(Asrar-e-Khudi-09) (شعر کی حقیقت اور اسلامی ادبیات کی اصلاح کے بارے میں) Dar Haqiqat Shair Wa Islah-e-Adabiat-e-Islamia

در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیہ

(شعر کی حقیقت اور اسلامی ادب کی اصلاح کے بیان میں۔)

گرم خون انسان ز داغ آرزو

آتش، این خاک از چراغ آرزو

(آرزو کے داغ سے انسان کے اندر جوش پیدا ہوتا ہے؛ اس خاک (انسان) کی آگ آرزو سے روشن ہوتی ہے۔)

از تمنا می بجام آمد حیات

گرم خیز و تیزگام آمد حیات

(تمنا زندگی کے جام کی شراب ہے؛ اسی سے زندگی میں سرگرمی اور مستعدی پیدا ہوتی ہے۔)

زندگی مضمون تسخیر است و بس

آرزو افسون تسخیر است و بس

(زندگی کا مقصد کائنات کی قوّتوں کی تسخیر ہے اور آرزو اس تسخیر کا لیے افسوں کا کام دیتی ہے۔)

زندگی صید افکن و دام آرزو

حسن را از عشق پیغام آرزو

(زندگی شکار کھیلتی ہے اور اس کا جال آرزو ہے؛ آرزو حسن کے لیے عشق کی طرف سے پیغام ہے۔)

از چہ رو خیزد تمنا دمبدم

این نواے زندگی را زیر و بم

(ہر لمحہ تمنا کیسے ابھرتی ہے؟ یہ زندگی کے نغمے کا زیر و بم ہے۔)

ہر چہ باشد خوب و زیبا و جمیل

در بیابان طلب ما را دلیل

(جو چیز خوبصورت ، زیبا اور جمیل ہے؛ وہی طلب کے بیابان میں ہمارے لیے رہنما بنتی ہے۔)

نقش او محکم نشیند در دلت

آرزو ہا آفریند در دلت

(تیرے دل میں اس کا نقش پکی طرح جم جاتا ہے؛ اور وہ تیرے اندر آرزويں پیدا کرتی ہے۔)

حسن خلاق بہار آرزوست

جلوہ اش پروردگار آرزوست

(حسن بہار آرزو کا خلّاق ہے؛ اس کے جلووں سے آرزو پرورش پاتی ہے۔)

سینہ ی شاعر تجلی زار حسن

خیزد از سینای او انوار حسن

(شاعر کا سینہ جلوہ گاہء حسن ہے؛ اس (طور) سینا سے حسن کے انوار پھوٹتے ہیں۔)

از نگاہش خوب گردد خوب تر

فطرت از افسون او محبوب تر

(اس شاعر کی نگاہ سے خوبصورت چیز اور خوبصورت ہو جاتی ہے؛ اس کے اشعار کے افسوں سے فطرت کا حسن زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔)

از دمش بلبل نوا آموخت است

غازہ اش رخسار گل افروخت است

(شاعر کے نغمے سے بلبل نے نوا سیکھی ہے؛ اس کے غازے نے پھول کو چمکا دیا ہے۔)

سوز او اندر دل پروانہ ہا

عشق را رنگین ازو افسانہ ہا

(پروانوں کے دل میں اسی کا سوز ہے ؛ وہی عشق کے افسوں کو رنگیں بناتا ہے۔)

بحر و بر پوشیدہ در آب و گلشن

صد جھان تازہ مضمر در دلش

(شاعر کے آب و گل میں سمندر اور خشکی پوشیدہ ہے؛ اس کے دل کے اندر سینکڑوں جہاں مستور ہیں۔)

در دماغش نادمیدہ لالہ ہا

ناشنیدہ نغمہ ہا ھم نالہ ہا

(اس کے دماغ میں ایسے گل ہائے لالہ موجود ہیں جو ابھی پھوٹے نہیں؛ وہ ایسے نغموں اور نالوں سے بھرا ہوتا ہے جو ابھی تک کسی نے نہیں سنے۔)

فکر او با ماہ و انجم ہمنشین

زشت را نا آشنا خوب آفرین

(اس کے فکر کی پرواز ماہ و انجم تک ہے؛ وہ بدصورتی سے نا آشنا ہے، صرف حسن کی تخلیق کرتا ہے۔)

خضر و در ظلمات او آب حیات

زندہ تر از آب چشمش کائنات

(خضر کی مانند شاعر کے ظلمات میں آب حیات ہے؛ اس کے آنسو کائنات کو زندہ تر کر دیتا ہے۔)

ما گران سیریم و خام و سادہ ایم

در رہ منزل ز پا افتادہ ایم

(ہم سست رو ، نا پختہ اور بے سمجھ ہیں اور منزل کی راہ میں گرے پڑے ہیں۔)

عندلیب او نوا پرداخت است

حیلہ ئی از بہر ما انداخت است

(اس کا عندلیب نوا ریز ہے ؛ جو ہمیں سفر پر آمادہ کرتا ہے۔)

تا کشد ما را بفردوس حیات

حلقہ ی کامل شود قوس حیات

(تاکہ ہمیں زندگی کی بہشت تک پہنچا دے اور ہماری زندگی کی قوس پورا دائرہ بن جائے (ہم مکمل ہو جائیں)۔

کاروانھا از درایش گام زن

در پی آواز نایش گام زن

(اس کی بانگ درا سے قافلے روانہ ہوتے ہیں ؛ اور اس کی لے کی آواز پر سفر جاری رکھتے ہیں۔)

چون نسیمش در ریاض ما وزد

نرمک اندر لالہ و گل می خزد

(وہ ہماری زندگی کے باغ میں نسیم بن کر آتا ہے؛ اور لالہ و گل میں آہستگی سے داخل ہو جاتا ہے۔)

از فریب او خود افزا زندگی

خود حساب و نا شکیبا زندگی

(اس کے جادو سے زندگی کی قوّت میں اضافہ ہوتا ہے؛ زندگی اپنا محاسبہ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے بے تاب ہو جاتی ہے۔)

اہل عالم را صلا بر خوان کند

آتش خود را چو باد ارزان کند

(وہ دنیا والوں کو اپنے دسترخواں کی طرف دعوت دیتا ہے؛ اور اپنی آتش شوق کو ہوا کی طرح ‏ عام کرتا ہے۔)

واے قومے کز اجل گیرد برات

شاعرش وا بوسد از ذوق حیات

(افسوس اس قوم پر جو اپنی موت لانے میں خود حصّہ دار بنتی ہے؛ جس کا شاعر ذوق حیات سے روگرداں ہے۔)

خوش نماید زشت را آئینہ اش

در جگر صد نشتر از نوشینہ اش

(جس کا آئینہ (افکار) بری چیز کو اچھی کر کے دکھاتا ہے؛ جس کا شہد جگر میں سینکڑوں نشتر چبھو دیتا ہے ۔)

بوسہ ی او تازگی از گل برد

ذوق پرواز از دل بلبل برد

(جو پھول کو بوسہ دے تو وہ پژمردہ ہو جاتا ہے؛ جو بلبل کے دل سے ذوق پرواز چھین لیتا ہے۔)

سست اعصاب تو از افیون او

زندگانی قیمت مضمون او

(جس کی افیون افراد اقوام کے اعصاب شل کر دیتی ہے؛ جس کا مضمون قوم سے زندگی چھین لیتی ہے۔)

می رباید ذوق رعنائی ز سرو

جرہ شاہین از دم سردش تذرو

(جو سرو سے بانکپن کا ذوق چھین لیتا ہے؛ جس کی آہ سرد نر شاہین کو چڑیا بنا دیتی ہے۔)

ماہی و از سینہ تا سر آدم است

چون بنات آشیان اندر یم است

(ایسا شاعر ہے مچھلی لیکن سینے سے سر تک آدم کی صورت رکھتا ہے ۔ بنات البحر کی طرح وہ سمندر ہی میں رہتا ہے۔)

از نوا بر ناخدا افسون زند

کشتیش در قعر دریا افکند

(وہ اپنے نغمے سے ملاح کو سحر زدہ کر دیتا ہے؛ اور اس کی کشتی کو دریا کی گہرائی میں غرق کر دیتا ہے۔)

نغمہ ہایش از دلت دزدد ثبات

مرگ را از سحر او دانی حیات

(اس کے نغمے دلوں سے استقلال چھین لیتے ہیں؛ اس کے جادو سے لوگ موت کو زندگی سمجھنے لگتے ہیں۔)

دایہ ی ہستی ز جان تو برد

لعل عنابی ز کان تو برد

(وہ تیرے اندر سے زندگی کی خواہش نکال لیتا ہے؛ گویا تیری کان کے اندر سے سرخ لعل نکال لیتا ہے۔)

چون زیان پیرایہ بندد سود را

می کند مذموم ہر محمود را

(وہ نفع کو نقصان بنا کر دکھاتا ہے؛ اور ہر اچھی چیز کو بری بنا دیتا ہے۔)

در یم اندیشہ اندازد ترا

از عمل بیگانہ می سازد ترا

(وہ تجھے وسوسوں کے سمندر میں ڈال دیتا ہے اور اس طرح عمل سے بیگانہ بنا دیتا ہے۔)

خستہ و ما از کلامش خستہ تر

انجمن از دور جامش خستہ تر

(اس کے کلام سے بیمار اور زیادہ بیمار ہو جاتا ہے ؛ اس کا جام انجمن کو اور افسردہ کر دیتا ہے۔)

جوی برقی نیست در نیسان او

یک سراب رنگ و بو بستان او

(اس کے بادل میں برق کی ندی نہیں؛ اس کا باغ رنگ و بو کا سراب ہے۔)

حسن او را با صداقت کار نیست

در یمش جز گوہر تف دار نیست

(اس (کے الفاظ ) کی خوبصورتی کو سچائی سے کوئی سروکار نہیں ؛ اس کا سمندر میں عیب دار موتیوں کے سوا اور کچھ نہیں۔)

خواب را خوشتر ز بیداری شمرد

آتش ما از نفسہایش فسرد

(وہ نیند کو بیداری سے بہتر قرار دیتا ہے؛ اس کی پھونکوں سے آگ تیز ہونے کی بجائے الٹا بجھ جاتی ہے۔)

قلب مسموم از سرود بلبلش

خفتہ ماری زیر انبار گلشن

(اس کی بلبل کے نغموں سے قلب مسموم ہو جاتا ہے؛ اس کے پھولوں کے انبار کے نیچے سانپ سویا ہوا ہے۔)

از خم و مینا و جامش الحذر

از می آئینہ فامش الحذر

(اس کے خم ، مینا اور جام سے خدا بچائے ؛ اس کی آئینہ مانند شفاف شراب سے خدا محفوظ رکھے۔)

اے ز پا افتادہ ی صہبای او

صبح تو از مشرق مینای او

(تو ایسے ہی شاعر کی شراب پی کر گر پڑا ہے؛ تیری صبح اس کی مینا کی مرہون منت ہے۔)

اے دلت از نغمہ ہایش سرد جوش

زہر قاتل خوردہ ئی از راہ گوش

(اس کے نغمے سے تیرے دل کا جوش ٹھنڈا ہو چکا ہے ؛ تو نے اس کے نغموں کی صورت میں کان کی راہ سے زہر قاتل کھایا ہے۔)

اے دلیل انحطاط انداز تو

از نوا افتاد تار ساز تو

(تیرا انداز ہی انحطاط کی دلیل ہے؛ تیرے ساز کا تار نوا پیدا کرنے سے قاصر ہے۔)

آن چنان زار از تن آسانی شدی

در جہان ننگ مسلمانی شدی

(تو آرام طلبی کے باعث اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کے لیے باعث شرم ہے۔)

از رگ گل می توان بستن ترا

از نسیمی می توان خستن ترا

(تجھے پھول کی رگ سے باندھا جا سکتا ہے؛ باد نسیم کا جھونکا تجھے زخمی کر دیتا ہے۔)

عشق رسوا گشتہ از فریاد تو

زشت رو تمثالش از بہزاد تو

(تیری آہ و پکار نے عشق کو رسوا کر دیا ہے؛ تیری مصوّری نے عشق کی جو تصویرکھینچی ہے وہ بدصورت ہے۔)

زرد از آزار تو رخسار او

سردے تو بردہ سوز از نار او

(تیری بیماری کی وجہ سے عشق کے رخسار بھی زرد ہو چکے ہیں؛ تیری بے حسی نے عشق کی آگ کی تپش ختم کر دی ہے۔)

خستہ جان از خستہ جانیہای تو

ناتوان از ناتوانیھای تو

(تیرے زخموں کی وجہ سے تیرا عشق بھی مضمحل ہے؛ تیری کمزوری کی وجہ سے تیرا عشق (تب و) تواں سے محروم ہے۔)

گریہ ی طفلانہ در پیمانہ اش

کلفت آہی متاع خانہ اش

(تیرے عشق کے پیمانے میں سوائے بچوں کی طرح رونے کے اور کچھ نہیں ؛ اس کے گھر کی ساری متاع صرف لمبی آہیں بھرنا ہے۔)

سر خوش از دریوزہ ی میخانہ ہا

جلوہ دزد روزن کاشانہ ہا

(تیرا عشق میخانے کی بھیک سے سرمست ہے؛ اس کا کام دوسروں کے روزن سے روشنی چرانا ہے۔)

نا خوشی، افسردہ ئی، آزردہ ئی

از لگد کوب نگہبان مردہ ئی

(یہ عشق ہمیشہ نا خوش، افسردہ اور آزردہ رہتا اور (خانہء محبوب کے) پاسبان کی مار پیٹ سے ادھ موا رہتا ہے۔)

از غمان مانند نے کاہیدہ ئی

وز فلک صد شکوہ بر لب چیدہ ئی

(غموں کے ہجوم کی وجہ سے وہ سرکنڈے کی مانند نحیف و نازار ہے؛ اس کی زیاں پر ہمیشہ آسمان کے سینکڑوں شکوے رہتے ہیں۔)

لابہ و کین جوھر آئینہ اش

ناتوانی ھمدم دیرینہ اش

(اس کے آئینہء فطرت کا جوہر خوشامد یا کینہ ہے؛ اور کمزوری سے اس کا پرانا ساتھ ہے ۔)

پست بخت و زیر دست و دون نہاد

ناسزا و ناامید و نامراد

(یہ عشق کم نصیبی، کمزوری، پست فطرتی، نالائقی ، نا امیدی اور نا کامی کا شکار رہتا ہے۔)

شیونش از جان تو سرمایہ برد

لطف خواب از دیدہ ی ہمسایہ برد

(اس کی آہ و پکار نے تمہاری زندگی کی پونجی اور ہمسایوں کی آنکھوں سے نیند کا لطف چھین لیا ہے۔)

وای بر عشقی کہ نار او فسرد

در حرم زائید و در بتخانہ مرد

(افسوس ایسے عشق پر جس کی آگ بجھ چکی ہو؛ جو حرم میں پیدا ہوا اور بتخانہ میں جا کر مر گیا۔)

اے میان کیسہ ات نقد سخن

بر عیار زندگی او را بزن

(اے وہ شخص جس کی جیب میں سخن کی نقدی ہے (شاعر سے کہہ رہے ہیں) اپنی شاعری کو زندگی کی کسوٹی پر کس۔)

فکر روشن بین عمل را رہبر است

چون درخش برق پیش از تندر است

(پر امید سوچ عمل کی راہبر ہوتی ہے؛ اس کی مثال یوں ہے جیسے کڑک سے پہلے بجلی کی چمک۔)

فکر صالح در ادب می بایدت

رجعتی سوی عرب می بایدت

(ادب میں فکر صالح ہونا چاہیے (جو عمل کی طرف رہنمائی کرے) ؛ ہمیں دوبارہ عرب کے ادب کی طرف لوٹنا چاہیے۔)

دل بہ سلمای عرب باید سپرد

تا دمد صبح حجاز از شام کرد

(دل عرب کی محبوبہ کے سپرد کرنا چاہیے؛ تاکہ کرد کی شام سے حجاز کی صبح پھوٹے۔)

از چمن زار عجم گل چیدہ ئی

نو بھار ہند و ایران دیدہ ئی

(تو نے عجم کے باغ سے پھول چنے ہیں؛ ہند اور ایران کی نو بہار دیکھی ہے۔)

اندکی از گرمی صحرا بخور

بادہ ی دیرینہ از خرما بخور

(اب تھوڑی دیر کے لیے صحرا کی گرمی میں وہاں کی کھجور سے حاصل کی ہوئی پرانی شراب بھی چکھ۔)

سر یکے اندر بر گرمش بدہ

تن دمی با صرصر گرمش بدہ

(ذرا صحرا کے گرم پہلو میں بھی سر ڈال؛ تھوڑی دیر کے لیے اپنے بدن کو اس کی باد صرصر کے حوالے کر۔)

مدتے غلطیدہ ئی اندر حریر

خو بہ کرپاس درشتی ہم بگیر

(تو بڑی مدت تک ریشمی لباس سے لطف اندوز ہوتا رہا ہے؛ اب تھوڑی دیر کے لیے کھردرا کپڑا پہننے کی عادت ڈال۔)

قرنھا بر لالہ پا کوبیدہ ئی

عارض از شبنم چو گل شوئیدہ ئی

(تو صدیوں تک گل لالہ کی پتیوں پر رقص کرتا رہا ہے؛ تو پھول کی مانند اپنے رخسار کو شبنم سے دھوتا رہا ہے۔)

خویش ر بر ریگ سوزان ہم بزن

غوطہ اندر چشمہ ی زمزم بزن

(اب اپنے آپ کو تپتی ہوئی ریت پر بھی سرگرم سفر کر؛ چشمہء زمزم کے اندر بھی غوطہ زن ہو۔)

مثل بلبل ذوق شیون تا کجا

در چمن زاران نشیمن تا کجا

(بلبل کی مانند کب تک نالہ و شیون میں مست رہے گا؛ کب تک اپنا نشیمن باغوں میں بنائے رکھے گا۔)

اے ھما از یمن دامت ارجمند

آشیانی ساز بر کوہ بلند

(اے وہ شخص! جس کے دام کی برکت سے ہما جیسا پرندہ گراں قیمت ہو جاتا ہے؛ تو کسی بلند پہاڑ کی چوٹی پر اپنا آشیاں بنا۔)

آشیانی برق و تندر در بری

از کنام جرہ بازان برتری

(ایسا آشیانہ، بجلی اور کڑک اس کے پہلو میں ہوں ؛ جو نر بازوں کے گھونسلوں سے کہیں بلند ہو۔)

تا شوی در خورد پیکار حیات

جسم و جانت سوزد از نار حیات

(تاکہ تو کشمکش حیات کے قابل ہو؛ اور تیرا جسم اور جان آتش حیات سے سوزاں ہو۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: