(Asrar-e-Khudi-12) (مرو کے ایک نوجوان کی داستان جو مخدوم حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا اور دشمنوں کے ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی) Hakayat-e-Nujawane Az Maro Ke Paish Hazrat Makhdoom Ali Hajveri (R.A.)…

حکایت حضرت سید مخدوم علی ھجویری

حکایت نوجوانی از مرو کہ پیش حضرت سید مخدوم علی ھجویری رحمة اﷲ علیہ آمدہ از ستم اعدا فریاد کرد

(مرو کے ایک نوجوان کی حکایت جس نے سید علی ہحویری (رحمتہ اللہ) کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے دشمنوں کے ظلم کی فریاد کی۔)

سید ہجویر مخدوم امم

مرقد او پیر سنجر را حرم

(سید علی ہحویری (رحمتہ اللہ) جو قوموں کے مخدوم ہیں ، جن کا مرقد خواجہ معین الدین چشتی (رحمتہ اللہ) کے لیے حرم کی مانند ہے (انہوں نے یہاں چلہ کشی کی تھی)۔

بند ہای کوہسار آسان گسیخت

در زمین ہند تخم سجدہ ریخت

(جو پہاڑوں کی رکاوٹیں آسانی سے توڑ کر ہند میں پہنچے اور یہاں کی سرزمین میں سجدے کا بیج بویا۔)

عہد فاروق از جمالش تازہ شد

حق ز حرف او بلند آوازہ شد

(ان کی روحانیت سے یہاں (اسلام پھیلا) اور فاروق اعظم (رضی آلّہ) کا عہد تازہ ہو گیا؛ ان کی تبلیغ سے دین حق کا بول بالا ہوا۔)

پاسبان عزت ام الکتاب

از نگاہش خانہ ی باطل خراب

(آپ قرآن پاک کی عزت کے نگہبان تھے؛ آپ کی نگاہ سے ہند کے اندر باطل کی بربادی ہوئی۔)

خاک پنجاب از دم او زندہ گشت

صبح ما از مہر او تابندہ گشت

(پنجاب کی سرزمین ان کے دم قدم سے زندہ ہو گئی؛ ان کے آفتاب نے ہماری صبح روشن کر دی۔)

عاشق و ھم قاصد طیار عشق

از جبینش آشکار اسرار عشق

(وہ خود عشق میں سرشار تھے اور عشق کے تیز رفتار پیامبر بھی تھے؛ ان کی روشن پیشانی سے عشق کے بھید آشکار ہوئے۔)

داستانے از کمالش سر کنم

گلشنی در غنچہ ئی مضمر کنم

(میں آپ کے کمال کی ایک داستان بیان کرتا ہوں؛ میری یہ کوشش غنچے کے اندر پورا باغ سمیٹنے کے مترادف ہے۔)

نوجوانی قامتش بالا چو سرو

وارد لاہور شد از شہر مرو

(شہر مرو (ترکستان) سے ایک نوجوان جو سرو کی مانند بلند قامت تھا لاہور آیا۔)

رفت پیش سید والا جناب

تا رباید ظلمتش را آفتاب

(وہ بلند مرتبت سید ہجویری (رحمتہ اللہ) کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ ان کا آفتاب اس کے (دل میں) تاریکی کو دور کر دے۔)

گفت”محصور صف اعداستم

درمیان سنگہا میناستم

(وہ کہنے لگا میں دشمنوں کی صفوں میں گھرا ہوا ہوں؛ میری مثال وہی ہے جو پتھر وں کے درمیان مینا کی۔)

با من آموز اے شہ گردون مکان

زندگی کردن میان دشمنان”

(اے بلندی میں آسمان کا رتبہ رکھنے والے سید؛ مجھے دشمنوں کے درمیان زندگی بسر کرنے کا طریقہ سیکھائیے۔)

پیر دانائی کہ در ذاتش جمال

بستہ پیمان محبت با جلال

(وہ پیر دانا جس کی ذات میں جمال نے جلال کے ساتھ پیمان محبت باندھ رکھا تھا (یعنی جمال و جلال یکجا تھے۔)

گفت”اے نامحرم از راز حیات

غافل از انجام و آغاز حیات

(انہوں نے فرمایا! اے راز حیات سے ناواقف نوجوان تو زندگی کے انجام اور آغاز سے غافل ہے۔)

فارغ از اندیشہ ی اغیار شو

قوت خوابیدہ ئی بیدار شو

(تو دشمنوں کا خوف اپنے دل سے نکال دے؛ تیرے اندر ایک قوّت خوابیدہ موجود ہے، اسے بیدار کر۔)

سنگ چون بر خود گمان شیشہ کرد

شیشہ گردید و شکستن پیشہ کرد

(جب پتھر اپنے آپ کو شیشہ سمجھنے لگتا ہے تو وہ شیشہ ہی بن جاتا ہے اور شیشے کی طرح ٹوٹنے لگتا ہے ۔)

ناتوان خود را اگر رہرو شمرد

نقد جان خویش با رہزن سپرد

(جب مسافر اپنے آپ کو کمزور سمجھتا ہے تو وہ اپنی جان کی نقدی بھی راہزن کے سپرد کر دیتا ہے۔)

تا کجا خود را شماری ماء و طین

از گل خود شعلہ ی طور آفرین

(تو اپنے آپ کو کب تک پانی اور مٹی (کا پتلا) سمجھتا رہے گا؛ تجھے چاہیے کہ اپنے اندر سے شعلہ ء طور پیدا کرے۔)

با عزیزان سرگران بودن چرا

شکوہ سنج دشمنان بودن چرا

(دشمن تیرے عزیز ہیں ) اپنے عزیزوں سے ناراضگی کیوں؛ دشمنوں کی شکایت کرنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے۔)

راست می گویم عدو ہم یار تست

ہستی او رونق بازار تست

(میں سچ کہتا ہوں دشمن بھی تیرا دوست ہے؛ اسی کی وجہ سے (تیری زندگی) کے بازار میں رونق ہے۔)

ہر کہ دانای مقامات خودی است

فضل حق داند اگر دشمن قوی است

(جو کوئی خود کے درجات سے واقف ہے؛ اگر اس کا دشمن قوی ہے تو وہ اسے اللہ تعالے کا فضل سمجھتا ہے۔)

کشت انسان را عدو باشد سحاب

ممکناتش را برانگیزد ز خواب

(دشمن انسان کی کھیتی کے لیے بارش کی مثل ہے؛ کیونکہ وہ اس کے اندر کے خفیہ امکانات کو نیند سے بیدار کرتا ہے۔)

سنگ رہ آبست اگر ہمت قویست

سیل را پست و بلند جادہ چیست؟

(اگر انسان با ہمت ہو تو سارے راستے کی رکاوٹ پانی کی مانند بہہ جاتی ہے؛ جیسے سیلاب کے سامنے پستی اور بلندی کی کوئی حیثیت نہیں۔)

سنگ رہ گردد فسان تیغ عزم

قطع منزل امتحان تیغ عزم

(عزم کی تلوار کے لیے سنگ راہ سان کا کام دیتا ہے ؛ منزل تک پہنچنا تیغ عزم کا امتحان ہے۔)

مثل حیوان خوردن، آسودن چسود

گر بخود محکم نہ ئے بودن چسود

(حیوان کی مانند کھانا اور آرام کرنا کیا معنی؛ اگر تو اپنے اندر پختہ نہیں تو زندگی کا کیا فائدہ۔)

خویش را چون از خودی محکم کنی

تو اگر خواہی جہان برھم کنی

(جب تو خودی سے اپنے آپ کو مستحکم کر لے گا ؛ تو پھر اگر چاہے تو جہان کو بھی برہم کر سکے گا۔)

گر فنا خواہی ز خود آزاد شو

گر بقا خواہی بخود آباد شو

(اگر تجھے مٹ جانا پسند ہے تو اپنی خودی سے بے تعلق ہو جا اور اگر زندگی چاہتا ہے تو اپنی خودی کی تعمیر کر۔)

چیست مردن از خودی غافل شدن

تو چہ پنداری فراق جان و تن

(مرنا کیا ہے؟ اپنی خودی سے غافل ہو جانا ؛ تو کیا جانے کہ جان اور بدن کا فرق کیا ہے؛ موت صرف فراق جان و تن کا نام نہیں۔)

در خودی کن صورت یوسف، مقام

از اسیری تا شہنشاہی خرام

(یوسف (علیہ) کی طرح خود شناس ہو؛ تاکہ تو اسیری سے شہنشاہی تک پہنچے۔)

از خودی اندیش و مرد کار شو

مرد حق شو حامل اسرار شو

(خودی سے آگاہ ہو کر باہمت بن جا ؛ مرد حق اور حامل اسرار ہو جا۔)

شرح راز از داستانہا می کنم

غنچہ از زور نفس وا می کنم

(میں حکایتوں کے ذریعے زندگی کے راز کی وضاحت کرتا ہوں ؛ اور اپنے کلام کے زور سے دوسروں کا غنچہ ء دل کھلاتا ہوں۔)

“خوشتر آن باشد کہ سر دلبران

گفتہ آید در حدیث دیگران”

(دلبروں کا راز دوسروں کی کہانیوں میں بیان کیا جائے تو زیارہ دلربا ہو جاتا ہے۔)

علامہ محمد اقبال ؒ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: