(Asrar-e-Khudi-11) (حضرت علی مرتضیٰ کے اسما کے بھیدوں کی تشریح) Dar Sharah Asrar-e-Isma’ay Ali Murtaza (R.A.)

در شرح اسرار اسمای علی مرتضی

(حضرت علی مرتضی (رضی اللہ) کے اسماء کے اسرار کی شرح۔)

مسلم اول شہ مردان علے

عشق را سرمایہ ی ایمان علے

(سب سے پہلے ایمان قبول کرنے والے، بہادروں کے سردار سیدنا علی مرتضی (رضی اللہ)؛ آپ (رضی اللہ) عشق کے لیے ایمان کا سرمایہ تھے (قرآن پاک کے مطابق ‘وہ جو ایمان والے ہیں ان کی اللہ تعالے سے محبت شدید ہے’ – سورہ بقرہ۔)

از ولای دودمانش زندہ ام

در جہان مثل گہر تابندہ ام

(میں ان کے خاندان کی محبت سے زندہ ہوں اور دنیا میں موتی کی طرح چمک رہا ہوں۔)

نرگسم وارفتہ ی نظارہ ام

در خیابانش چو بو آوارہ ام

(میں نرگس ہوں (ان کے) نظارے میں سرمست ہوں ؛ میں ان کے باغ میں خوشبو کی طرح پھر رہا ہوں۔)

زمزم ار جوشد ز خاک من ازوست

می اگر ریزد ز تاک من ازوست

(اگر میری خاک سے زمزم کا چشمہ ابل رہا ہے تو یہ ان کی وجہ سے ہے؛ اگر میرے انگور سے شراب ٹپک رہی ہے تو یہ انہی کی بدولت ہے۔)

خاکم و از مہر او آئینہ ام

می توان دیدن نوا در سینہ ام

(اگرچہ میں خاک ہوں مگر ان کی محبت سے آئینہ بن گیا ہوں ؛ میرا سینہ اتنا شفاف ہے کہ اس کے اندر نغمے کو دیکھا جا سکتا ہے۔)

از رخ او فال پیغمبر گرفت

ملت حق از شکوہش فر گرفت

(جناب رسول اکرم (صلعم) حضرت علی (رضی اللہ ) کے چہرہ سے فال لیتے تھے؛ ان کےشکوہ سے ملت اسلامیہ نے عزت پائی۔)

قوت دین مبین فرمودہ اش

کائنات آئین پذیر از دودہ اش

(حضور اکرم (صلعم) نے انہیں دین مبین کی قوّت فرمایا ہے ؛ ان کے خاندان سے کائنات کو قانون ملا ہے۔)

مرسل حق کرد نامش بوتراب

حق”یداللہ” خواند در ام الکتاب

(اللہ تعالے کے نبی (صلعم) نے انہیں ابو تراب کا لقب دیا؛ اللہ تعالے نے قرآن پاک میں یداللہ کہا ہے۔ (بیت رضوان کے موقعہ پر صحابہ کرام (رضی اللہ) نے حضور اکرم (صلعم) کے دست مبارک پر بیعت کی، اللہ تعالے نے فرمایا کہ ان کے ہاتھ پر اللہ تعالے کا ہاتھ ہے۔)

ہر کہ دانای رموز زندگیست

سر اسمای علی داند کہ چیست

(جو شخص زندگی کے اسرار جانتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ حضرت علی (رضی اللہ) کے اسماء کا راز کیا ہے۔)

خاک تاریکی کہ نام او تن است

عقل از بیداد او در شیون است

(یہ تاریک خاک جس کا نام بدن ہے؛ جس کے ظلم سے عقل آہ و فریاد کرتی ہے۔)

فکر گردون رس زمین پیما ازو

چشم کور و گوش ناشنوا ازو

(اس کی وجہ سے آسمان کی بلندی تک پہنچنے والا ہمارا فکر زمین ناپنے لگتا ہے؛ اس کی آنکھ اندھی ہو جاتی ہے اور کان بہرے۔)

از ہوس تیغ دو رو دارد بدست

رہروان را دل برین رہزن شکست

(یہ فکر ہوس کے سبب ہاتھ میں دو دھاری تلوار رکھتا ہے اور اس رہزن کی وجہ سے مسافروں کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔)

شیر حق این خاک را تسخیر کرد

این گل تاریک را اکسیر کرد

(شیر خدا سیدنا علی (رضی اللہ) نے اس خاک کو مسخر کر لیا اور (بدن کی) مٹی کو اکسیر بنا لیا۔)

مرتضی کز تیغ او حق روشن است

بوتراب از فتح اقلیم تن است

(مرتضی (رضی اللہ) جن کی تلوار سے سچائی دنیا میں روشن ہوئی؛ انہوں نے بدن کی ولایت پر فتح پانے کے باعث بو تراب کا لقب پایا۔)

مرد کشور گیر از کراری است

گوہرش را آبرو خودداری است

(کرّاری خودداری ہے اور خود داری ہی سے مرد کے گوہر (اصلیت) کی آبرو ہے۔)

ہر کہ در آفاق گردد بوتراب

باز گرداند ز مغرب آفتاب

(کائنات جو بھی بو تراب بن جاتا ہے؛ وہ آفتاب کو مغرب سے لوٹا لیتا ہے۔)

ہر کہ زین بر مرکب تن تنگ بست

چون نگین بر خاتم دولت نشست

(جو شخص بھی بدن کے گھوڑے پر زین کس لیتا ہے؛ وہ سلطنت کی انگوٹھی میں نگینہ کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔)

زیر پاش اینجا شکوہ خیبر است

دست او آنجا قسیم کوثر است

(اس دنیا میں فتح خیبر کی شان و شکوہ اس کے پاؤں کے نیچے ہوتی ہے اور وہاں اس کا ہاتھ آب کوثر تقسیم کرتا ہے۔)

از خود آگاہے یداللہی کند

از یداللہی شہنشاہی کند

(وہ خود آگہی کے ذریعے اللہ تعالے کا ہاتھ بن جاتا ہے اور اللہ تعالے کا ہاتھ بن کر دنیا پر حکومت کرتا ہے۔)

ذات او دروازہ ی شہر علوم

زیر فرمانش حجاز و چین و روم

(اس کی ذات شہر علوم کا دروازہ ہو جاتی ہے؛ حجاز، چین اور روم سب اس کے زیر فرمان ہوتے ہیں۔)

حکمران باید شدن بر خاک خویش

تا می روشن خوری از تاک خویش

(تجھے اپنے بدن کی خاک پر حکمران ہونا چاہیے تاکہ تو اپنے انگور سے مے ناب پی سکے۔)

خاک گشتن مذہب پروانگیست

خاک را اب شو کہ این مردانگیست

(خاک ہو جانا پروانے کا مذہب ہے اور خاک کا باپ (بو تراب ) بن کہ یہی مردانگی ہے۔)

سنگ شو اے ہمچو گل نازک بدن

تا شوے بنیاد دیوار چمن

(اے وہ شخص جو پھول کی مانند نازک بدن ہے، تو پتھر بن تاکہ دیوار چمن کی بنیاد بن سکے۔)

از گل خود آدمی تعمیر کن

آدمی را عالمی تعمیر کن

(اپنی مٹی سے نیا انسان تعمیر کر اور پھر انسانوں کے لیے نیا جہان تعمیر کر۔)

گر بنا سازی نہ دیوار و دری

خشت از خاک تو بندد دیگری

(اگر تو اپنی خاک سے دیوار و در کی بنیاد نہ رکھے گا تو کوئی اور تیری مٹی سے اینٹ بنا کر اسے ( اپنی عمارت میں ) استعمال کر لے گا۔)

اے ز جور چرخ ناہنجار تنگ

جام تو فریادی بیداد سنگ

(تو جو کج رو آسمان سے تنگ ہے؛ تیرا جام پتھر کی زیادتی سے فریادی ہے۔)

نالہ و فریاد و ماتم تا کجا؟

سینہ کوبیہای پیہم تا کجا؟

(کب تک تو نالہ و فریاد ، سینہ کوبی اور ماتم میں لگا رہے گا۔)

در عمل پوشیدہ مضمون حیات

لذت تخلیق قانون حیات

(زندگی کی حقیقت عمل میں پوشیدہ ہے ؛ لطف تخلیق ہی قانون حیات ہے۔)

خیز و خلاق جہان تازہ شو

شعلہ در بر کن خلیل آوازہ شو

(اٹھ اور ایک نئے جہان کا خلاق بن ؛ آگ میں بیٹھ اور ابراہیم (علیہ) کی سی شہرت پا۔)

با جہان نامساعد ساختن

ہست در میدان سپر انداختن

(ناموافق دنیا کے ساتھ موافقت پیدا کرنا ، میدان جنگ میں ہتھیار ڈال دینا ہے۔)

مرد خودداری کہ باشد پختہ کار

با مزاج او بسازد روزگار

(وہ خود دار جوانمرد جو عمل میں پختہ ہو ؛ زمانہ اس کے مزاج کے ساتھ خود موافقت پیدا کر لیتا ہے۔)

گر نسازد با مزاج او جہان

می شود جنگ آزما با آسمان

(اگر دنیا اس کے مزاج کے ساتھ موافقت نہ کرے تو وہ آسمان کے ساتھ جنگ آزما ہوتا ہے۔)

بر کند بنیاد موجودات را

می دہد ترکیب نو ذرات را

(وہ کائنات کی بنیاد کھود ڈالتا ہے اور ذرّات کو نئی ترتیب دے کر ان سے نیا جہان پیدا کرتا ہے۔)

گردش ایام را برھم زند

چرخ نیلی فام را برہم زند

(وہ نیلے آسمان اور ایام کی گردش کو الٹ پلٹ کر دیتا ہے۔)

می کند از قوت خود آشکار

روزگار نو کہ باشد سازگار

(وہ اپنی قوّت سے ایسا نیا زمانہ وجود لاتا ہے جو اس (کے افکار) سے مطابقت رکھتا ہے۔)

در جہان نتوان اگر مردانہ زیست

ہمچو مردان جانسپردن زندگیست

(اگر دنیا میں مردانہ وار زندگی بسر کرنا ممکن نہ ہو تو مردوں کی طرح جان دے دینا ہی زندگی ہے۔)

آزماید صاحب قلب سلیم

زور خود را از مہمات عظیم

(قلب سلیم رکھنے والا شخص عظیم کارناموں سے اپنی قوّت کی آزمائش کرتا ہے۔)

عشق با دشوار ورزیدن خوشست

چون خلیل از شعلہ گلچیدن خوشست

(مشکلات ہی سے عشق کرنا اچھا ہے؛ خلیل اللہ (علیہ) کی طرح شعلے سے پھول چننا ہی اچھا لگتا ہے۔)

ممکنات قوت مردان کار

گردد از مشکل پسندی آشکار

(وہ لوگ جو مرد میدان ہیں ان کی قوّت کے دائرہء ممکنات کا اندازہ مشکل پسندی ہی سے سامنے آتا ہے۔)

حربہ ی دون ہمتان کین است و بس

زندگی را این یک آئین است و بس

(پست ہمت لوگوں کا ہتھیار صرف آئینہ ہے؛ ان کی زندگی کا صرف یہی ایک دستور ہے۔)

زندگانے قوت پیداستی

اصل او از ذوق استیلاستی

(زندگی ظاہر قوّت ہے اور اس کی حقیقت (مشکلات پر) قابو پانے کا لطف ہے ۔)

ق

عفو بیجا سردی خون حیات

سکتہ ئی در بیت موزون حیات

(عفو بیجا ظاہر کرتا ہے کہ زندگی کا خون سرد ہو چکا ہے؛ یہ طرز عمل زندگی کے موزوں شعر میں سکتہ کی مانند ہے۔)

ہر کہ در قعر مذلت ماندہ است

ناتوانی را قناعت خواندہ است

(ذلت کی گہرائی میں پڑا ہوا انسان اپنی ناتوانی کو قناعت کا نام دیتا ہے۔)

ناتوانے زندگی را رہزن است

بطنش از خوف و دروغ آبستن است

(حالانکہ ناتوانی زندگی کے لیے راہزن ہے (وہ زندگی کی پونجی لوٹ لیتی ہے )۔ ناتوانی کے بطن سے جھوٹ اور خوف پیدا ہوتے ہیں (کمزور آدمی ڈر کے مارے جھوٹ بولتا ہے)۔

از مکارم اندرون او تہی است

شیرش از بہر ذمائم فربہی است

(اس کا اندرون اعلی اخلاقی اقدار سے خالی ہوتا ہے؛ اس کا دودھ برائیوں کو موٹا کرتا ہے۔)

ہوشیار اے صاحب عقل سلیم

در کمینہا می نشیند این غنیم

(اے عقل سلیم رکھنے والے شخص! خبردار رہ یہ دشمن ہر وقت تیری گھات میں ہے۔)

گر خردمندی فریب او مخود

مثل حر با ہر زمان رنگش دگر

(اگر تو عقلمند ہے تو اس کا فریب نہ کھا، یہ (کمزوری ) ہر لحظہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی ہے۔)

شکل او اھل نظر نشناختند

پردہ ہا بر روی او انداختند

(اہل نظر بھی اس کی صورت نہیں پہچانتے بلکہ وہ اس کے چہرے پر کئی پردے ڈال دیتے ہیں۔)

گاہ او را رحم و نرمی پردہ دار

گاہ می پوشد ردای انکسار

(کبھی رحم اور نرمی ناتوانی کا پردہ دار ہوتی ہے اور کبھی یہ انکسار کی چادر اوڑھ لیتی ہے۔)

گاہ او مستور در مجبوری است

گاہ پنہان در تہ معذوری است

(کبھی وہ مجبوری کے پردے میں چھپی ہوتی ہے اور کبھی معذوری کی تہ میں (کمزور لوگ مجبوری اور معذوری کا بہانہ بناتے ہیں)۔

چہرہ در شکل تن آسانی نمود

دل ز دست صاحب قوت ربود

(کبھی یہ اپنے آپ کو تن آسانی کی صورت میں ظاہر کرتی ہے اور اس طرح صاحب قوّت شخص کو بے ہمت بنا دیتی ہے۔)

با توانائی صداقت توأم است

گر خود آگاہی ہمین جام جم است

(قوّت اور سچائی دو جڑواں بچے ہیں ؛ اگر تو اپنی قوتوں سے آگاہ ہے تو یہی تیرے لیے جام جم ہے۔)

زندگی کشت است و حاصل قوتست

شرح رمز حق و باطل قوتست

(زندگی کھیت ہے اور اس کا حاصل قوّت ہے، حق باطل کے راز کی وضاحت قوّت ہی میں پوشیدہ ہے ( حق ہو یا باطل قوّت ہی سے پھیلتے ہیں)۔

مدعی گر مایہ دار از قوت است

دعوی او بے نیاز از حجت است

(اگر دعوی دار کے پاس قوّت ہے تو اس کے دعوے کو کسی دلیل کی حاجت نہیں۔)

باطل از قوت پذیرد شان حق

خویش را حق داند از بطلان حق

(قوّت ہی سے باطل حق کی شان اختیار کر لیتا ہے اور حق کو جھٹلا کے اپنے آپ کو حق سمجھنے لگتا ہے۔)

از کن او زھر کوثر می شود

خیر را گوید شری، شر می شود

(باطل کے پاس قوّت ہو تو وہ زہر کو کوثر بنا کر پیش کرتا ہے؛ وہ خیر کو شر کہہ کر اسے شر بنا دیتا ہے۔)

اے ز آداب امانت بیخبر

از دو عالم خویش را بہتر شمر

(اے انسان! تجھے جو امانت عطا ہوئی تو اس (کی ذمہ داری) کے آداب سے بے خبر ہے۔ تجھے چاہیے کہ اپنے آپ کو دونوں جہانوں سے بہتر سمجھے۔)

از رموز زندگے آگاہ شو

ظالم و جاہل ز غیر اللہ شو

(زندگی کے اسرار سے آگاہی حاصل کر؛ اللہ تعالے کے علاوہ ہر شے سے ظالم و جاہل ہو جا (سورہ الاحزاب کی آیہ 72 کی طرف اشارہ ہے)۔

چشم و گوش و لب گشا اے ہوشمند

گر نبینی راہ حق بر من بخند

(اے عقلمند! اپنی آنکھ، کان اور لب کھولے رکھ ؛ اگر تجھے پھر بھی اللہ تعالے کا راستہ نظر نہ آئے تو بے شک میری ہنسی اڑانا۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: