(Asrar-e-Khudi-08) (اس بیان میں کہ یونان کا فلسفی افلاطون جس کے افکار سے مسلم اقوام کے تصوف اور ادب نے بہت زیادہ اثر قبول کیا، مسلک گوسفندی پر چلا ہے) Dar Ma’ani Aynke Aflatoon Yonani Ke Tasawwuf Wa Azbiyat…

در معنی اینکہ افلاطون

در معنی اینکہ افلاطون یونانی کہ تصوف و ادبیات اقوام اسلامیہ از افکار او اثر عظیم پذیرفتہ بر مسلک گوسفندی رفتہ است و از 

(اس مطلب کی وضاحت کے لیے کہ افلاطون جس کے افکار سے تصوّف اور مسلم اقوام کے ادب نے بہت اثر لیا ہے وہ مسلک گوسفندی کا پیرو تھا اس لیے اس کے تخیلات سے بچنا چاہیے۔)

تخیلات او احتراز واجب است

راہب دیرینہ افلاطون حکیم

از گروہ گوسفندان قدیم

(حکیم افلاطون جو ایک قدیم زمانے کا راہب تھا؛ وہ اپنے عہد کے گوسفندوں کے گروہ میں سے تھا۔)

رخش او در ظلمت معقول گم

در کہستان وجود افکندہ سم

(اس کا گھوڑا معقولات کے اندھیرے میں راہ گم کیے ہوئے ہے؛ جو ہستی کے کوہستان میں عاجز ہو کر رک گیا ہے۔)

آنچنان افسون نامحسوس خورد

اعتبار از دست و چشم و گوش برد

(وہ قیاسی علم کے فسوں سے اس قدر مسحور ہوا کہ ہاتھ، آنکھ اور کان (جو تجرباتی علم کے ذرائع ہیں) پر سے اس کا اعتبار جاتا رہا۔)

گفت سر زندگی در مردن است

شمع را صد جلوہ از افسردن است

(کہنے لگا زندگی کا راز مر جانے میں ہے؛ شمع کے بجھ جانے سے سینکڑوں جلوے پیدا ہوتے ہیں۔)

بر تخیلہای ما فرمان رواست

جام او خواب آور و گیتی رباست

(افلاطون) ہمارے افکار پر حکمران ہے؛ حالانکہ اس کا جام خواب آور ہے اور نفیء دنیا کی دعوت دیتا ہے۔)

گوسفندی در لباس آدم است

حکم او بر جان صوفی محکم است

(وہ انسان کے لباس میں ایک گوسفند ہے؛ مگر وہ صوفی کے تخیّل پر مسلط ہے۔)

عقل خود را بر سر گردون رساند

عالم اسباب را افسانہ خواند

(اس نے اپنی عقل کو بہت کچھ سمجھا، اور عالم اسباب کو محض افسانہ بتایا۔)

کار او تحلیل اجزای حیات

قطع شاخ سرو رعنای حیات

(اس کا کام حیات کے اجزا کو ناپید کرنا ہے؛ وہ زندگی کے سرو رعنا کی شاخیں کاٹتا ہے۔)

فکر افلاطون زیان را سود گفت

حکمت او بود را نابود گفت

(افلاطون کے فکر نے انسان کے نقصان کو اس کا فائدہ قرار دیا ؛ اس کے فلسفہ نے موجود کو نا موجود قرار دیا۔)

فطرتش خوابید و خوابی آفرید

چشم ہوش او سرابی آفرید

(اس کی فطرت (سلیم) سو گئی اور اس نے خواب کی دنیا تخلیق کی؛ اس کی آنکھ نے سوتے میں سراب پیدا کیا۔)

بسکہ از ذوق عمل محروم بود

جان او وارفتہ ی معدوم بود

(چونکہ وہ ذوق عمل سے محروم تھا اس لیے اس کی جان عدم کی والہ و شیدا تھی۔)

منکر ہنگامہ ی موجود گشت

خالق اعیان نامشہود گشت

(اس نے ہستی کی کشمکش سے انکار کیا اور وہ عیاں (صور عملیہ) پیدا کیے جن کا خارج سے کوئی تعلق نہ تھا۔)

زندہ جان را عالم امکان خوش است

مردہ دل را عالم اعیان خوش است

(جس شخص کے اندر زندگی ہے اس کے لیے تو ممکنات کی دنیا بہتر ہے؛ البتہ مردہ دل کے لیے خیالی دنیا اچھی ہے۔)

آہوش بے بہرہ از لطف خرام

لذت رفتار بر کبکش حرام

(افلاطون کا آہو خرام کے لطف سے بے بہرہ ہے؛ اس کا چکور لذت رفتار سے محروم ہے۔)

شبنمش از طاقت رم بے نصیب

طایرش را سینہ از دم بے نصیب

(اس کی شبنم پرواز سے بے نصیب ہے؛ اس کے پرندے کے سینے میں نغمہ آرائی کا دم نہیں۔)

ذوق روئیدن ندارد دانہ اش

از طپیدن بے خبر پروانہ اش

(اس کے دانے میں اگنے کا ذوق نہیں ؛ اس کا پروانہ تڑپ سے ناآشنا ہے۔)

راہب ما چارہ غیر از رم نداشت

طاقت غوغای این عالم نداشت

(اس راہب کے لیے فرار کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا ؛ وہ اس دنیا کے ہنگامے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔)

دل بسوز شعلہ ی افسردہ بست

نقش آن دنیای افیون خوردہ بست

(اس لیے اس نے افسردہ انگارے کے سوز سے دل لگایا؛ اور اپنی افیون خوردہ دنیا کا خاکہ تیار کیا۔)

از نشیمن سوی گردون پر گشود

باز سوی آشیان نامد فرود

(اس نے اپنے نشیمن سے آسمان کی طرف پرواز کی لیکن پھر اپنے نشیمن (دنیائے عمل) کی طرف نہ آیا۔)

در خم گردون خیال او گم است

من ندانم درد یا خشت خم است

(اس کا خیال آسمان کے خم میں گم ہو چکا ہے؛ میں نہیں جانتا کہ اس کے پاس تلچھٹ یا وہ خم کے سر پر رکھی ہوئی اینٹ ہے۔)

قومہا از سکر او مسموم گشت

خفت و از ذوق عمل محروم گشت

(اس کی مستی سے قومیں زہر آلود ہو گئیں ؛ سو گئیں اور عمل کا ذوق کھو بیٹھا۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: