وہ با پردہ لباس نہ ہونے کے باعث شرم و حیا سے گردن جھکائے تھی۔)

دخترک را چون نبی بے پردہ دید

چادر خود پیش روی او کشید

(حضور اکرم (صلعم) نے جب اس لڑکی کو بے پردہ دیکھا ؛ تو اپنی چادر سے اس کا سر ڈھانپ دیا۔)

ما از آن خاتون طی عریان تریم

پیش اقوام جہان بے چادریم

(ہم (اس دور کے مسلمان ) قبیلہ طے کی اس خاتون سے زیادہ عریاں ہیں؛ اقوام دنیا کے سامنے ہم بھی (عزت و احترام کی) چادر کے بغیر ہیں۔)

روز محشر اعتبار ماست او

در جہان ہم پردہ دار ماست او

(روز قیامت آپ (صلعم) ہی (کی شفاعت ) پر ہمارا بھروسہ ہے؛ اس دنیا میں بھی آپ (صلعم) ہی ہمارے عیب ڈھانپنے والے ہیں۔)

لطف و قہر او سراپا رحمتی

آن بیاران این باعدا رحمتی

(آپ (صلعم) کا لطف و قہر دونوں سراپا رحمت ہیں؛ لطف دوستوں کے لیے رحمت ہے اور قہر دشمنوں کے لیے (انہیں برائی اور گناہ سے بچاتا ہے)۔

آن کہ بر اعدا در رحمت گشاد

مکہ را پیغام”لاتثریب” داد

(آپ (صلعم) نے اپنے دشمنوں پر بھی رحمت کے دروازے کھول دیے (فتح مکہ کے بعد ) قریش کو یہ فرما کر کہ ‘ آج تم پر کوئی تعزیر نہیں’ انہیں معاف فرما دیا۔)

ما کہ از قید وطن بیگانہ ایم

چون نگہ نور دو چشمیم و یکیم

(ہم مسلمان وطن کی (جغرافیائی) حد بندیوں سے آزاد ہیں؛ ہم نگاہ کی مانند ہیں، جو دو آنکھوں کے نور سے مرکب ہونے کے باوجود ایک ہے۔)

از حجاز و چین و ایرانیم ما

شبنم یک صبح خندانیم ما

(ہم حجاز ، چین اور ایران کے شہری تو ہیں؛ مگر ایک ہی صبح خنداں (حضور اکرم (صلعم) کی شبنم ہیں (شبنم سے پھولوں کو تازگی ملتی ہے)۔

مست چشم ساقی بطحاستیم

در جہان مثل می و میناستیم

(ہم ساقیء بطحا کی کیف چشم سے سرشار ہیں ؛ دنیا میں ہماری مثال مئے اور مینا کی سی ہے (جو تعلق مینا اور مئے کا ہے، یہی حضور اکرم (صلعم) اور امت مسلمہ کا ہے)۔

امتیازات نسب را پاک سوخت

آتش او این خس و خاشاک سوخت

(حضور اکرم (صلعم) نے نسلی امتیازات (مفاد) کو یکسر جلا دیا؛ حضور آنجناب (صلعم) نے ان خس و خاشاک سے باغ دنیا کو پاک کر دیا۔)

چون گل صد برگ ما را بو یکیست

اوست جان این نظام و او یکیست

(گل صد برگ کی مانند ہماری خوشبو ایک ہی ہے؛ نظام اسلام کی جان حضور اکرم (صلعم) اور آپ (صلعم) ایک ہیں۔)

سر مکنون دل او ما بدیم

نعرۂ بے باکانہ زد افشا شدیم

(ہم (امت مسلمہ ) حضور (صلعم) کے قلب میں پوشیدہ راز تھے؛ آنجناب (صلعم) نے نعرہ ء بیباکانہ (لا الہ الالہ) بلند فرمایا اور ہم ظاہر ہوئے۔)

شور عشقش در نے خاموش من

می تپد صد نغمہ در آغوش من

(میری خاموشی میں حضور (صلعم) کے عشق کا جوش و خروش ہے؛ میرے آغوش میں سینکڑوں نغمے پرورش پا رہے ہیں۔)

من چہ گویم از تولایش کہ چیست

خشک چوبی در فراق او گریست

(میں کیا کہوں کہ آپ (صلعم) کی محبت کیا ہے؛ آپ (صلعم) کے فراق میں خشک لکڑی (حنانہ کا ستون) رونے لگی۔)

ہستی مسلم تجلے گاہ او

طور ہا بالد ز گرد راہ او

(مسلمان کا وجود آپ (صلعم) کی تجلیات کا مہبط ہے؛ آپ (صلعم) کی گرد راہ سے کئی طور پیدا ہوتے ہیں۔)

پیکرم را آفرید آئینہ اش

صبح من از آفتاب سینہ اش

(آپ (صلعم) کے آئینہ (ء قلب) نے مجھے وجود بخشا ؛ میری صبح آپ (صلعم) کے سینے کے آفتاب کی مرہون منت ہے۔)

در تپید دمبدم آرام من

گرم تر از صبح محشر شام من

(پیہم تڑپ ہی میرے لیے تسکین کا باعث ہے؛ میری شام صبح محشر سے بھی زیادہ گرم ہے۔)

ابر آذار است و من بستان او

تاک من نمناک از باران او

(آپ (صلعم) ابر بہار ہیں اور میں آپ (صلعم) کا باغ ہوں؛ میرے تاکستان کی تراوت آپ (صلعم) کی باران (رحمت) سے ہے۔)

چشم در کشت محبت کاشتم

از تماشا حاصلی برداشتم

(میں نے محبت کی کھیتی میں نگاہ شوق بوئی؛ اور نظارہ جمال کی صورت میں پیداوار حاصل کی۔)

خاک یثرب از دو عالم خوشتر است

اے خنک شہری کہ آنجا دلبر است

(مدینہ منوّرہ کی خاک دونوں جہانوں سے پیاری ہے؛ کیا ٹھنڈک پہنچانے والا ہے وہ شہر جہاں محبوب آرام فرما ہے۔)

کشتہ ی انداز ملا جامیم

نظم و نثر او علاج خامیم

(میں جامی کے انداز بیان پہ مفتوں ہوں؛ ان کی نظم اور نثر میری خامی کا علاج ہے۔)

شعر لبریز معانی گفتہ است

در ثنای خواجہ گوہر سفتہ است

(اس نے لبریز معنی شعر کہا ہے: گویا حضور (صلعم) کی تعریف میں موتی پرو دیئے ہیں۔)

“نسخۂ کونین را دیباچہ اوست

جملہ عالم بندگان و خواجہ اوست”

(‘آپ (صلعم) کتاب کونین کا مقدمہ ہیں؛ سارا جہان غلام ہے صرف آپ (صلعم) آقا ہیں’۔)

کیفیت ہا خیزد از صبہای عشق

ہست ہم تقلید از اسمای عشق

(عشق کی شراب سے کئی کیفیتیں پیدا ہوتی ہیں؛ تقلید بھی عشق ہی کا ایک نام ہے۔)

کامل بسطام در تقلید فرد

اجتناب از خوردن خربوزہ کرد

(حضرت بایزید بسطامی (رحمتہ) جو (محبت میں ) کامل تھے؛ وہ تقلید میں بھی بے مثال تھے۔ چنانچہ انہوں نے اس بنا پر خربوزہ کھانے سے اجتناب کیا کہ انہیں معلوم نہ تھا کہ حضور اکرم (صلعم) نے اسے کس طرح کھایا۔)

عاشقی ؟ محکم شو از تقلید یار

تا کمند تو شود یزدان شکار

(اگر تو عاشق ہے؟ تو محبوب (صلعم) کی تقلید سے اپنے عشق کو محکم کر؛ تاکہ تو اللہ تعالے کو اپنی محبت کی کمند میں لا سکے۔ (ان سے کہیں: اگر تم اللہ تعالے سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالے تم سے محبت کرے گا۔)

اندکی اندر حرای دل نشین

ترک خود کن سوی حق ہجرت گزین

(تھوڑی دیر کے لیے اپنے دل کے غار حرا میں خلوت اختیار کر؛ اپنے آپ کو چھوڑ اور اللہ تعالے کی طرف ہجرت کر۔)

محکم از حق شو سوی خود گام زن

لات و عزای ہوس را سر شکن

(پھر اللہ تعالے کی محبت سے محکم ہو کر اپنی طرف واپس آ؛ اور ہوس کے بتوں (لات و عزّی) کا سر توڑ دے۔)

لشکری پیدا کن از سلطان عشق

جلوہ گر شو بر سر فاران عشق

(عشق کی قوّت سے لشکر تیار کر اور عشق کے فاران کی چوٹی پر جلوہ گر ہو۔)

تا خدای کعبہ بنوازد ترا

شرح”انے جاعل” سازد ترا

(تاکہ رب کعبہ تجھے اپنی تجلی سے نواز دے؛ اور خلافت الہی کے بلند مرتبہ پر فائز کرے۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: