(Asrar-e-Khudi-13) (اس پرندے کی کہانی جسے پیاس نے بے قرار کر رکھا تھا) Hakayat Tairay Ke Az Tashnagi Betab Bood

حکایت طایری کہ از تشنگی بیتاب بود

(پرندے کی کہانی جو پیاس سے بیتاب تھا۔)

طایری از تشنگی بیتاب بود

در تن او دم مثال موج دود

(ایک پرندہ پیاس سے بے تاب تھا؛ سانس اس کے سینے میں دھوئیں کی لہر بن گئی تھی۔)

ریزہ ے الماس در گلزار دید

تشنگی نظارہ ی آب آفرید

(اس نے باغ میں الماس کا ٹکڑا دیکھا ؛ پیاس کے باعث اسے وہ پانی نظر آیا۔)

از فریب ریزہ ی خورشید تاب

مرغ نادان سنگ را پنداشت آب

(دھوپ سے چمکتے ہوئے ٹکڑے سے فریب تھا کر بے سمجھ پرندے نے پتھر کو پانی سمجھ لیا۔)

مایہ اندوز نم از گوھر نشد

زد برو منقار و کامش تر نشد

(اس نے اس پر چونچ ماری مگر اس کا حلق تر نہ ہوا؛ وہ گوہر سے نمی حاصل نہ کر سکا۔)

گفت الماس اے گرفتار ہوس

تیز بر من کردہ منقار ہوس

(الماس نے کہا! اے ہوس میں گرفتار پرندے ؛ تو نے مجھ پر اپنی چونچ ماری ہے۔)

قطرہ ی آبی نیم ساقی نیم

من براے دیگران باقی نیم

(میں پانی کا قطرہ نہیں ، نہ میں ساقی ہوں ؛ میں دوسروں کے لیے زندہ نہیں ہوں۔)

قصد آزارم کنی دیوانہ ئے

از حیات خود نما بیگانہ ئی

(تو دیوانہ ہے جو تو نے مجھے دکھ دینے کا قصد کیا ہے؛ تو ایسی زندگی سے بے خبر ہے جو قوّت کا اظہار کرتی ہے۔)

آب من منقار مرغان بشکند

آدمی را گوھر جان بشکند

(میری آب و تاب پرندوں کی چونچ توڑ دیتی ہے؛ وہ تو آدمی کی جان کا گوہر بھی ختم کر دیتی ہے۔)

طایر از الماس کام دل نیافت

روی خویش از ریزہ ی تابندہ تافت

(پرندے کے دل کی خواہش الماس سے پوری نہ ہوئی ؛ اس نے چمکیلے ٹکڑے سے اپنا رخ پھیر لیا۔)

حسرت اندر سینہ اش آباد گشت

در گلوی او نوا فریاد گشت

(اس کے سینے میں حسرت آباد ہو گئی؛ اس کی نوا اس کے گلے میں فریاد بن گئی۔)

قطرہ ی شبنم سر شاخ گلی

تافت مثل اشک چشم بلبلی

(شاخ گل پر شبنم کا ایک قطرہ بلبل کے آنسو کی طرح چمک رہا تھا۔)

تاب او محو سپاس آفتاب

لرزہ بر تن از ہراس آفتاب

(جس کی چمک آفتاب کی مرہون منت تھی؛ جو آفتاب کے خوف سے کانپ رہا تھا۔)

کوکب رم خوی گردون زادہ ئی

یکدم از ذوق نمود استادہ ئی

(گویا وہ آسمان کا ایسا ستارہ تھا جو ہر دم حرکت میں رہتا ہے مگر ایک لمحے کے لیے اظہار وجود کے شوق میں ٹھہر گیا تھا۔)

صد فریب از غنچہ و گل خوردہ ئی

بہرہ ئی از زندگے نا بردہ ئی

(اس قطرہء شبنم نے کلیوں اور پھولوں سے سینکڑوں فریب کھائے تھے مگر وہ زندگی سے کچھ پا نہ سکا تھا۔)

مثل اشک عاشق دلدادہ ئی

زیب مژگانی چکید آمادہ ئی

(عاشق دلدادہ کے اس آنسو کی مانند جو ٹپکنے پر آمادہ پلکوں کی زینت بنا ہو۔)

مرغ مضطر زیر شاخ گل رسید

در دہانش قطرہ ی شبنم چکید

(بے قرار پرندہ پھول کی شاخ کے نیچے پہنچا (اس قطرے کی طرف دیکھا ) تو شبنم کا قطرہ اس کے منہ میں ٹپک پڑا۔)

اے کہ می خواہی ز دشمن جان بری

از تو پرسم قطرہ ئی یا گوہری؟

(اے وہ شخص جو دشمن سے جان بچانا چاہتا ہے؛ میں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ تو قطرہء شبنم ہے یا الماس۔)

چون ز سوز تشنگی طایر گداخت

از حیات دیگری سرمایہ ساخت

(جب پیاس کی شدت سے پرندہ مرنے کے قریب ہوا تو اس نے دوسرے کی زندگی کو اپنا سرمایہء حیات بنایا۔)

قطرہ سخت اندام و گوہر خو نبود

ریزہ ی الماس بود و او نبود

(قطرہ ء شبنم میں سختی نہ تھی اور نہ وہ گوہر کی فطرت رکھتا تھا ؛ البتہ الماس کے ٹکڑے میں یہ بات تھی۔)

غافل از حفظ خودی یک دم مشو

ریزہ ے الماس شو شبنم مشو

(تو اپنی خودی سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہ ہو؛ الماس کا ٹکڑا بن شبنم کا ٹکڑا نہ بن۔)

پختہ فطرت صورت کہسار باش

حامل صد ابر دریا بار باش

(کوہسار کی مانند پختہ فطرت بن؛ تجھ میں کئی ایسے ابر پرورش پائیں جن کے برسنے سے دریا بھر جائيں۔)

خویش را دریاب از ایجاب خویش

سیم شو از بستن سیماب خویش

(اپنی خودی مستحکم کر کے اپنا آپ پا لے؛ اپنے سیماب کو بستہ کر کے چاندی بنا لے۔)

نغمہ ئی پیدا کن از تار خودی

آشکارا ساز اسرار خودی

(خودی کے تار سے نغمہ پیدا کر اور (اپنی ہمت آزمائیوں سے ) خودی کے اسرار دوسروں پر آشکار کر۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: