(Asrar-e-Khudi-05) (اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی کمزور ہو جاتی ہے) Dar Biyan Aynke Khudi Az Sawal Zaeef Mee Gardd

در بیان اینکہ خودی

در بیان اینکہ خودی از سوال ضعیف میگردد

(اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی میں کمزوری واقع ہوتی ہے۔)

اے فراہم کردہ از شیران خراج

گشتہ ئی روبہ مزاج از احتیاج

(اے (مسلمان ) کبھی تو جو شیروں سے خراج وصول کرتا تھا؛ اب حاجتمندی کے باعث تیری طبیعت لومڑی کی سی ہو گئی ہے۔)

خستگی ہای تو از ناداری است

اصل درد تو ہمین بیماری است

(تیری آرزو کی باعث تیری ناداری ہے؛ تیری ساری تکلیف کی بنیاد یہی بیماری ہے۔)

می رباید رفعت از فکر بلند

می کشد شمع خیال ارجمند

(ناداری فکر بلند سے رفعت چھین لیتی ہے؛ اور اعلی افکار کی شمع کو گل کر دیتی ہے۔)

از خم ہستی می گلفام گیر

نقد خود از کیسہ ی ایام گیر

(تو غلامی کے خمخانہ سے مے رنگین لے؛ زمانے کی جیب سے اپنی نقدی نکال۔)

خود فرود آ از شتر مثل عمر

الحذر از منت غیر الحذر

(حضرت عمر (رضی اللہ ) کی طرح ( اپنا گرا ہوا کوڑا اٹھانے کے لیے) خود اونٹ سے نیچے اتر؛ دوسروں کا احسان اٹھانے سے بچ اور ضرور بچ۔)

تابکے دریوزۂ منصب کنی

صورت طفلان ز نے مرکب کنی

(تو (حکم چلانے کے لیے) کب تک منصب کب بھیک مانگتا رہے گا؛ کب تک بچوں کی طرح سرکنڈے کا گھوڑا بنائے گا۔)

فطرتی کو بر فلک بندد نظر

پست می گردد ز احسان دگر

(وہ فطرت بلند جو آسمان پر نظر رکھتی ہے دوسرے کے احسان سے پست ہو جاتی ہے۔)

از سوال، افلاس گردد خوار تر

از گدائے گدیہ گر نادار تر

(سوال کرنے سے خودی کے اجزا بکھر جاتے ہیں ؛ اور خودی کا نخل سینا تجلّی سے محروم ہو جاتا ہے۔)

از سوال آشفتہ اجزای خودی

بے تجلی نخل سینای خودے

(سوال سے مفلسی اور ذلیل ہو جاتی ہے؛ گدائی سے گداگر اور نادار ہو جاتا ہے۔)

مشت خاک خویش را از ہم مپاش

مثل مہ رزق خود از پھلو تراش

(اپنی مشت خاک کو اور پراگندہ نہ کر ؛ چاند کی طرح اپنے پہلو سے اپنا رزق حاصل کر۔)

گرچہ باشی تنگ روز و تنگ بخت

در رہ سیل بلا افکندہ رخت

(اگرچہ تیری روزی تنگ ہو اور تیرا نصیبا یاور نہ ہو ؛ اور تو مصائب کے سیلاب کی منجدھار ہو۔)

رزق خویش از نعمت دیگر مجو

موج آب از چشمہ ی خاور مجو

(پھر بھی تو دوسرے کی نعمت سے رزق کا جویا نہ ہو؛ چشمہء مشرق سے بھی موج آب کا جویا نہ ہو۔ (عین دریا میں حباب آسا نگوں پیمانہ کر)۔

تا نباشی پیش پیغمبر خجل

روز فردائی کہ باشد جان گسل

(تاکہ تجھے کل ( قیامت کے دن) جو انتہائی کرب انگیز ہو گا؛ حضور (صلعم) کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔)

ماہ را روزے رسد از خوان مہر

داغ بر دل دارد از احسان مہر

(چاند سورج کے دسترخوان سے روزی پاتا ہے؛ اس لیے اس کے دل پر اس احسان کا داغ پڑا ہوا ہے۔)

ہمت از حق خواہ و با گردون ستیز

آبروے ملت بیضا مریز

(اللہ تعالے سے توفیق مانگ اور حالات کا مقابلہ کر ؛ ( کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر) ملت اسلامیہ کی آبرو زائل نہ کر۔)

آنکہ خاشاک بتان از کعبہ رفت

مرد کاسب را”حبیب اللہ” گفت

(جس ذات گرامی (صلعم) نے کعبہ کو بتوں کی خس و خاشاک سے پاک کیا اس کا ارشاد ہے کہ محنت کرنے والا اللہ تعالے کا دوست ہوتا ہے۔)

وای بر منت پذیر خوان غیر

گردنش خم گشتہ ی احسان غیر

(افسوس ہے اس شخص پر جو دوسروں کے دسترخواں کا ا حسانمند ہے؛ جس کی گردن دوسروں کے احسان کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔)

خویش را از برق لطف غیر سوخت

با پشیزی مایہ ی غیرت فروخت

(اس نے اپنے آپ کو دوسروں کی مہربانی کی بجلی سے جلا لیا؛ اس نے ایک کوڑی کے بدلے غیرت کا قیمتی سرمایہ فروخت کر دیا۔)

اے خنک آن تشنہ کاندر آفتاب

می نخواہد از خضر یک جام آب

(کیا خوب ہے وہ شخص جو کڑی دھوپ کے اندر پیاسا ہونے کے باوجود خضر (علیہ) سے بھی پانی کا طلبگار نہ ہو۔)

تر جبین از خجلت سائل نشد

شکل آدم ماند و مشت گل نشد

(جس کی پیشانی پر سوال کرنے کی شرمندگی سے پسینہ نہیں آتا؛ جو اپنی آدمیت برقرار رکھتا ہے، مٹھی بھر خاک کی طرح بے قرار نہیں ہوتا۔)

زیر گردون آن جوان ارجمند

می رود مثل صنوبر سر بلند

(یہ بلند بخت نوجوان آسمان کے نیچے صنوبر کی طرح سر اٹھا کر چلتا ہے۔)

در تہی دستی شود خود دار تر

بخت او خوابیدہ، او بیدار تر

(اگر وہ خالی ہاتھ ہو تو وہ اور خود دار ہو جاتا ہے؛ اس کا نصیبا سو جائے تو وہ اور بیدار ہو جاتا ہے۔)

قلزم زنبیل سیل آتش است

گر ز دست خود رسد شبنم، خوشست

(کشکول اگر سمندر کی طرح بھرا ہوا ہو تو وہ آگ کا سیلاب ہے؛ اگر اپنی کوشش سے شبنم کے چند قطرے بھی کما لیے جائیں وہ بہتر ہیں۔)

چون حباب از غیرت مردانہ باش

ہم بہ بحر اندر نگون پیمانہ باش

(بلبلے کی طرح مردانہ غیرت قائم رکھ؛ سمندر کے اندر بھی اپنے پیمانہ کو الٹائے رکھ۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: