(Asrar-e-Khudi-16) (اس موضوع کے بارے میں کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد کلمتہ اللہ کا بلند کرنا ہے) Dar Biyan Aynke Maqsad-e-Hayat-e-Muslim Ala’ay Kalima-Ullah Ast Wa Jihad…

در بیان اینکہ مقصد حیات مسلم

در بیان اینکہ مقصد حیات مسلم، اعلای کلمة اللہ است و جہاد، اگر محرک آن جوع الارض باشد در مذہب اسلام حرام است

(اس مطلب کی وضاحت کس لیے کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد اعلائے کلمتہ اللہ ہے اور اگر جہاد کا محرک ملک فتح کرنا ہو تو ایسی جنگ مذہب میں حرام ہے۔)

قلب را از صبغة اللہ رنگ دہ

عشق را ناموس و نام و ننگ دہ

(اپنے دل کو اللہ تعالے کے رنگ میں رنگ دے؛ اور اس طرح اپنے عشق کو ننگ و ناموس و پہچان عطا کر۔)

طبع مسلم از محبت قاہر است

مسلم ار عاشق نباشد کافر است

(مسلمان کی فطرت میں عشق الہی سے قاہری پیدا ہوتی ہے، اگر مسلمان عاشق نہیں تو وہ کافر ہے (اور وہ ایمان والے ان کی محبت اللہ تعالے کے لیے بہت شدید ہے – قرآن، 165 -2)۔

تابع حق دیدنش نا دیدنش

خوردنش، نوشیدنش، خوابیدنش

(اس کا دیکھنا نہ دیکھنا ، کھانا پینا ، سونا سب اللہ تعالے کے حکم کے تحت ہوتا ہے۔)

در رضایش مرضی حق گم شود

“این سخن کے باور مردم شود”

(پھر اللہ تعالے کی رضا اس کی رضا میں گم ہو جاتی ہے؛ لوگ اس بات کو کیسے باور کریں گے – قرآن17-8)

خیمہ در میدان الا اللہ زدست

در جہان شاہد علی الناس آمدست

(وہ الا اللہ کے میدان میں خیمہ زن ہے؛ اور وہ دنیا میں لوگوں پر شاہد (حق) ہے۔)

شاہد حالش نبی انس و جان

شاہدی صادق ترین شاہدان

(اور اس کے حال کے شاہد جناب رسول پاک (صلعم) ہیں؛ جو سب شاہدوں سے صادق ترین ہو۔)

قال را بگذار و باب حال زن

نور حق بر ظلمت اعمال زن

(قال کو چھوڑ اور حال (روحانی کیفیت ) کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس طرح اعمال کی تاریکی پر اللہ تعالے کا نور بکھیر۔)

در قبای خسروی درویش زی

دیدہ بیدار و خدا اندیش زی

(پھر تو پادشاہی کے لباس میں بھی درویش رہے گا؛ تیری آنکھ بیدار اور تیری سوچ میں اللہ تعالے کا رنگ ہو گا۔)

قرب حق از ہر عمل مقصود دار

تا ز تو گردد جلالش آشکار

(حق تعالے کے قرب کو اپنے ہر عمل کا مقصود بنا؛ تاکہ تجھ سے اس کا جلال ظاہر ہے۔)

صلح، شر گردد چو مقصود است غیر

گر خدا باشد غرض جنگ است خیر

(اگر مقصود غیر اللہ ہو تو صلح بھی شر بن جاتی ہے؛ اگر مقصود اللہ تعالے ہو تو جنگ بھی غیر ہو جاتی ہے۔)

گر نگردد حق ز تیغ ما بلند

جنگ باشد قوم را ناارجمند

(اگر ہماری تلوار سے کلمہء حق بلند نہ ہو تو ایسی جنگ ہماری قوم کے لیے نامبارک ثابت ہوتی ہے۔)

حضرت شیخ میانمیر ولی

ہر خفی از نور جان او جلی

(حضرت میاں میر (رضی اللہ) ولی جن کی جان نور سے روحانیت کا ہر راز عیاں ہے۔)

بر طریق مصطفی محکم پئی

نغمہ ی عشق و محبت را نئی

(جو حضور اکرم (صلعم) کے طریقے پر مضبوطی سے قائم تھے، جن کی جان سے عشق و محبت کے نغمے پھوٹتے تھے۔)

تربتش ایمان خاک شہر ما

مشعل نور ہدایت بہر ما

(ان کا مزار ہمارے شہر کی مٹی کے لیے ایمان کہ درجہ رکھتا ہے؛ وہ ہمارے لیے نور ہدایت کی مشعل ہیں۔)

بر در او جبہ فرسا آسمان

از مریدانش شہ ہندوستان

(آسمان بھی ان کے دروازے پر سر جھکاتا ہے؛ ہندوستان کا بادشاہ (شاہجہان) ان کے مریدوں میں سے تھا۔)

شاہ تخم حرص در دل کاشتی

قصد تسخیر ممالک داشتی

(پادشاہ نے اپنے دل میں حرص کا بیج بویا اور (دکن) کے بعض ممالک فتح کرنے کا ارادہ کیا۔)

از ہوس آتش بجان افروختی

تیغ را”ھل من مزید” آموختی

(ہوس نے اس کے اندر آگ لگا دی ؛ اور اس نے اپنی تلوار کو ‘ھل من مزید’ کا سبق پڑھایا (‘ھل من مزید’ کے لفظی معنی ہیں کہ کیا کچھ اور زیادہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ دوزخ یہ کہے گی)۔

در دکن ہنگامہ ہا بسیار بود

لشکرش در عرصہ ی پیکار بود

(اس وقت دکن میں بڑا ہنگامہ برپا تھا ؛ پادشاہ کا لشکر وہاں لڑائی میں مصروف تھا۔)

رفت پیش شیخ گردون پایہ ئی

تا بگیرد از دعا سرمایہ ئی

(وہ شیخ عالی مرتبہ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ ان سے دعا کی درخواست کرے۔)

مسلم از دنیا سوی حق رم کند

از دعا تدبیر را محکم کند

(مسلمان دنیا سے اللہ تعالے کی طرف بھاگتا ہے؛ وہ اپنی تدبیر کو دعا سے مستحکم کرتا ہے۔)

شیخ از گفتار شہ خاموش ماند

بزم درویشان سراپا گوش ماند

(حضرت میاں میر (رضی اللہ ) پادشاہ کی بات سن کر خاموش رہے؛ ارد گرد بیٹھے ہوئے درویش بھی سرا پا انتظار تھے (کہ بادشاہ کو کیا جواب ملتا ہے)۔

تا مریدی سکہ سیمین بدست

لب گشود و مہر خاموشی شکست

(یہاں تک کہ ایک مرید چاندی کا سکّہ ہاتھ میں لیے آگے بڑھا اور مہر خاموشی توڑ کر یوں گویا ہوا۔)

گفت این نذر حقیر از من پذیر

اے ز حق آوارگان را دستگیر

(اس نے کہا کہ اے شیخ آپ حق کے متلاشیوں کی دستگیری فرماتے ہیں ؛ مجھ سے یہ حقیر نذرانہ قبول فرمایے۔)

غوطہ ہا زد در خوی محنت تنم

تا گرہ زد درہمی را دامنم

(میرے بدن نے محنت کے پسینے میں کئی غوطے لگائے ؛ تب کہیں جا کر میں نے یہ درہم اپنے دامن کے پلّو میں باندھا ( یہ درہم میرے گاڑھے پسینے کی کمائی ہے)۔

گفت شیخ این زر حق سلطان ماست

آنکہ در پیراہن شاہی گداست

(شیخ نے کہا! اس سکّے پر ہمارے سلطان کا حق ہے؛ وہ پادشاہ کے لباس میں گدا ہے۔)

حکمران مہر و ماہ و انجم است

شاہ ما مفلس ترین مردم است

(اگرچہ وہ چاند ، سورج اور ستاروں پر حکمران ہے مگر وہ سب سے زیادہ مفلس ہے۔)

دیدہ بر خوان اجانب دوخت است

آتش جوعش جہانی سوخت است

(اس نے غیروں کے دستر خوان پر اپنی نظریں جما رکھی ہیں ؛ اس کی جوع الارض کی آگ نے ایک جہان کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔)

قحط و طاعون تابع شمشیر او

عالمی ویرانہ از تعمیر او

(قحط اور طاعون اس کی تلوار کے پیچھے چلتے ہیں ؛ اس کی تعمیر نے ایک جہان کو ویران کر دیا ہے۔)

خلق در فریاد از ناداریش

از تہیدستی ضعیف آزاریش

(لوگ اس کی ناداری اس کی تہی دستی ؛ اور اس کے کمزوروں کو دکھ دینے سے نالاں ہیں۔)

سطوتش اھل جہان را دشمن است

نوع انسان کاروان، او رہزن است

(اس کی شان و شوکت عوام کی دشمن ہے؛ نوع انسان کاروان ہے اور وہ رہزن۔)

از خیال خود فریب و فکر خام

می کند تاراج را تسخیر نام

(وہ اپنی خود فریبی اور کم فہمی کی وجہ سے لوٹ مار کو فتح کہتا ہے۔)

عسکر شاہی و افواج غنیم

ہر دو از شمشیر جوع او دو نیم

(شاہی لشکر اور دشمنوں کی فوجیں اس کی حرص کی تلوار سے دو ٹکڑے ہیں۔)

آتش جان گدا جوع گداست

جوع سلطان ملک و ملت را فناست

(فقیر کی بھوک صرف اس کی جان کے لیے آگ بنتی ہے؛ پادشاہ کی بھوک ملک و ملّت کو فنا کر دیتی ہے۔)

ہر کہ خنجر بہر غیر اللہ کشید

تیغ او در سینہ ی او آرمید

(جس نے بھی غیر اللہ کے لیے تلوار برہنہ کی اس کی شمشیر اسی کے سینہ میں پیوست ہوئی۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: