(Asrar-e-Khudi-19-(دعا) Dua

دعا

اے چو جان اندر وجود عالمی

جان ما باشی و از ما می رمی

آپ کائنات میں بمنزلہ جان ہیں؛ ہماری جان ہوتے ہوئے ہم سے گریز کرتے ہیں۔

نغمہ از فیض تو در عود حیات

موت در راہ تو محسود حیات

ندگی کا ساز آپ کے فیض سے نغمہ زن ہے؛ آپ کی راہ میں جو موت آئے اسی پر زندگی بھی رشک کرتی ہے۔

باز تسکین دل ناشاد شو

باز اندر سینہ ہا آباد شو

ہمارے سینوں میں پھر سے آباد ہو کر ناخوش دلوں کی تسکین کا باعث بنیئے۔

باز از ما خواہ ننگ و نام را

پختہ تر کن عاشقان خام را

ہم سے پھر ننگ و نام کی قربانی طلب کیجئے اور اس طرح ہم جیسے ناپختہ عاشقوں کو پختہ تر بنا دیجئیے ۔

از مقدر شکوہ ہا داریم ما

نرخ تو بالا و ناداریم ما

ہمیں اپنے مقدر سے شکوہ ہے؛ آپ کی قیمت بہت بالا ہے اور ہم مفلس ہیں۔

از تہیدستان رخ زیبا مپوش

عشق سلمان و بلال ارزان فروش

ہم مفلسوں سے اپنا خوبصورت چہرہ نہ چھپائیے ؛ سلمان و بلال (رضی اللہ) کا عشق ہمیں ارزاں فرمائیے۔

چشم بیخواب و دل بیتاب دہ

باز ما را فطرت سیماب دہ

راتوں کو بیدار رہنے والی آنکھ اور بے قرار دل عطا فرمائیے ؛ ہمیں دوبارہ فطرت سیماب عطا فرمائیے۔

آیتے بمنا ز آیات مبین

تا شود اعناق اعدا خاضعین

اپنی روشن آیات میں سے کوئی آیت دیکھائیے تاکہ دشمنوں کی گردنیں جھک جائیں۔

کوہ آتش خیز کن این کاہ را

ز آتش ما سوز غیر اللہ را

اس تنکے کو آتش فشاں پہاڑ بنا دیجئیے ؛ اور ہماری آگ سے غیر اللہ کو جلا دیجئے۔

رشتہ ی وحدت چو قوم از دست داد

صد گرہ بر روی کار ما فتاد

امت مسلمہ نے جب اللہ تعالے سے تعلق توڑ لیا، تو ہمارے کاموں میں سینکڑوں گرہیں پڑ گئیں۔

ما پریشان در جہان چون اختریم

ہمدم و بیگانہ از یکدیگریم

(اس وقت) ہم دنیا میں ستاروں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں؛ ایک دوسرے کے ہمدم بھی ہیں، ایک دوسرے سے بیگانہ بھی۔

باز این اوراق را شیرازہ کن

باز آئین محبت تازہ کن

ان اوراق کی دوبارہ شیرازہ بندی کر دیں ؛ ہمارے اندر باہمی محبت کا دستور از سر نو رائج کر دیں۔

باز ما را بر ہمان خدمت گمار

کار خود با عاشقان خود سپار

ہمیں پھر اسی خدمت (اشاعت اسلام) پر معمور فرمائیے؛ اپنا کام اپنے عاشقوں کے سپرد فرمائیے۔

رہروان را منزل تسلیم بخش

قوت ایمان ابراہیم بخش

راہروان راہ حق کو رضا کی منزل عطا فرمائیے؛ ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ) کے ایمان کی قوّت عطا فرمائیے۔

عشق را از شغل لا آگاہ کن

آشنای رمز الااللہ کن

عشق کو لا کے شغل اور الااللہ کی رمز سے آگاہ فرمائیے۔

منکہ بھر دیگران سوزم چو شمع

بزم خود را گریہ آموزم چو شمع

میں جو شمع کی مانند دوسروں کے لیے جل رہا ہوں ؛ اور اپنی بزم کو گریہ (احساس زیاں) سکھاتا ہوں۔

یارب آن اشکی کہ باشد دلفروز

بیقرار و مضطر و آرام سوز

اے اللہ مجھے وہ آنسو عطا فرمایے جو دل کو روشن، بے قرار، مضطر اور بے چین رکھیں۔

کارمش در باغ و روید آتشے

از قبای لالہ شوید آتشے

میں ان آنسوؤں کو باغ میں بوؤں اور ان سے ایسی آگ پیدا ہو جو قبائے لالہ کو بھی مات کر دے۔

دل بدوش و دیدہ بر فرداستم

در میان انجمن تنہا ستم

میرا دل ماضی میں اٹکا ہوا ہے اور میری آنکھ مشعل پر مرکوز ہے؛ میں انجمن میں ہوتے ہوئے بھی تنہا ہوں۔ [Meyra dil mazi mein attka hoa hai aur meyri aankhh masha’al per markooz hai; mien anjuman mein hotay hoay bhi tunha h’on.]

“ہر کسی از ظن خود شد یار من

از درون من نجست اسرار من”

ہر کوئی اپنے آپ کو میرا دوست گمان کرتا لیکن اب کوئی بھی میرے دل کے رازوں سے واقف نہیں ہوا۔

در جہان یارب ندیم من کجاست

نخل سینایم کلیم من کجاست

اے اللہ اس جہاں میں میرا ہمدم کہاں ہے؛ میں درخت طور ہوں میرا کلیم کہاں ہے۔

ظالمم بر خود ستم ہا کردہ ام

شعلہ ئی را در بغل پروردہ ام

میں ظالم ہوں میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیے ہیں؛ (سب سے بڑا ظلم یہ کیا) کہ اپنی بغل میں خود شعلے کی پرورش کی۔

شعلہ ئی غارت گر سامان ہوش

آتشے افکندہ در دامان ہوش

ایسا شعلہ جو ہوش کے سامان کو غارت کر دیتا ہے؛ اس نے ہوش کے دامن میں آگ لگا دی ہے۔

عقل را دیوانگی آموختہ

علم را سامان ہستی سوختہ

اس نے عقل کو دیوانگی سکھائی ہے اور علم کی ہستی کو فنا کر دیا ہے۔

آفتاب از سوز او گردون مقام

برقہا اندر طواف او مدام

اس کے سوز سے آفتاب آسمان کی بلندی تک پہنچا ہے ؛ اور بجلیاں ہمیشہ میرے اس شعلے کے طواف میں رہتی ہے۔

ہمچو شبنم دیدہ ی گریان شدم

تا امین آتش پنہان شدم

میں شبنم کی مانند سر تا پا دیدہ ء گریاں ہوا تب کہیں جا کر اس آتش پوشیدہ کا امانت دار بنا۔

شمع را سوز عیان آموختم

خود نہان از چشم عالم سوختم

میں نے شمع کو عیانا جلنا سکھایا مگر خود دنیا کی آنکھ سے چھپ کر جلتا رہا۔

شعلہ ہا آخر ز ہر مویم دمید

از رگ اندیشہ ام آتش چکید

یہاں تک کہ میرے ہر بن و مو سے شعلے پھوٹنے لگے؛ اور میرے فکر کی رگ رگ سے آگ ٹپکنے لگی۔

عندلیبم از شرر ہا دانہ چید

نغمہ ی آتش مزاجی آفرید

میرے عندلیب نے آگ کے شراروں کو دانوں کی مانند چن لیا اور ایک آتشیں نغمہ تخلیق کیا۔

سینہ ی عصر من از دل خالی است

می تپد مجنون کہ محمل خالی است

مگر اس دور کے لوگوں کے سینے خالی ہیں؛ مجنوں تڑپ رہا ہے کہ محمل خالی پڑا ہے۔

شمع را تنہا تپیدن سہل نیست

آہ یک پروانہ ی من اہل نیست

شمع کے لیے تنہا جلنا آسان نہیں ؛ افسوس اس بات پر ہے کہ میرے پروانوں میں کوئی ایک بھی (پروانگی کی) اہلیت نہیں رکھتا۔

انتظار غمگساری تا کجا

جستجوے راز دارے تا کجا

میں کب تک غمگسار کا انتظار اور رازدار کی جستجو کرتا رہوں۔

اے ز رویت ماہ و انجم مستنیر

آتش خود را ز جانم باز گیر

آپ کے چہرہ مبارک سے چاند اور ستارے روشنی پاتے ہیں؛ میری جان سے اپنی آگ واپس لے لیں۔

این امانت بازگیر از سینہ ام

خار جوہر برکش از آئینہ ام

میرے سینے سے یہ امانت واپس لے لیجیئے ؛ میرے آئینے سے جوہر کا خار (جو میرے سینے میں کھٹک رہا ہے) نکال دیجئے ۔

یا مرا یک ھمدم دیرینہ دہ

عشق عالم سوز را آئینہ دہ

یا مجھے اسلاف جیسا ایک رفیق عطا ہو؛ جو میرے عشق عالم سوز کے لیے آئینے کا کام دے۔

موج در بحر است ہم پہلوی موج

ہست با ھمدم تپیدن خوی موج

سمندر موج موج کے پہلو میں ہے؛ موج کی فطرت اپنی ساتھی موج کے ساتھ مل کر متلاطم ہونا ہے۔

بر فلک کوکب ندیم کوکبست

ماہ تابان سر بزانوی شب است

آسمان پر ستارہ ستارے کا ساتھی ہے؛ چمکتے ہوئے چاند نے رات کے زانو پر سر رکھا ہوا ہے۔

روز پھلوے شب یلدا زند

خویش را امروز بر فردا زند

دن تاریک رات کے پہلو میں رہتا ہے؛ اور آ ج اپنے آپ کو آنے والے کل سے پیوست رکھتا ہے۔

ہستی جوئی بجوئے گم شود

موجہ ی بادی ببوئے گم شود

ندی کا وجود ندی میں گم ہو جاتا ہے ؛ خوشبو ہوا کی موج سے مل جاتی ہے۔

ہست در ہر گوشہ ی ویرانہ رقص

می کند دیوانہ با دیوانہ رقص

ویرانے کے ہر گوشے میں رقص نظر آتا ہے؛ دیوانہ بھی دیوانے کے ساتھ رقص کر رہا ہے۔

گرچہ تو در ذات خود یکتاستی

عالمی از بھر خویش آراستی

اگرچہ اے اللہ! آپ اپنی ذات میں یکتا ہیں، پھر بھی آپ نے اپنے لیے کائنات کو آراستہ فرمایا ہے۔

من مثال لالہ ی صحراستم

درمیان محفلی تنہاستم

مگر میں لالہء صحرا کی مانند محفل کے اندر بھی تنہا ہوں۔

خواہم از لطف تو یاری ہمدمی

از رموز فطرت من محرمی

میں آپ کے کرم سے ایک ایسے غمگسار دوست کا خواہاں ہوں جو میری فطرت کے رموز کا محرم ہو۔

ھمدمی دیوانہ ئی فرزانہ ئی

از خیال این و آن بیگانہ ئی

ایسا دوست جو دیوانہ بھی ہو اور فرزانہ بھی؛ اور دنیا کے نفع و ضرر سے بلند تر ہو۔

تا بجان او سپارم ہوی خویش

باز بینم در دل او روی خویش

تاکہ میں اپنا جنوں اس کے سپرد کر دوں ؛ اور پھر اس کے دل کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھوں۔

سازم از مشت گل خود پیکرش

ہم صنم او را شوم ہم آزرش

تاکہ میں اپنی خاک سے اس کا پبکر تراشوں؛ میں اس کا بت بھی (ائیڈیل) بناؤں اور آزر (بت تراش) بھی۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: