(Asrar-e-Khudi-17) (بابائے صحرائی کے لقب سے مشہور میر نجات نقشبندی کی نصیحت جو انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے تحریر فرمائی ہے) Andz Meer-e-Nijat Naqshband Almaroof Ba Baba’ay Sehrai Ke…

اندرز میر نجات نقشبند المعروف

اندرز میر نجات نقشبند المعروف بہ بابای صحرائی کہ برای مسلمانان ہندوستان رقم فرمودہ است

(میر نجات نقشبندی المعروف بہ بابائے صحرائی کی نصیحت جو انہوں نے مسلمانان ہند کے لیے رقم فرمائی۔)

اے کہ مثل گل ز گل بالیدہ ئی

تو ھم از بطن خودی زائیدہ ئی

از خودی مگذر بقا انجام باش

قطرہ ئی می باش و بحر آشام باش

(خودی کو نہ چھوڑ بقائے دوام پا لے ، بے شک تو قطرہ ہے لیکن ایسا قطرہ بن جو اپنے اندر سمندر کو سما لے۔)

تو کہ از نور خودی تابندہ ئے

گر خودی محکم کنی پایندہ ئی

(تیری چمک نور خودی سے ہے؛ تو اگر اپنی خودی کو محکم بنا لے گا تو پائیدار ہو جائے گا۔)

سود در جیب ہمین سوداستی

خواجگی از حفظ این کالاستی

(اسی سودے کی جیب میں نفع ہے ؛ اور اسی آسمان کی حفاظت سے آقائی ملتی ہے۔)

ہستی و از نیستی ترسیدہ ئی

اے سرت گردم غلط فہمیدہ ئی

(تو موجود ہے لیکن فنا سے ڈرتا ہے؛ میں تیرے قربان جاؤں تو نے (زندگی کو) غلط سمجھا ہے۔)

چون خبر دارم ز ساز زندگی

با تو گویم چیست راز زندگی

(چونکہ میں رہ و رسم زندگی سے آگاہ ہوں ؛ اس لیے تجھے بتاتا ہوں کہ زندگی کا راز کیا ہے۔)

غوطہ در خود صورت گوہر زدن

پس ز خلوت گاہ خود سر بر زدن

(زندگی کا راز یہ ہے کہ) پہلے موتی کی مانند اپنے اندر غوطہ زن ہو پھر اپنی خلوت سے سر باہر نکال (اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی)۔

زیر خاکستر شرار اندوختن

شعلہ گردیدن نظرہا سوختن

(پہلے راکھ کے نیچے اپنے شراروں کو جمع کر اور پھر شعلہ بن کر نظروں کو خیرہ کر دے۔)

خانہ سوز محنت چل سالہ شو

طوف خود کن شعلہ ی جوالہ شو

(چالیس سالہ (طویل) ریاضت کا گھر جلانے والا بن یعنی لمبی محنت چھوڑ اور اپنا طواف کر کے شعلہء جوالہ بن جا۔)

زندگی از طوف دیگر رستن است

خویش را بیت الحرم دانستن است

(زندگی دوسروں کا طواف کرنے سے نجات پانے اور اپنے آپ کو بیت الحرام (کعبۃاللہ ) سمجھنے کا نام ہے ( اپنی شخصیت کو اتنا پائیدار کر لینا کہ دوسرے تمہارا طواف کریں)۔

پر زن و از جذب خاک آزاد باش

ہمچو طایر ایمن از افتاد باش

(پر کھول اور زمین کی کشش سے آزاد ہو جا؛ پرندے کی مانند (بلندی پر اڑ) اور گرنے کا خیال اپنے دل سے نکال دے۔)

تو اگر طایر نہ ئی اے ہوشمند

بر سر غار آشیان خود مبند

(اے سمجھدار شخص! اگر تو پرندہ نہیں (اڑ نہیں سکتا) پھر بھی غار کے مونہہ پر آشیانہ نہ بنا (ورنہ اس کے اندر گر جائے گا)۔

اے کہ باشی در پی کسب علوم

با تو می گویم پیام پیر روم

(تو جو علم حاصل کرنے لگا ہوا ہے؛ میں تجھے پیر رومی (رحمتہ اللہ) کا پیغام سناتا ہوں۔)

“علم را بر تن زنی مارے بود

علم را بر دل زنی یارے بود”

(‘اگر تو علم سے دینوی منافع حاصل کرنے کی خواہش رکھے گا؛ تو وہ تیرے لیے سانپ ثابت ہو گا ؛ لیکن اگر تو علم سے دل کی دولت حاصل کرے گا تو وہ تیرا دوست ثابت ہو گا۔)

آگہی از قصہ ی آخوند روم

آنکہ داد اندر حلب درس علوم

(کیا تو استاد رومی (رحمتہ اللہ) کا واقعہ جانتا ہے ؛ وہ جو شام کے شہر حلب میں پڑھایا کرتے تھے۔)

پاے در زنجیر توجیہات عقل

کشتیش طوفانی”ظلمات” عقل

(ان کے پاؤں میں عقلی دلیل کی زنجیر تھی؛ ان کی کشتی (دل) عقل کے اندھیروں میں تھپیڑے کھا رہی تھی۔)

موسی بیگانہ سیناے عشق

بے خبر از عشق و از سوداے عشق

(وہ موسی تھے ، مگر عشق کے طور سینا سے بے خبر ، نہ انہیں عشق کی خبر تھی، نہ سودائے عشق کی۔)

از تشکک گفت و از اشراق گفت

وز حکم صد گوہر تابندہ سفت

(وہ ‘تشکک اور اشراق’ کی باتیں کرتے ہوئے فلسفہ کے چمکدار موتی پروتے۔)

عقدہ ہای قول مشائین گشود

نور فکرش ہر خفی را وانمود

(وہ مشائین کے اقوال کی گھتیاں سلجھاتے ؛ ان کے فکر کی روشنی ہر پوشیدہ نکتہ واضح کر دیتی۔)

گرد و پیشش بود انبار کتب

بر لب او شرح اسرار کتبان کے ارد گرد کتابوں کا انبار لگا رہتا ؛ ان کی زبان کتابوں کے اسرار کی وضاحت میں مصروف رہتی۔)

پیر تبریزی ز ارشاد کمال

جست راہ مکتب ملا جلال

(شیخ کامل جنیدی (رحمتہ اللہ) کے ارشاد پر شمس تبریزی (رحمتہ اللہ) رومی (رحمتہ اللہ) کے مکتب کی طرف روانہ ہوئے۔)

گفت این غوغا و قیل و قال چیست

این قیاس و وہم و استدلال چیست

(اور واہاں جا کر مولانا سے کہا : یہ شور و غوغا و قیل و قال ، قیاس و وہم و استدلال کیا ہے؟)

مولوی فرمود نادان لب ببند

بر مقالات خردمندان مخند

(رومی (رحمتہ اللہ) نے کہا: بیوقوف زبان بند رکھ ، فلسفیوں کے مقالات کا مذاق نہ اڑا۔)

پاے خویش از مکتبم بیرون گذار

قیل و قال است این ترا با وی چہ کار

(میرے مکتب سے باہر نکل جا؛ یہ (فلسفیوں کے) مقالات ہیں تیرا ان سے کیا تعلق۔)

قال ما از فہم تو بالاتر است

شیشہ ی ادراک را روشنگر است

(ہماری گفتگو تیری سمجھ سے بالا تر ہے؛ اس گفتگو سے ذہن کا شیشہ روشن ہوتا ہے۔)

سوز شمس از گفتہ ی ملا فزود

آتشے از جان تبریزی گشود

(رومی (رحمتہ اللہ) کی گفتگو نے شمس (رحمتہ اللہ) کے سوز میں اضافہ کیا اور ان کے اندر کی آگ بھڑک اٹھی۔)

بر زمین برق نگاہ او فتاد

خاک از سوز دم او شعلہ زاد

(ان کی برق نگاہ رومی (رحمتہ اللہ) (کے دل) پر گری اور اس کے سوز سے رومی (رحمتہ اللہ) کی خاک کے اندر شعلہ نکلا۔)

آتش دل خرمن ادراک سوخت

دفتر آن فلسفی را پاک سوخت

(تبریز (رحمتہ اللہ) کے دل کی آگ نے ادراک کا خرمن بھسم کر دیا ؛ شعلہ پیدا ہوا اور فلسفی (رومی رحمتہ اللہ) کی خاک کو جلا کر راکھ کر دیا۔)

مولوی بیگانہ از اعجاز عشق

ناشناس نغمہ ہای ساز عشقمولوی (جو اس وقت) اعجاز عشق سے بے خبر تھا اور ساز عشق کے نغموں کو نہیں پہچانتا تھا۔)

گفت این آتش چسان افروختی

دفتر ارباب حکمت سوختی

(اس نے کہا: تو نے یہ آگ کیسے جلائی جس نے اہل فلسفہ کا دفتر راکھ کر دیا؟)

گفت شیخ اے مسلم زنار دار

ذوق و حال است این ترا با وی چہ کار

(شیخ نے کہا: اے مسلمان زنّار دار یہ ذوق حال ہے، تیرا اس سے کیا کام۔)

حال ما از فکر تو بالاتر است

شعلہ ی ما کیمیای احمر است

(ہماری کیفیت تیری سمجھ سے بالا تر ہے (ہمارے عشق کا) شعلہ کیمیائے احمر ہے جو تانبے کو سونا بنا دیتی ہے۔)

ساختی از برف حکمت ساز و برگ

از سحاب فکر تو بارد تگرگ

(تو نے فلسفہ کی برف کو اپنا سرمایہ بنا رکھا ہے ؛ تیرے فکر کے بادل سے صرف اولے ہی برستے ہیں۔)

آتشے افروز از خاشاک خویش

شعلہ ئی تعمیر کن از خاک خویش

(اپنے خس و خاشاک سے آگ روشن کر؛ اپنی مٹی کو شعلہ بنا۔)

علم مسلم کامل از سوز دل است

معنی اسلام ترک آفل است

(مسلمان کا علم سوز دل سے کامل ہوتا ہے؛ اسلام کے معنی یہ ہیں کہ غروب ہونے والی چیز کو چھوڑ دیا جائے۔)

چون ز بند آفل ابراہیم رست

در میان شعلہ ہا نیکو نشست

(جب ابراہیم (علیہ) نے غروب ہونے والوں کی قید سے آزادی پائی تو پھر آگ کے شعلے میں بیٹھ کر بھی محفوظ رہے۔)

علم حق را در قفا انداختی

بہر نانی نقد دین در باختی

(تو نے حقیقی علم کو پس پشت ڈال دیا؛ ایک روٹی کے عوض دولت دین گنوا دی۔)

گرم رو در جستجوی سرمہ ئی

واقف از چشم سیاہ خود نہ ئی

(تجھے اپنی چشم سیاہ کی خبر نہیں اس لیے سرمے کی جستجو میں سرگرم ہے۔)

آب حیوان از دم خنجر طلب

از دہان اژدہا کوثر طلب

(خنجر کی دھار سے آب حیات کا خواہاں ہو؛ اژدھے کے مونہہ سے آب کوثر طلب کر۔)

ق

سنگ اسود از در بتخانہ خواہ

نافہ ی مشک از سگ دیوانہ خواہ

(بتخانے کے دروازے پہ حجر آسود تلاش کر ؛ باؤلے بت کے ( مونہہ کی جھاگ) میں مشک ناف ڈھونڈ لے۔)

سوز عشق از دانش حاضر مجوی

کیف حق از جام این کافر مجوی

(مگر دانش حاضر سے سوز عشق کی توقع نہ رکھ؛ اس کافر کے جام میں شراب حقانی کی کیفیت تلاش نہ کر۔)

مدتی محو تک و دو بودہ ام

رازدان دانش نو بودہ ام

(میں ایک مدت تک سعی و کوشش میں لگا رہا؛ دور جدید کے علوم کا رازداں ہوا۔)

باغبانان امتحانم کردہ اند

محرم این گلستانم کردہ اند

(پروفیسروں نے میرے امتحان لے کر مجھے اس گلستان کا محرم بنایا۔)

گلستانے لالہ زار عبرتے

چون گل کاغذ سراب نکہتے

(مگر میں نے اس گلستان (علوم مغربی) کو عبرت کا لالہ زار پایا؛ یہ کاغذی پھول کی خوشبو کا سراب ہے یعنی خوشبو سے خالی ہے۔)

تا ز بند این گلستان رستہ ام

آشیان بر شاخ طوبی بستہ ام

(بنا بریں میں نے اس گلستان کے بندھن سے اپنے آپ کو چھوڑایا ہے اور شاخ طوبی پر اپنا آشیانہ بنایا ہے۔)

دانش حاضر حجاب اکبر است

بت پرست و بت فروش و بتگر است

(جدید علوم حجاب اکبر ہیں ؛ یہ غلط نظریات کے بت بنا کر انہیں پوجتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں۔)

پا بزندان مظاہر بستہ ئی

از حدود حس برون نا جستہ ئی

(انہوں نے مظاہر فطرت کے قیدخانے میں اپنے آپ کو قید کر رکھا ہے؛ یہ حواس ظاہری کی حدود سے باہر نہیں نکلتے۔)

در صراط زندگی از پا فتاد

بر گلوی خویشتن خنجر نہاد

(دانش حاضر زندگی کی راہ میں عاجز آ کر گری پڑی ہے؛ اس نے خود ہی اپنی گردن پر خنجر رکھا ہوا ہے (تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی)۔

آتشے دارد مثال لالہ سرد

شعلہ ئی دارد مثال ژالہ سرد

(اس کی آگ لالہ کی مانند اور اس کا شعلہ ژالہ کی مانند سرد ہے۔)

فطرتش از سوز عشق آزاد ماند

در جہان جستجو ناشاد ماند

(اس کی فطرت سوز عشق سے تہی دامان ہے؛ اس لیے یہ جہان جستجو میں نامراد ہے۔)

عشق افلاطون علت ہای عقل

بہ شود از نشترش سودای عقل

(عقل کی بیماریوں کا معالج صرف عشق ہے؛ عقل کا جنون عشق کے نشتر ہی سے شفا پاتا ہے۔)

جملہ عالم ساجد و مسجود عشق

سومنات عقل را محمود عشق

(ساری دنیا عشق کے سامنے سر بسجود ہے؛ عشق ہی عقل کے سومنات کو بتوں سے پاک کرتا ہے۔)

این می دیرینہ در میناش نیست

شور”یارب”، قسمت شبہاش نیست

(مگر دانش حاضر کی مینا میں عشق کی شراب نہیں ہے؛ یارب کہہ کر نالہ و فریاد کرنا اس کی راتوں میں نہیں۔)

قیمت شمشاد خود نشناختی

سرو دیگر را بلند انداختی

(تو نے اپنے شمشاد (اسلامی تعلیمات) کی قیمت نہ پہچانی ؛ دوسروں کے سرو (مغربی تعلیمات ) کو بلند درجہ دیا۔)

مثل نے خود را ز خود کردی تہی

بر نوای دیگران دل می نہی

(بانسری کی مانند تو نے اپنے آپ کو اپنے آپ سے خالی کر دیا اور دوسروں کی آواز سے دل لگایا۔)

اے گدای ریزہ ئی از خوان غیر

جنس خود می جوئی از دکان غیر

(اے غیروں کے دسترخوان کے ریزوں کے گدا! اپنا سامان دوسروں کی دکان سے خریدتا ہے ۔ (اشارہ اس طرف ہے کہ مغربی علماء نے ہمارے ہی علوم سے فیض حاصل کیا)۔

بزم مسلم از چراغ غیر سوخت

مسجد او از شرار دیر سوخت

(مسلمان کی مجلس غیر کے چراغ سے جل گئی؛ گویا مسجد کو دیر کے شرر نے جلا دیا۔)

از سواد کعبہ چون آہو رمید

ناوک صیاد پہلویش درید

(جب آہو نواح کعبہ سے بھاگا؛ تو صیاد کے تیر نے اس کا پہلو پھاڑ دیا۔)

شد پریشان برگ گل چون بوی خویش

اے ز خود رم کردہ باز آ سوی خویش

(پھول کی پتّی اپنی خوشبو کی طرح خود بھی منتشر ہو گئی۔ اے اپنے آپ سے بھاگنے والے اپنی طرف واپس آ۔)

اے امین حکمت ام الکتاب

وحدت گمگشتہ ی خود بازیاب

(قرآن پاک کی حکمت کے امانت دار ، اپنی گم شدہ وحدت کو دوبارہ پانے کی کوشش کر۔)

ما کہ دربان حصار ملتیم

کافر از ترک شعار ملتیم

(ہم جو ملّت کے قلعہ کے دربان ہیں ، ہم نے ملّت کا شعار ترک کر کے کافری اختیار کر لی ہے۔)

ساقی دیرینہ را ساغر شکست

بزم رندان حجازی بر شکست

(پرانے ساقی کا پیالہ ٹوٹ گیا ؛ رندان حجاز کی بزم درہم برہم ہو گئی۔)

کعبہ آباد است از اصنام ما

خندہ زن کفر است بر اسلام ما

(اب) کعبہ کی آبادی ہمارے بتوں سے ہے، (آج) کفر ہمارے اسلام پر خندہ زن ہے۔)

شیخ در عشق بتان اسلام باخت

رشتہ ی تسبیح از زنار ساخت

(شیخ نے بتوں کے عشق میں اسلام ہار دیا ؛ اس نے زنّار کو تسبیح کا دھاگا بنا لیا۔)

پیر ہا پیر از بیاض مو شدند

سخرہ بہر کودکان کو شدند

(اب) بزرگ صرف اپنے سفید بالوں کی وجہ سے بزرگ ہیں؛ ورنہ ان کے کام ایسے ہیں کہ گلی کے بچے بھی ان پر ہنستے ہیں۔)

دل ز نقش لاالہ بیگانہ ئی

از صنم ہای ہوس بتخانہ ئی

(دل لاالہ کے عشق سے خالی ہے اور ہوس کے بتوں کے باعث بتخانہ بنا ہوا ہے۔)

می شود ھر مو درازی خرقہ پوش

آہ ازین سوداگران دین فروش

(ہر مو دراز ، خرقہ پوش (روحانی بزرگ ) بنا ہوا ہے؛ افسوس ہے ان دین فروش سوداگروں پر۔)

با مریدان روز و شب اندر سفر

از ضرورت ہای ملت بے خبر

(آج کل کے) پیر مریدوں کے ساتھ سفر میں رہتے ہیں ؛ وہ ملّت کی حالات و ضروریات سے بالکل بے خبر ہیں۔)

دیدہ ہا بے نور مثل نرگس اند

سینہ ہا از دولت دل مفلس اند

(ان کی آنکھیں نرگس کی طرح بے نور ہیں؛ اور ان کے سینے دل کی دولت نہ ہونے کی وجہ سے دل کی دولت سے خالی ہیں۔)

واعظان ہم صوفیان منصب پرست

اعتبار ملت بیضا شکست

(کیا واعظ اور کیا صوفی سب جاہ پرست ہیں ؛ ملّت بیضا کا وقار ختم ہو چکا ہے۔)

واعظ ما چشم بر بتخانہ دوخت

مفتی دین مبین فتوی فروخت

(ہمارے واعظ کی آنکھ بتخانے پر لگی ہوئی ہے؛ اور ہمارے مفتیان دین مبین فتوے فروخت کر رہے ہيں۔)

چیست یاران بعد ازین تدبیر ما

رخ سوی میخانہ دارد پیر ما

(دوستو! اب ہمارے لیے کیا چارہ کار باقی رہ گیا ہے؛ اب ہمارے پیر نے میخانے کا رخ اختیار کر لیا ہے۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: