(Asrar-e-Khudi-18) (الوقت سیف – وقت تلوار ہے) Al-Waqt-e-Saif (Waqt Talwar Hai)

الوقت سیف

(وقت تلوار ہے۔)

سبز بادا خاک پاک شافعی

عالمی سر خوش ز تاک شافعی

(خدا شافعی (رضی اللہ) کی قبر کو سرسبز رکھے؛ ان کی شراب علم سے ایک دنیا فیضیاب ہے۔)

فکر او کوکب ز گردون چیدہ است

سیف بران وقت را نامیدہ است

(ان کے فکر نے آسمان سے ستارے توڑے ہیں ؛ انہوں نے وقت کو سیف برّاں (کاٹنے والی تلوار) کہا ہے۔)

من چہ گویم سر این شمشیر چیست

آب او سرمایہ دار از زندگیست

(میں کیا کہوں کہ اس تلوار کا راز کیا ہے؛ اس کی آب زندگی کا سرمایہ رکھتی ہے۔)

صاحبش بالاتر از امید و بیم

دست او بیضا تر از دست کلیم

(اس تلوار کا مالک امید و خوف سے بالا تر ہے؛ اس کا ہاتھ موسی (علیہ) کے ہاتھ سے زیادہ سفید ہے۔)

سنگ از یک ضربت او تر شود

بحر از محرومی نم بر شود

(اس کی ایک ضرب سے پتھر پانی ہو جاتے ہیں ؛ اور سمندر پانی سے محروم ہو کر خشکی بن جاتا ہے۔)

در کف موسی ہمین شمشیر بود

کار او بالاتر از تدبیر بود

(موسی (علیہ) کے ہاتھ میں یہی تلوار تھی، اس لیے انہیں اپنے کام کے لیے تدبیر کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔)

سینہ ی دریای احمر چاک کرد

قلزمی را خشک مثل خاک کرد

(چنانچہ انہوں نے بحیرہ ء قلزم کا سینہ چاک کر دیا ؛ اور سمندر کو مٹی کی مانند خشک بنا دیا۔)

پنجہ ی حیدر کہ خیبر گیر بود

قوت او از ہمین شمشیر بود

(سیدنا علی (رضی اللہ) کا پنجہ جس نے خیبر فتح کیا ؛ اس کی قوّت بھی اسی شمشیر سے تھی۔)

گردش گردون گردان دیدنی است

انقلاب روز و شب فہمیدنی است

(آسمان گرداں کی گردش دیکھنے کے قابل ہے؛ روز و شب کا انقلاب بھی سمجھنے کے قابل ہے۔)

اے اسیر دوش و فردا در نگر

در دل خود عالم دیگر نگر

(مگر اے دوش و فردا کے اسیر اپنے دل کے اندر دیکھ وہاں ایک اور جہان موجود ہے۔)

در گل خود تخم ظلمت کاشتی

وقت را مثل خطی پنداشتی

(تو نے وقت کو (ان گنت لفظوں سے بنا ہوا) خط سمجھ کر اپنی مٹی کے اندر تاریکی کا بیج بویا ہے۔)

باز با پیمانہ ی لیل و نہار

فکر تو پیمود طول روزگار

(پھر تیرے فکر نے زمانے کی طوالت کی رات اور دن کے پیمانے سے ناپا ہے۔)

ساختی این رشتہ را زنار دوش

گشتہ ئی مثل بتان باطل فروش

(تو نے رات اور دن کے دھاگے کو زنّار دوش بنا لیا ہے اور بتوں کی مانند باطل فروش بن گیا ہے۔)

کیمیا بودی و مشت گل شدی

سر حق زائیدی و باطل شدی

(تو کیمیا تھا مگر مٹھی بھر خاک ہو گیا ؛ تو سرّ حق سے پیدا ہوا تھا مگر باطل بن گیا تھا (سرّ حق سے اللہ تعالے کی روح میں سے پھونکی ہوئی روح کی طرف اشارہ ہے)۔

مسلمے؟ آزاد این زنار باش

شمع بزم ملت احرار باش

(تو مسلم ہے اس زنّار سے آزاد ہو؛ ملّت احرار کی بزم کی شمع بن۔)

تو کہ از اصل زمان آگہ نہ ئی

از حیات جاودان آگہ نہ ئی

(تو وقت کی اصلیت سے آگاہ نہیں؛ اس لیے تجھے حیات جاوداں کی آگہی بھی حاصل نہیں۔)

تا کجا در روز و شب باشی اسیر

رمز وقت از”لی مع اللہ” یاد گیر

(تو کب تک روز و شب کا غلام رہے گا ؛ تو وقت کے راز کو حضور اکرم (صلعم) کے ارشاد سے (کہ مجھے اللہ تعالے کے ہاں ایسا وقت میسّر ہے جو کسی نبیء مرسل یا فرشتہء مقرّب کو حاصل نہیں) سمجھنے کی کوشش کر۔)

این و آن پیداست از رفتار وقت

زندگی سریست از اسرار وقت

(واقعات وقت کی رفتار سے پیدا ہوتے ہیں؛ زندگی وقت کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔)

اصل وقت از گردش خورشید نیست

وقت جاوید است و خور جاوید نیست

(وقت کی حقیقت سورج کی گردش سے وابستہ نہیں؛ وقت ہمیشہ رہنے والا ہے اور سورج ہمیشہ رہنے والا نہیں۔)

عیش و غم عاشور و ہم عید است وقت

سر تاب ماہ و خورشید است وقت

(وقت ہی عیش و غم ہے، وقت ہی عاشورہ اور عید ہے؛ وقت ہی سورج اور چاند کی روشنی کا راز ہے۔)

وقت را مثل مکان گستردہ ئی

امتیاز دوش و فردا کردہ ئی

(تو نے زمان کو مکاں کی طرح بچھا دیا ہے؛ اور ماضی و مستقبل کا امتیاز پیدا کر لیا ہے۔)

اے چو بو رم کردہ از بستان خویش

ساختی از دست خود زندان خویش

(تو نے خوشبو کی طرح باغ سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنے ہاتھوں اپنا قیدخانہ تعمیر کر لیا ہے (اللہ تعالے کی معیت چھوڑ کر وقت کا غلام بن گیا ہے)۔

وقت ما کو اول و آخر ندید

از خیابان ضمیر ما دمید

(ہمارا وقت جس کی نہ ابتدا ہے اور نہ انتہا؛ وہ ہمارے ضمیر کے خیابان سے پھوٹتا ہے۔)

زندہ از عرفان اصلش زندہ تر

ہستی او از سحر تابندہ تر

(ہر زندہ اپنے اصل کی پہچان سے زندہ تر ہو جاتا ہے ؛ اور اس کی ہستی صبح کی مانند تابناک بن جاتی ہے۔)

زندگی از دہر و دہر از زندگی است

“لاتسبوالدھر” فرمان نبی است

(زندگی زماں سے ہے اور زماں زندگی سے ہے ؛ حضور اکرم (صلعم) کا فرمان ہے کہ زمانے کو برا نہ کہو۔)

نکتہ اے می گویمت روشن چو در

تا شناسی امتیاز عبد و حر

(میں تمہیں ایک اور نکتہ بتاتا ہوں جو موتی کی طرح چمکدار ہے؛ تاکہ تجھے وقت کا غلام اور وقت کی (حدود و قیود سے آزاد) کے درمیان فرق معلوم ہو جائے۔)

عبد گردد یاوہ در لیل و نھار

در دل حر یاوہ گردد روزگار

(وقت کا غلام رات اور دن کے چکر میں پڑا رہتا ہے؛ اور حر کے دل میں زمانہ گم ہوتا ہے (مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق)۔)

عبد از ایام می باند کفن

روز و شب را می تند بر خویشتن

(عبد روز و شب سے کفن بنتا ہے اور اپنے اوپر اوڑھ لیتا ہے۔)

مرد حر خود را ز گل بر می کند

خویش را بر روزگاران می تند

(لیکن مرد حر اپنے آپ کو مٹی سے باہر نکالتا ہے اور زمانے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔)

عبد چون طایر بدام صبح و شام

لذت پرواز بر جانش حرام

(عبد پرندے کی مانند صبح و شام کے دام میں گرفتار رہتا ہے؛ اس کی جان پر لذت پرواز حرام ہے۔)

سینہ ی آزادہ ی چابک نفس

طایر ایام را گردد قفس

(اس کے برعکس) مرد حر کا پر عزم سینہ طائر ایام کے لیے قفس ہے۔)

عبد را تحصیل حاصل فطرت است

واردات جان او بے ندرت است

(غلام کی فطرت یہ ہے کہ وہ حاصل کردہ چیز کو ہی حاصل کرتا ہے ، اس کے اندرونی مشاہدات ندرت سے خالی ہے۔)

از گران خیزی مقام او ہمان

نالہ ہای صبح و شام او ہمان

(وہ اپنی تساہل پسندی کے سبب اسی مقام پر رہتا ہے جہاں تھا؛ اس کے صبح و شام کا نالہ و فریاد بھی ایک ہی لے رکھتا ہے۔)

دمبدم نو آفرینی کار حر

نغمہ پیہم تازہ ریزد تار حر

(حر کا کام ہر لحظہ ایک نئی چیز پیدا کرنا ہے؛ اس کے ساز کے تار سے ہمیشہ تازہ نغمے پھوٹتے ہیں۔)

فطرتش زحمت کش تکرار نیست

جادہ ی او حلقہ ی پرگار نیست

(اس کی فطرت تکرار کی خوگر نہیں؛ اس کا راستہ پرکار کا دائرہ نہیں۔)

عبد را ایام زنجیر است و بس

بر لب او حرف تقدیر است و بس

(غلام کے لیے ایام محظ زنجیر (پا) ہیں؛ اس کے لب پر ہمیشہ گلہ ء تقدیر رہتا ہے۔)

ہمت حر با قضا گردد مشیر

حادثات از دست او صورت پذیر

(آزاد کی ہمت تقدیر کی مشیر بن جاتی ہے؛ زمانے کے واقعات اس کے ہاتھ سے صورت اختیار کرتے ہیں۔)

رفتہ و آیندہ در موجود او

دیرہا آسودہ اندر زود او

(اس کا حال ماضی و مستقبل دونوں کا آئینہ ہے؛ اس کے فوری فیصلوں میں دور رس اثرات پائے جاتے ہیں۔)

آمد از صوت و صدا پاک این سخن

در نمی آید بہ ادراک این سخن

(صوت و صدا میری اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی ؛ یہ نکتہ آسانی سے سمجھ نہیں آ سکتا۔)

گفتم و حرفم ز معنی شرمسار

شکوہ ی معنی کہ با حرفم چہ کار

(میں نے بات کہہ تو دی ہے مگر میرے الفاظ معنی سے شرمسا ر ہیں (پوری طرح معنی کو ادا نہیں کر سکے) معنی کو یہ شکایت ہے کہ ان الفاظ سے میرا کیا تعلق۔)

زندہ معنی چون بہ حرف آمد بمرد

از نفس ہای تو نار او فسرد

(زندہ معنی الفاظ میں آئے تو ان کی موت واقع ہو گئی؛ معنی کا یہ شکوہ ہے کہ تیری عبارت میری آگ بجھ گئی ہے۔)

نکتہ ی غیب و حضور اندر دل است

رمز ایام و مرور اندر دل است

(غیب و حضور کا نکتہ اور مرور ایام کی رموز دل ہی میں پنہاں ہے۔)

نغمہ ی خاموش دارد ساز وقت

غوطہ در دل زن کہ بینی راز وقت

(وقت کے ساز کا نغمہ خاموش ہے، اگر تو وقت کا راز جاننا چاہتا ہے تو اپنے دل کے اندر غوطہ لگا۔)

یاد ایامی کہ سیف روزگار

با توانا دستی ما بود یار

(ایک دور تھا جب زمانے کی تلوار ہمارے قوی بازو کی رفیق تھی۔)

تخم دین در کشت دلہا کاشتیم

پردہ از رخسار حق برداشتیم

(ہم نے دلوں کے اندر دین کا بیج بویا ؛ اور حقیقت کو لوگوں پر بے نقاب کر دیا۔)

ناخن ما عقدہ ی دنیا گشاد

بخت این خاک از سجود ما گشاد

(ہمارے ناخن نے دنیا کے مسائل کی گتھیاں سلجھا دیں؛ اس مٹی کی قسمت ہمارے سجدوں سے چمک اٹھی۔)

از خم حق بادہ ی گلگون زدیم

بر کہن میخانہ ہا شبخون زدیم

(ہم خم حق (قرآن پاک ) سے سرخ شراب پیتے رہے؛ اور ہم نے پرانے میخانوں (نظریات) پر شب خون مارے۔)

اے می دیرینہ در مینای تو

شیشہ آب از گرمی صہبای تو

(اے تو (اہل یورپ سے خطاب) جس کی مینا میں پرانی شراب ہے؛ اگرچہ تمہاری شراب کی گرمی سے صراحی پگھل رہی ہے۔)

از غرور و نخوت و کبر و منی

طعنہ بر ناداری ما میزنی

(غرور و نخوّت ، تکبر اور خود رائی کے سبب ہماری ناداری پر طعنہ زن ہے۔)

جام ما ہم زیب محفل بودہ است

سینہ ی ما صاحب دل بودہ است

(ہمارا جام بھی کبھی زیب محفل تھا ؛ کبھی ہمارے سینے کے اندر بھی دل تھا۔)

عصر نو از جلوہ ہا آراستہ

از غبار پای ما برخاستہ

(دور جدید جو اس وقت جلووں سے آراستہ ہے؛ ہمارے سینے کے اندر بھی دل تھا۔)

کشت حق سیراب گشت از خون ما

حق پرستان جہان ممنون ما

(حقیقت کی کھیتی ہمارے خون سے سیراب ہوئی؛ دنیا بھر کے حق پرست ہمارے ممنون رہے۔)

عالم از ما صاحب تکبیر شد

از گل ما کعبہ ہا تعمیر شد

(ہماری وجہ سے دنیا کے اندر تکبیر کی آواز گونجی؛ ہماری مٹی سے کئی کعبے تعمیر ہوئے۔)

حرف اقرأ حق بما تعلیم کرد

رزق خویش از دست ما تقسیم کرد

(حق تعالے نے اقرأ کا لفظ ہمیں سکھلایا ؛ اور اپنی ہدایت کا رزق ہمارے ہاتھوں سے تقسیم کرایا۔)

گرچہ رفت از دست ما تاج و نگین

ما گدایان را بچشم کم مبین

(اگرچہ اس وقت حکومت ہمارے پاس نہیں رہی؛ پھر بھی ہم فقیروں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھ۔)

در نگاہ تو زیان کاریم ما

کہنہ پنداریم ما، خواریم ما

(تیری نگاہ میں ہم کام بگاڑنے والے ہیں؛ ذلیل ہیں مگر اپنے ماضی پر مغرور ہیں۔)

اعتبار از لاالہ داریم ما

ہر دو عالم را نگہ داریم ما

(یاد رکھ کہ ہم لاالہ کی وجہ سے گراں قدر ہیں؛ اور ہم (صرف اس دنیا کو نہیں) بلکہ دونوں جہانوں کو پیش نظر رکھتے ہیں۔)

از غم امروز و فردا رستہ ایم

با کسی عہد محبت بستہ ایم

(ہم حال و مستقبل کے غم سے آزاد ہیں؛ کیونکہ حضور اکرم (صلعم) سے عہد محبت استوار کر رکھا ہے۔)

در دل حق سر مکنونیم ما

وارث موسی و ہارونیم ما

(ہم اللہ تعالے کے دل کا چھپا ہوا راز ہیں ؛ ہم ہی موسی و ہارون (علیہ) کے وارث ہیں۔)

مہر و مہ روشن ز تاب ما ہنوز

برقہا دارد سحاب ما ہنوز

(آج بھی چاند سورج ہماری چمک سے روشن ہیں؛ بھی تک ہمارے (برسے ہوئے) بادل میں بجلیاں موجود ہیں۔)

ذات ما آئینۂ ذات حق است

ہستی مسلم ز آیات حق است

(ہمارا وجود حق تعالے کی ذات کا آئینہ ہے؛ مسلمان کی زندگی اللہ تعالے کی آیات میں سے ایک آیت ہے۔)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: