(Asrar-e-Khudi-14) (الماس اور کوئلے کی حکایت) Hakayat-e-Almas-o-Zaghal

حکایت الماس و زغال

(الماس اور کوئلے کی حکایت۔)

از حقیقت باز بگشایم دری

با تو می گویم حدیث دیگری

(میں ایک بار پھر حقیقت کا دروازہ کھولتا ہوں ؛ تمہیں ایک اور کہانی سناتا ہوں۔)

گفت با الماس در معدن، زغال

اے امین جلوہ ہای لازوال

(کان میں کوئلے نے الماس سے کہا؛ تو لازوال جلوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔)

ھمدمیم و ہست و بود ما یکیست

در جہان اصل وجود ما یکیست

(ہم اکٹھے رہتے ہيں اور ہماری زندگی بھی ایک جیسی ہے؛ دنیا میں ہمارے وجود کی اصل بھی ایک ہے۔)

من بکان میرم ز درد ناکسی

تو سر تاج شہنشاہان رسی

(میں کان کے اندر ہی بے بسی کے عالم میں مر جاتا ہوں ؛ اور تو پادشاہوں کے تاج تک جا پہنچتا ہے۔)

قدر من از بد گلی کمتر ز خاک

از جمال تو دل آئینہ چاک

(بدصورتی کے باعث میں خاک سے بھی کمتر ہوں ؛ تیرے حسن سے آئینے کا دل بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔)

روشن از تاریکی من مجمر است

پس کمال جوہرم خاکستر است

(میری تاریکی سے انگیٹھی روشن ہوتی ہے؛ میرے جوہر کا کمال (بس) راکھ ہے۔)

پشت پا ہر کس مرا بر سر زند

بر متاع ہستیم اخگر زند

(ہر شخص میرے سر پر پاؤں رکھتا ہے؛ ہر شخص میری متاع حیات کو چنگاری ڈال کر جلا دیتا ہے۔)

بر سروسامان من باید گریست

برگ و ساز ہستیم دانی کہ چیست؟

(میری حالت ایسی ہے جس پر رویا جائے ؛ کیا تو نے کبھی غور کیا کہ میرے وجود کی حقیقت کو جلا دیتا ہے۔)

موجہ ی دودی بہم پیوستہ ئی

مایہ دار یک شرار جستہ ئی

(میں دھوئیں کی ایک لہر ہوں جس کے اجزا آپس میں پیوستہ ہیں اور جس کا سرمایہ ایک اڑتی ہوئی چنگاری ہے۔)

مثل انجم روی تو ہم خوی تو

جلوہ ہا خیزد ز ہر پھلوی تو

(تیرا چہرہ اور تیرے خصائل ستاروں جیسے ہیں ؛ تیرے ہر پہلو سے جلوے اٹھتے ہیں۔)

گاہ نور دیدہ ی قیصر شوے

گاہ زیب دستہ ی خنجر شوی

(کبھی تو پادشاہ کی آنکھ کا نور بن جاتا ہے اور کبھی خنجر کے دستے کی زیبائش۔)

گفت الماس اے رفیق نکتہ بین

تیرہ خاک از پختگی گردد نگین

(الماس نے کہا اے نکتہ بیں ساتھی! (بات یہ ہے کہ) تاریک مٹی پختگی سے نگینہ بن جاتی ہے۔)

تا بہ پیرامون خود در جنگ شد

پختہ از پیکار مثل سنگ شد

(جب وہ مٹی اپنے ارد گرد سے متصادم ہوتی ہے تو اس جنگ سے پتھر کی مانند پختہ ہو جاتی ہے۔)

پیکرم از پختگی ذوالنور شد

سینہ ام از جلوہ ہا معمور شد

(میرا وجود بھی پختگی سے ہی نورانی ہو گیا ہے؛ اور میرا سینہ جلوں سے معمور ہو گیا ہے۔)

خوار گشتی از وجود خام خویش

سوختی از نرمی اندام خویش

(تو اپنے خام وجود کے باعث ذلیل و خوار ہوا ہے؛ اور اپنے بدن کی نرمی کے سبب جلتا ہے۔)

فارغ از خوف و غم و وسواس باش

پختہ مثل سنگ شو الماس باش

(خوف و غم اور وسواس سے فارغ ہو جا؛ پتھر کی مانند پختہ ہو کر الماس بن جا (خوف، حزن اور وسواس انسان کو کمزور بناتے ہیں)۔

می شود از وی دو عالم مستنیر

ہر کہ باشد سخت کوش و سختگیر

(جو کوئی سخت کوش اور سخت گیر ہے اس سے دوروں جہان روشن ہو جاتے ہیں۔)

مشت خاکی اصل سنگ اسود است

کو سر از جیب حرم بیرون زد است

(سنگ اسود جس نے بیت اللہ شریف کی جیب سے باہر سر نکالا ہوا ہے، اس کی اصل بھی ایک مشت خاک ہے۔)

رتبہ اش از طور بالا تر شد است

بوسہ گاہ اسود و احمر شد است

(اس کا مرتبہ طور سے بھی بڑھ کر ہو گیا ہے؛ سب کالے گورے انسان اسے بوسہ دیتے ہیں۔)

در صلابت آبروی زندگی است

ناتوانی، ناکسے ناپختگی است

(زندگی کی آبرو پختگی اور محکمی سے ہے؛ کمزوری اور بے چارگی ناپختگی ہی کا نام ہے۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: